تھائی لینڈ نے ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو اور یوگنڈا سے آنے والے افراد کے لیے ایبولا کی سخت سکریننگ کے اقدامات نافذ کر دیے ہیں اور اعلان کیا ہے کہ علامات ظاہر نہ ہونے والے مسافروں کو بھی 21 دن کے لازمی قرنطینہ میں رکھا جائے گا۔
یہ اقدامات عالمی ادارہ صحت کی جانب سے 17 مئی کو اس اعلان کے بعد کیے گئے ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ ایبولا کا ’بنڈی بُگیو‘ نامی سٹرین، جس کے لیے ابھی تک کوئی منظور شدہ ویکسین یا علاج موجود نہیں، عالمی سطح پر صحت کے لیے ایک ہنگامی خطرہ ہے۔
اس کے بعد تھائی لینڈ نے کانگو اور یوگنڈا کو ایبولا سے متاثرہ علاقوں کے طور پر درجہ بند کر دیا ہے اور بیماریوں کے کنٹرول کے محکمے کو مشورہ دینے والی ایک تکنیکی کمیٹی نے ان دونوں افریقی ممالک سے آنے والے غیر علامتی افراد کے لیے بھی قرنطینہ کی سفارش کی ہے۔
دی نیشن کی رپورٹ کے مطابق محکمے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر مونٹین کناسوادسے نے کہا کہ کانگو میں پھیلنے والا یہ مرض مزید شدت اختیار کر رہا ہے، جس کے باعث کئی ممالک نے اپنی نگرانی کے نظام کو سخت کر دیا ہے، خاص طور پر زیادہ خطرے والے علاقوں سے آنے والے مسافروں کے لیے۔
عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس ادھانوم گیبرییسس کے مطابق کانگو میں اب تک 900 سے زائد مشتبہ کیسز سامنے آ چکے ہیں جبکہ 101 کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے۔
22 مئی تک تھائی لینڈ میں یوگنڈا سے آٹھ اور کانگو سے دو افراد کی آمد ریکارڈ کی گئی۔ یہ تمام افراد کسی علامت کے بغیر تھے، تاہم احتیاطی تدابیر کے طور پر انہیں 21 دن کے قرنطینہ میں رکھا گیا۔
دوسری جانب کانگو میں ریڈ کراس کے تین رضاکار ایبولا وائرس کا شکار ہو جان سے گئے، غالباً یہ انفیکشن متاثرہ لاشوں کو سنبھالنے کے دوران ہوا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یہ افراد اس وبا کے ابتدائی معلوم متاثرین میں شامل ہیں۔ ان کی شناخت اجیکو چندیرو ویوین، سیزابو کتانابو اور الیکانا اڈوموسی آگسٹین کے ناموں سے ہوئی ہے۔
انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اینڈ ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز کے مطابق یہ رضاکار مارچ میں ایک انسانی ہمدردی مشن کے دوران، جو ایبولا سے متعلق نہیں تھا، لاشوں کے انتظام کے دوران وائرس سے متاثر ہوئے۔ اس وقت وائرس کا یہ نیا پھیلاؤ ابھی تک شناخت نہیں ہوا تھا۔
یہ رضاکار شمال مشرقی کانگو کے ایتوری صوبے میں کام کر رہے تھے اور بالترتیب پانچ، 15 اور 16 مئی کو موت کے منہ میں چلے گئے۔
تنظیم نے کہا: ’یہ رضاکار اپنی کمیونٹیز کی خدمت کرتے ہوئے جرات اور انسانیت کے جذبے کے ساتھ اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔‘
ایبولا سے موت کا شکار ہونے والے متاثرین کی لاشیں بھی انتہائی پھیلاؤ کا باعث بنتی ہیں اور غیر محفوظ تدفین، جہاں اہل خانہ بغیر حفاظتی انتظامات کے لاش کو سنبھالتے ہیں، اس بیماری کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ ہے۔
ریڈ کراس کے مطابق اس کے اہلکار عملی سطح پر اس عمل کو روکنے کے لیے کام کر رہے ہیں اور رضاکار اب گھر گھر جا کر لوگوں کو ایبولا سے متعلق غلط معلومات سے آگاہ کر رہے ہیں تاکہ وبا کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
.png)
1 hour ago
2



English (US) ·