جسٹس امین الدین خان نے جمعے کو بطور وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس کے حلف اٹھا لیا۔
صدر آصف علی زرداری نے جسٹس امین سے ایوان صدر میں حلف لیا اور اس موقعے پر وزیراعظم شہباز شریف، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس یحیٰی آفریدی اور فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی شریک تھے۔
رواں ہفتے ایوان سے منظور کردہ 27ویں آئینی ترمیم میں وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی منظور دی گئی تھی جس کے بعد جمعرات کو صدر آصف علی زرداری نے وزیراعظم کی ایڈوائس پر جسٹس امین الدین خان کی تقرری کی منظوری دی تھی۔
جسٹس امین الدین خان سپریم کورٹ کے جج تھے اور وہ عدالت عظمٰی کے آئینی بینچ کے سربراہ تھے۔ رواں ماہ کے آخر میں انہیں ریٹائرڈ ہونا تھا تاہم اب وہ 68 برس کی عمر تک اس وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کے منصب پر فائز رہ سکیں گے۔
![]()
جسٹس امین الدین آئینی عدالت کا سربراہ بننے سے قبل سپریم کورٹ کے جج تھے (سپریم کورٹ ویب سائٹ)
جسٹس امین الدین کون ہیں؟
سپریم کورٹ کی ویب سائٹ کے مطابق جسٹس امین الدین خان یکم دسمبر 1960 کو ملتان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1981 میں فلسفے میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی اور 1984 میں ملتان کے یونیورسٹی لا کالج سے ایل ایل بی کی ڈگری مکمل کی اور ٹیکسیشن لا میں ڈپلوما بھی حاصل کیا۔
جسٹس خان نے 1985 میں پاکستان کی ذیلی عدالتوں میں پریکٹس کرنے کا لائسنس حاصل کیا اور 1987 میں لاہور ہائی کورٹ کے وکیل بن گئے۔
2001 میں انہیں سپریم کورٹ کے وکیل کا لائسنس مل گیا۔
وہ 2019 میں سپریم کورٹ میں بطور جج فائز ہوئے تھے۔
.png)
7 months ago
29

English (US) ·