اسلام آباد ہائی کورٹ میں متنازع ٹویٹس کیس کی سماعت کے دوران بدھ کو سپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ ’سپریم کورٹ کی جانب سے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو دیے گئے غیر معمولی ریلیف کے بعد ان کی اپیلیں دوبارہ زندہ ہوگئی ہیں‘، جبکہ وکیل فیصل صدیقی نے اس مؤقف پر سوال اٹھایا کہ ’پہلے کیا اپیل مر گئی تھی؟‘
سپریم کورٹ نے جمعرات کو ایمان مزاری اور ان کے شوہر وکیل ہادی علی چٹھہ کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے دونوں کی سزائیں معطل اور اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ ہونے تک ضمانت پر رہائی کا حکم دیا تھا۔ تاہم اڈیالہ جیل سے رہائی ملتے ہیں انہیں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے رواں برس 24 جنوری کو ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو سوشل میڈیا پوسٹس کے مقدمے میں پیکا ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت مجموعی طور پر 17، 17 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کا آغاز کیا تو دونوں ملزمان کے وکیل فیصل صدیقی نے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کی روشنی میں درخواستیں نمٹانے کی استدعا کی۔
سماعت کے دوران جسٹس اعظم خان نے ایمان مزاری و ہادی علی کے وکیل فیصل صدیقی سے کہا ’اب تو آپ کو ریلیف مل گیا ہے۔‘
جسٹس اعظم خان نے استفسار کیا کہ ’سپریم کورٹ نے کیا لکھا ہے کہ اپیلیں سن لیں؟‘ اس پر وکیل فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ ’نہیں، ایسا کچھ نہیں لکھا۔‘
سماعت میں جسٹس اعظم خان نے وکیل کو سپریم کورٹ کا آرڈر پڑھنے کی ہدایت کی، جب سپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ ’عدالت نے اپنے آرڈر میں تین چیزیں لکھی ہیں۔‘
وکیل فیصل صدیقی نے سپیشل پراسیکیوٹر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا ’آپ رہنے دیں، آپ موجود نہیں تھے، چھٹی پر تھے۔‘
وکیل فیصل صدیقی نے سپریم کورٹ کا آرڈر پڑھا، جس کے بعد سپیشل پراسیکیوٹر نے کہا ’سپریم کورٹ کے غیرمعمولی ریلیف کے بعد تو اپیلیں دوبارہ زندہ ہو گئیں۔‘ جس پر وکیل فیصل صدیقی نے سوال کیا ’پہلے کیا اپیل مر گئی تھی؟‘
بعد ازاں فریقین کے دلائل سننے کے بعد جسٹس اعظم خان نے کہا ’ہم آرڈر کریں گے۔‘
گذشتہ سماعتوں میں کیا ہوتا رہا؟
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازع ٹویٹس کیس میں اسلام آباد کی انسداد الیکٹرانک کرائمز عدالت نے جنوری 2026 میں دونوں کو مجموعی طور پر 17،17 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
عدالت نے دونوں کو پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کی دفعات 9، 10 اور 26 اے کے تحت سزائیں سنائیں تھیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دونوں نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور سزا معطل کرنے کی درخواستیں بھی دائر کیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں ان درخواستوں پر کارروائی جاری رہی، تاہم ستمبر کے آغاز میں این سی سی آئی اے کے پراسیکیوٹر کی عدم دستیابی کے باعث سماعت آگے نہ بڑھ سکی اور عدالت نے مزید سماعت 23 ستمبر تک ملتوی کر دی تھی۔
اس دوران 17 ستمبر کو سپریم کورٹ نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطل کرتے ہوئے انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔
سپریم کورٹ کا حکم اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت مقدمے کے حتمی فیصلے تک موثر رہنا تھا۔
لیکن سپریم کورٹ سے ضمانت ملنے کے چند گھنٹے بعد ہی دونوں کو ایک دوسرے مقدمے میں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا اور انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیج دیا۔ یہ مقدمہ سوشل میڈیا کیس سے الگ ہے۔
<p>12 نومبر 2025 کو ایمان مزاری اسلام آباد میں عدالت کے احاطے میں موجود ہیں (سکرین گریب/ سہیل رشید)</p>
.png)
1 hour ago
1




English (US) ·