انڈین جنرل کا ملکی دفاعی صنعت پر برہمی اور عدم اعتماد کا اظہار

5 months ago 19

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

انڈین چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل انیل چوہان نے اپنے ملک کی اسلحہ ساز کمپنیوں پر اسلحے کی ہنگامی خریداری کی صورت میں بروقت فراہمی میں ناکامی کا الزام لگایا ہے۔

انڈین دارالحکومت دہلی میں جمعے کو یو ایس آئی کے زیر اہتمام ایک سیمینار سے خطاب میں انہوں نے افسوس کا اظہار کہا کہ بعض صنعتیں اپنی مصنوعات میں مقامی مواد میں اضافہ کر رہی ہیں۔

جنرل انیل چوہان کا کہنا تھا کہ مسلح افواج صنعتکاروں سے ’منافع پر مبنی کوششوں‘ میں ’تھوڑی قوم پرستی اور حب الوطنی‘ کی توقع رکھتی ہیں۔

چیف آف ڈیفنس سٹاف کا مزید کہنا تھا کہ ’دفاعی اصلاحات یک طرفہ راستہ نہیں ہیں۔ (گھریلو) صنعتوں کو ان کی مقامی صلاحیتوں کے بارے میں سچا ہونا پڑے گا۔

’جب آپ کسی معاہدے پر دستخط کرتے ہیں اور اس مخصوص وقت کے فریم میں ڈیلیور نہیں کرتے تو یہ ایک صلاحیت ہے جو ضائع ہو رہی ہے۔‘

#WATCH | Delhi: CDS Gen Anil Chauhan says, "Our expectation from the industry. We expect a bit of nationalism and patriotism in your profit-driven endeavours...Industry will have to be truthful about its capabilities to us. You can't leave us in a lurch. If you sign a contract… pic.twitter.com/s4UNlMC7Ur

— ANI (@ANI) November 14, 2025

سی ڈی ایس نے کہا کہ فوج نے انہیں بتایا کہ ’زیادہ تر‘ انڈین کمپنیوں نے ایمجنسی خریداریوں کے پانویں اور چھٹے فیز کے دوران بڑے عدوے کیے اور طے شدہ ٹائم فریم کے اندر ڈیلیور کرنے میں ناکام رہی۔ 

انہوں نے خبردار کیا کہ ’یہ بالکل ناقابل قبول ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ای پی میکنزم انڈین فوج کو یہ اختیار دیتا ہے کہ 300 کروڑ (انڈین) روپے سے زیادہ کے ٹھیکے کو روٹین کے بجائے صنعتوں سے جلدی مکمل کروائے۔ یہ تبدیلی پاکستان کے ساتھ سرحدی جھڑپوں اور آپریشن سندور کے بعد سامنے آئی ہے۔

اس سے انڈین آرمی، بحریہ اور فضائیہ کو میزائلز اور دوسرا اسلحہ ذخیرہ کرنے میں مدد ملے گی۔

جنرل انیل چوہان نے کہا کہ اکثر کمپنیاں دعویٰ کرتی ہیں کہ ان کا تیار کردہ سامان 70 فیصد مقامی ہے۔

’لیکن اگر آپ دیکھیں تو ایسا ہوتا نہیں ہے۔‘

انہوں نے صنعتکاروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو اس سلسلے مٰں سچ بولنا پڑے گا کیونکہ یہ سکیورٹی کا معاملہ ہے۔

انہوں نے اسلحے اور دوسرے جنگی سامان کی قیمتیں زایدہ ہونے پر بھی تنقید کی۔

Read Entire Article