امریکی تجویز پر ایران کا جواب جمعے کو موصول ہونے کی توقع ہے: مارکو روبیو

2 weeks ago 12

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp
  • امریکی تجویز پر ایران کا جواب جمعے کو موصول ہونے کی توقع ہے: مارکو روبیو
  •  
  • امریکی تجویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے: ایرانی وزارت خارجہ
  • پاکستان نے مذاکرات کے دوران ایران سے فوجی تصادم سے گریز کا مشورہ دیا: ٹرمپ
  • جنگ بندی کے بعد اسرائیل کا بیروت پر پہلا حملہ

لائیو اپ ڈیٹس


امریکی تجویز پر ایران کا جواب جمعے کو موصول ہونے کی توقع ہے: مارکو روبیو

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ واشنگٹن کو جمعے کے روز ایران کی جانب سے تنازع ختم کرنے کے لیے امریکی تجاویز پر جواب موصول ہونے کی توقع ہے۔

روم کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو میں مارکو روبیو نے کہا: ’ہمیں آج کسی وقت ان کی جانب سے جواب ملنے کی توقع ہے۔۔۔ مجھے امید ہے کہ یہ ایک سنجیدہ پیشکش ہوگی۔‘

انہوں نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر کنٹرول کی کوششوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا: ’ایران اب دعویٰ کر رہا ہے کہ یہ آبی گزرگاہ اس کی ملکیت ہے اور اسے ایک بین الاقوامی بحری راستے کو کنٹرول کرنے کا حق حاصل ہے۔۔ یہ ایک ناقابل قبول بات ہے جسے وہ معمول بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

مارکو روبیو نے یہ بیان اس رپورٹ کے بعد دیا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت کی منظوری کے لیے ایک ادارہ قائم کر دیا ہے۔


متحدہ عرب امارات پر ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں میں تین افراد زخمی

متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے جمعے کو ایکس پر بتایا کہ اماراتی فضائی دفاع نے ایران سے داغے گئے دو بیلسٹک میزائل اور تین ڈرونز کو نشانہ بنایا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق وزارت کے مطابق اس واقعے میں تین افراد کو درمیانے درجے کے زخم آئے۔

وزارت کے بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات پر کھلے عام حملوں کے آغاز سے، فضائی دفاعی نظام نے مجموعی طور پر 551 بیلسٹک میزائلز، 29 کروز میزائلز، اور 2,263 یو اے ویز کا مقابلہ کیا ہے۔

اس کے نتیجے میں زخمیوں کی کل تعداد 230 تک پہنچ گئی ہے، جس میں متعدد قومیتیں شامل ہیں، جن میں اماراتی، مصری، سوڈانی، ایتھوپیائی، فلپائنی، پاکستانی، ایرانی، بھارتی، بنگلہ دیشی، سری لنکن، آذربائیجانی، یمنی، یوگنڈن، اریٹیرین، لبنانی، افغانی، بحرینی، کومورین، ترک، عراقی، نیپالی، نائجیرین، عمانی، اردنی، فلسطینی، گھانین، انڈونیشیائی، سویڈش، تیونسی، مراکشی، اور روسی شامل ہیں۔

بیان کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں اموات کی کل تعداد تین تک پہنچ گئی ہے، جن میں ایک سویلین مراکشی شہریت کا حامل ہے جو مسلح افواج کے ساتھ معاہدے کے تحت کام کر رہا تھا، جبکہ سویلین اموات کی کل تعداد 10 ہے جو درج ذیل قومیتوں سے تعلق رکھتے ہیں: پاکستانی، نیپالی، بنگلہ دیشی، فلسطینی، بھارتی، اور مصری۔

وزارتِ دفاع نے تصدیق کی کہ وہ کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار اور مستعد ہے اور ہر اس چیز کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گی جو ملک کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھتی ہو، اس انداز میں کہ اس کی خودمختاری، سلامتی اور استحکام کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور اس کے مفادات اور قومی صلاحیتوں کی حفاظت کی جائے۔


چین کی جانب سے آبنائے ہرمز میں چینی آئل ٹینکر پر حملے کی تصدیق

چین کی وزارت خارجہ نے جمعے کو تصدیق کی ہے کہ آبنائے ہرمز میں پٹرولیم مصنوعات لے جانے والے ایک ٹینکر پر حملہ کیا گیا ہے جس پر چینی عملہ سوار تھا۔ 

روئٹرز کے مطابق چین نے مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع سے متاثر ہونے والے بحری جہازوں کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان لِن جیان نے معمول کی ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ جہاز پر چینی شہری سوار ہیں، تاہم اب تک عملے کے کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔

چین کے خبر رساں ادارے کیکسن نے جمعرات کو رپورٹ کیا تھا کہ پیر کو آبنائے ہرمز کے قریب چین کی ملکیت والے پٹرولیم مصنوعات کے ایک ٹینکر پر حملہ کیا گیا۔


پاکستان نے مذاکرات کے دوران ایران سے فوجی تصادم سے گریز کا مشورہ دیا: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا ہے کہ ’پاکستان نے امریکا سے درخواست کی تھی کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات کے دوران ایران کے خلاف کوئی فوجی کارروائی نہ کی جائے۔‘

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ بیان آبنائے ہرمز میں دونوں جانب سے فائرنگ کے تبادلے کے بعد سامنے آیا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’جیسا کہ آپ جانتے ہیں، پاکستان شاندار رہا ہے۔ اور اُن کے فیلڈ مارشل اور وزیرِاعظم کی قیادت بھی شاندار رہی۔ اُنہوں نے ہم سے کہا کہ ہم یہ کارروائی نہ کریں۔ اگر ضرورت پڑی تو ہم دوبارہ اس طرف جائیں گے۔ اُنہوں نے مذاکرات کے دوران ہم سے یہ نہ کرنے کی درخواست کی تھی۔‘

ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی اب بھی برقرار ہے، حالانکہ ایران نے تین امریکی ڈسٹرائرز پر حملہ کیا تھا۔

امریکی فوج کے مطابق اس نے جواب میں ایرانی فوجی اہداف پر حملے کیے، جبکہ تہران کا مؤقف ہے کہ فائرنگ کے تبادلے کا آغاز واشنگٹن کی جانب سے کیا گیا۔

تازہ کشیدگی نے اس نازک جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا ہے جو آٹھ اپریل سے نافذ العمل ہے۔ اس جنگ بندی کے نتیجے میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے کئی ہفتوں بعد ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی کا خاتمہ ہوا تھا۔

 ایران نے اس دوران مشرق وسطیٰ میں مختلف مقامات پر جوابی حملے کیے تھے اور عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے اہم سمجھی جانے والی آبنائے ہرمز کو بھی بند کر دیا تھا۔

PM Shehbaz, Asim Munir, Donald Trump

وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر  26 ستمبر 2025 کو وائٹ ہاؤس واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد موجود ہیں (پی ایم ہاؤس)


جنگ بندی برقرار، ایران سے مذاکرات جاری: ڈونلڈ ٹرمپ

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ جنگ بندی برقرار ہے اور ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جمعرات کو واشنگٹن میں صحافیوں کے ساتھ بات چیت کے دوران جب یہ پوچھا گیا کہ کیا ایران کے ساتھ جنگ بندی اب بھی برقرار ہے؟ تو ٹرمپ نے کہا: ’ہاں وہ برقرار ہے۔ آج انھوں نے ہمارے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی۔ ہم نے انھیں اڑا کر رکھ دیا۔ انھوں نے چھیڑ چھاڑ کی تھی۔ میں اسے ایک معمولی بات کہتا ہوں۔‘ 

امریکی صدر کا اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں کہنا تھا کہ گولہ باری کے باوجود، تین عالمی معیار کے امریکی ڈسٹرائرز انتہائی کامیابی کے ساتھ آبنائے ہرمز سے ابھی باہر نکلے ہیں۔ ان تینوں ڈسٹرائرز کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، لیکن ایرانی حملہ آوروں کو بھاری نقصان پہنچا۔

انہوں نے کہا کہ ’وہ بہت سی چھوٹی کشتیوں سمیت مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ ان کشتیوں کو ایران کی مکمل طور پر مفلوج بحریہ کی جگہ استعمال کیا جا رہا ہے۔‘

ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق امریکی فوج نے کہا کہ اس نے جمعرات کو آبنائے ہرمز میں بحریہ کے تین جہازوں پر ایرانی حملوں کو ناکام بنایا اور ’امریکی افواج پر حملے کی ذمہ دار ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔‘ جس سے دونوں ممالک کے درمیان ایک ماہ پرانی جنگ بندی کی نزاکت عیاں ہوتی ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ امریکی افواج نے ’بلااشتعال ایرانی حملوں‘ کو روکا اور اپنے دفاع میں جوابی کارروائی کی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکی فوج نے کہا کہ کوئی جہاز نشانہ نہیں بنا۔ اس نے مزید کہا کہ وہ کشیدگی بڑھانا نہیں چاہتی لیکن ’امریکی افواج کے تحفظ کے لیے اپنی پوزیشن پر برقرار اور تیار ہے۔‘

اس دوران ایران کے سرکاری میڈیا نے بتایا کہ ملک کی مسلح افواج نے آبنائے میں واقع جزیرہ قشم پر ’دشمن‘ کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ کیا۔ خلیج فارس میں واقع یہ ایران کا سب سے بڑا جزیرہ ہے، جہاں تقریباً ایک لاکھ 50 ہزار افراد آباد ہیں۔ یہاں سمندری پانی کو میٹھا بنانے کا پلانٹ بھی موجود ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا نے مغربی تہران میں بھی زور دار آوازیں سنائی دینے اور دفاعی فائرنگ کی اطلاع دی۔ ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسیوں فارس اور تسنیم کے مطابق، جنوبی ایران میں بندر عباس کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ رپورٹس میں ان دھماکوں کی وجہ کی نشاندہی نہیں کی گئی۔


پاکستانی اور ایرانی ملاحوں کی واپسی کے لیے سنگاپور کے وزیرخارجہ سے بات کی ہے: اسحاق ڈار

پاکستانی وزیر خارجہ اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا نے جمعے کو کہا ہے کہ انہوں نے پاکستانی اور ایرانی ملاحوں کی واپسی کے لیے سنگاپور کے وزیرخارجہ سے بات کی ہے۔

اپنی ایکس پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ ’میں نے سنگاپور کے وزیرِ خارجہ ویویَن بالاکرشِنان سے بات کی اور سنگاپور کی مدد طلب کی تاکہ 11 پاکستانی اور 20 ایرانی سمندری کارکنوں کی فلاح و بہبود اور واپسی کو ممکن بنایا جا سکے، جو امریکی حکام کی جانب سے ضبط شدہ جہازوں پر ہیں اور اس وقت سنگاپور کی حدود کے قریب موجود ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اسی معاملے پر میں نے ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے بھی گفتگو کی، اور ہم اس معاملے پر قریبی رابطے میں ہیں۔ پاکستان اس بات کے لیے بھی تیار ہے کہ ایرانی شہریوں کی محفوظ واپسی کو پاکستان کے راستے ایران تک سہولت فراہم کرے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’ہم سنگاپور کی جانب سے کیے جانے والے تعاون اور حمایت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ پاکستان، اپنے وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں کے ذریعے، امریکی حکام اور دیگر فریقوں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے تاکہ اپنے شہریوں کی حفاظت، فلاح و بہبود اور جلد از جلد واپسی کو یقینی بنایا جا سکے۔‘


فضائی دفاعی نظام ایران سے آنے والے میزائل خطرات کا مقابلہ کر رہا ہے: یو اے ای

متحدہ عرب امارات نے جمعے کی صبح کہا کہ اس کا فضائی دفاعی نظام ایران کی جانب سے آنے والے میزائل اور ڈرون خطرات کا مقابلہ کر رہا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے کہا ہے کہ یہ صورت حال امریکہ اور ایران کے درمیان ایک ماہ سے جاری غیر مستحکم جنگ بندی کے لیے ایک اور بڑا امتحان سمجھی جا رہی ہے۔

حملے کی فوری تفصیلات سامنے نہیں آئیں، تاہم یہ واقعہ ایک دن بعد پیش آیا جب امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کے قریب فائرنگ اور گولہ باری کا تبادلہ ہوا تھا۔ 

امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملے کیے تھے جس کے بعد تہران نے نہ اسرائیل پر میزائل داغے بلکہ پڑوسی ممالک کو بھی میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانا شروع کر دیا۔

پاکستان اور دیگر ممالک کی کوششوں سے آٹھ اپریل سے دو ہفتوں کی جنگ بندی پر آغاز ہوا تھا جس میں بعد میں توسیع کر دی گئی۔

Read Entire Article