امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو کہا ہے کہ ایران کا تنازع امریکہ کے لیے ’معمولی بات‘ (Small Potato) ہے۔
انہوں نے نائب صدر جے ڈی وینس کے اس مؤقف کا بھی دفاع کیا کہ مشرق وسطیٰ میں حالیہ مہینوں میں وقفے وقفے سے ہونے والے حملے کوئی ’جنگ‘ نہیں ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق اوول آفس میں بات چیت کے دوران جب ان سے جے ڈی وینس کے گذشتہ روز دیے گئے بیانات کے بارے میں پوچھا گیا تو ٹرمپ نے کہا کہ ایران پر امریکی حملے اب ’وقفے وقفے‘ سے ہو رہے ہیں اور ’بہت سے لوگ اسے جنگ نہیں کہتے۔‘
اس تنازعے پر امریکی ٹیکس دہندگان کے ساڑھے 37 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ ہو چکے ہیں اور 18 امریکی فوجی اہلکار جان گنوا چکے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا: ’میں سمجھ سکتا ہوں کہ وہ (جے ڈی وینس) کیا کہہ رہے ہیں؟ میں اسے ایک فوجی تنازع کہتا ہوں کیوں کہ یہ ہمارے لیے معمولی بات ہے۔ یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے۔‘
جمعرات کو وائٹ ہاؤس کی پریس بریفنگ کے دوران جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ امریکی لڑائی کو بیان کرنے کے لیے ’جنگ‘ کا لفظ استعمال کرنے کو مسترد کر دیا اور اس پیش گوئی سے گریز کیا کہ چھ ماہ پرانا یہ تنازع نومبر کے وسط مدتی انتخابات تک ختم ہو جائے گا، جن میں رپبلکن ارکان کانگریس میں اپنی معمولی اکثریت برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تین نومبر کے انتخابات میں ووٹروں کے ووٹ ڈالنے سے پہلے یہ لڑائی ختم ہو سکتی ہے، جے ڈی وینس نے کہا: ’میں اسے جنگ نہیں کہوں گا۔ اس وقت کوئی باقاعدہ فائرنگ نہیں ہو رہی۔‘
جے ڈی وینس کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب رواں ہفتے کے اوائل میں ایران پر امریکی حملوں کے جواب میں، ایران نے جمعرات کو خلیج میں امریکہ کے اتحادی ملک کویت پر میزائل حملے کیے۔
جمعے کو صحافیوں سے بات چیت میں ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران تنازعے میں امریکی اموات کی تعداد امریکہ کی بعض دیگر حالیہ جنگوں کے مقابلے میں نسبتاً کم ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو شروع ہونے والی اس ایران جنگ میں صرف فضائی حملے کیے ہیں اور ملک میں فوج تعینات نہیں کی۔
ایرانی جوہری تنصیب کے قریب پہاڑ کو نشانہ بنا سکتے ہیں: ٹرمپ
دوسری جانب روئٹرز کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو صحافیوں کو بتایا کہ امریکہ بہت جلد ایران کے کوہ کلنگ گزلا (پِک ایکس ماؤنٹین) کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
کوہ کلنگ گزلا جو ایران کی شدید نقصان کا شکار ہونے والی نطنز یورینیم افزودگی کی تنصیب کے قریب واقع ہے، ایک انتہائی محفوظ مقام ہے جہاں زیر زمین گہری سرنگوں کے دو کمپلیکس موجود ہیں۔
<p class="rteright">امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چار ستمبر 2026 کو واشنگٹن وائٹ ہاؤس میں ایک صدارتی حکم نامے پر دستخط کرنے سے قبل گفتگو کر رہے ہیں (اے ایف پی)</p>
.png)
1 hour ago
2




English (US) ·