حج کے دوران بہت سے سعودی رضاکاروں کے لیے خدمت صرف انتظام، ہجوم کو سنبھالنے یا حجاج کی رہنمائی تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ یہ خوف کو سکون میں بدلتے دیکھنے، پریشانی کو اطمینان میں بدلتے محسوس کرنے اور اجنبیوں کو ایسے لوگوں میں بدلتے دیکھنے کا نام ہے جن سے حج کے بعد بھی تعلق قائم رہ سکتا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق مکہ، منیٰ اور دیگر مقدس مقامات پر رضاکار صحت، رہنمائی، مہمان نوازی اور ہنگامی امداد جیسے شعبوں میں خدمات انجام دیتے ہیں۔ وہ گھنٹوں بزرگ حجاج کی مدد کرتے ہیں، گمشدہ افراد کو راستہ دکھاتے ہیں، اور دنیا بھر سے آنے والے لوگوں کے ساتھ زبان کی رکاوٹوں کے باوجود رابطہ قائم کرتے ہیں۔
ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے حج پر رضاکارانہ خدمات انجام دینے والے عبداللہ علی کہتے ہیں کہ حجاج کی خدمت ان کی شخصیت کا حصہ بن چکی ہے۔ وہ گمشدہ حجاج کی رہنمائی کرتے ہیں اور استقبال و مہمان نوازی کے پروگراموں میں حصہ لیتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’آپ سب سے پہلے حاجیوں کو اس وقت دیکھتے ہیں جب وہ گم جاتے ہیں اور خوفزدہ ہوتے ہیں۔ ان میں سے اکثر بزرگ ہوتے ہیں، اور ان کے چہروں پر خوف صاف نظر آتا ہے۔ کچھ خود کو بالکل تنہا اور بے بس محسوس کرتے ہیں۔‘
عبداللہ علی بتاتے ہیں کہ جیسے ہی ان حاجیوں کو ان کے گروپ سے ملا دیا جاتا ہے یا محفوظ طریقے سے ان کے ہوٹل پہنچا دیا جاتا ہے، ان کے تاثرات فوراً بدل جاتے ہیں۔
’ان کے چہرے کھل اٹھتے ہیں، مسکراہٹ واپس آ جاتی ہے، اور پھر وہ آپ کو دل سے دعائیں دیتے ہیں۔‘
عبداللہ علی کے مطابق یہ لمحات رضاکاروں کے لیے سب سے زیادہ جذباتی ہوتے ہیں۔
’وہ دعائیں، خاص طور پر آنسوؤں کے ساتھ، بہت کافی ہوتی ہیں۔ یہ ایک ایسا احساس ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ جب آپ کسی کو خوفزدہ دیکھیں اور پھر آپ کی مدد سے اسے سکون مل جائے، یا آپ کسی کی مشکل آسان کرنے کا سبب بن جائیں، تو جو خوشی محسوس ہوتی ہے اسے بیان کرنا آسان نہیں۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بیرونِ ملک سے آنے والے زائرین کے ساتھ رابطہ رضاکاروں کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہوتا ہے، کیونکہ حجاج مختلف زبانیں بولتے ہیں اور الگ الگ ثقافتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
عبداللہ علی کے مطابق جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت پر مبنی ترجمہ کرنے والے آلات نے حالیہ برسوں میں زبان کی رکاوٹ کافی حد تک کم کر دی ہے۔ لیکن ان کے نزدیک حج میں رضاکارانہ خدمت انسان کو لفظوں سے زیادہ جذبات کے ذریعے دوسروں سے جڑنا سکھاتی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’سب سے پہلی زبان جو ہر انسان سمجھتا ہے، وہ مسکراہٹ کی زبان ہے۔ ایک مسکراہٹ حاجی کو سکون اور اعتماد دیتی ہے۔ یہ اسے بتاتی ہے کہ فکر نہ کرو۔‘
ایک اور سعودی رضاکار محمد نجار، جو تقریباً دو سال سے حجاج کی خدمت کر رہے ہیں، کہتے ہیں کہ اس تجربے نے ان کی انسانوں اور تعلقات کے بارے میں سوچ بدل دی ہے۔
انہوں نے عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’مجھے لگتا ہے کہ میں حاجیوں سے خود بھی بہت کچھ سیکھتا ہوں۔ میں نے مختلف لوگوں سے، مختلف ثقافتوں سے، ان کے سوچنے، بولنے اور بات چیت کرنے کے انداز سے بہت کچھ سیکھا ہے۔‘
گذشتہ حج کے دوران محمد نجار اور ان کے ساتھی خاص طور پر ان حاجیوں کی مدد کر رہے تھے جنہیں زیادہ پیدل چلنے اور شدید گرمی کے باعث ذیابیطس کے سبب پاؤں میں زخم ہو گئے تھے۔
انہوں نے بتایا: ’ہم ایسے حاجیوں کو تلاش کرتے تھے جنہیں پاؤں کے مسائل ہوتے، اور انہیں خصوصی طبی موزے اور نرم حفاظتی سامان فراہم کرتے تھے تاکہ وہ اپنا حج جاری رکھ سکیں۔‘
انہوں نے ایک پاکستانی حاجی کا واقعہ بھی یاد کیا جس کے پاؤں میں شدید زخم تھا۔
’ہم نے فوری طور پر طبی عملے سے رابطہ کیا اور انہیں ہسپتال لے گئے۔ علاج کے بعد میں اگلے دن خود ان کی خیریت پوچھنے گیا، کیونکہ میں چاہتا تھا کہ وہ محسوس کریں جیسے ان کے اپنے گھر کا کوئی فرد ان کے ساتھ ہے۔‘
محمد نجار کہتے ہیں کہ حج میں رضاکارانہ خدمت صرف کام مکمل کرنے کا نام نہیں۔
’کبھی کبھی میں حاجیوں کے اپنے ملک واپس جانے کے بعد بھی ان سے رابطہ کرتا ہوں، صرف ان کی خیریت پوچھنے کے لیے۔ بہت سے لوگ حیران ہوتے ہیں کہ کوئی انہیں یاد بھی رکھتا ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ حج میں رضاکارانہ خدمت جسمانی طور پر تھکا دینے والی ہوتی ہے، مگر جذباتی طور پر بے حد تسکین بخش بھی ہے۔
’میں جتنا اس خدمت کے قریب آتا ہوں، اللہ مجھے اتنی ہی زیادہ توانائی دیتا ہے۔‘
.png)
1 hour ago
2



English (US) ·