اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری انتونیو گوتریش نے آبنائے ہرمز کے علاقے میں جہاز رانی کے حقوق اور بحری نقل و حرکت کی آزادیوں کو محدود کیے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی قیمت پوری انسانیت ادا کر رہی ہے اور عالمی معشیت کا گلا گھونٹا جا رہا ہے۔
انہوں نے جمعے کو اپنی ایکس پوسٹ میں کہا کہ ’مجھے آبنائے ہرمز کے علاقے میں جہاز رانی کے حقوق اور آزادیوں کو محدود کیے جانے پر سخت تشویش ہے جس سے توانائی، ٹرانسپورٹ، مینوفیکچرنگ اور خوراک کی منڈیاں درہم برہم ہو رہی ہیں اور عالمی معیشت کا گلا گھونٹا جا رہا ہے۔‘
I’m deeply concerned about the curtailment of navigational rights & freedoms in the area of the Strait of Hormuz disrupting energy, transport, manufacturing & food markets & strangling the global economy.
All of humanity is paying the price.
Consider these three scenarios:
1:…
انہوں نے آبنائے ہرمز کی بندش کے پیش نظر تین طرح کی صورت حال کی نشاندہی کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج ہی پابندی ہٹانے کی صورت میں فراہمی کا سلسلہ بحال ہونے میں مہینوں لگیں گے جس سے معاشی پیداوار میں کمی اور قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ طویل ہو جائے گا۔
عالمی معاشی شرح نمو 3.4 فیصد سے کم ہو کر 3.1 فیصد رہ جائے گی۔ عالمی مہنگائی، جس میں کمی آ رہی تھی 3.8 فیصد سے بڑھ کر 4.4 فیصد ہو جائے گی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انتونیو گوتریش کے مطابق اگر تعطل سال کے وسط تک جاری رہے رہا تو شرح نمو کم ہو کر 2.5 فیصد رہ جائے گی۔ مہنگائی 5.4 فیصد تک پہنچ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ تین کروڑ 20 لاکھ افراد غربت میں دھکیل دیے جائیں گے۔ کھاد کی قلت پیدا ہو جائے گی، اور فصلوں کی پیداوار کم ہو جائے گی۔ مزید 4 کروڑ 50 لاکھ افراد کو شدید بھوک کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں انہوں نے مزید لکھا ہے کہ سخت رکاوٹیں رواں سال کے آخر تک جاری رہنے کی صورت میں مہنگائی تیزی سے بڑھ کر چھ فیصد سے تجاوز کر جائے گی۔ شرح نمو گر کر دو فیصد رہ جائے گی۔ خاص طور پر دنیا کی کمزور ترین آبادیوں کو بے پناہ مصائب کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ ’ہمیں عالمی کساد بازاری کے خطرے کا سامنا ہے، جس کے لوگوں، معیشت اور سیاسی و سماجی استحکام پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔‘
.png)
1 month ago
14

English (US) ·