Want Your Business Featured Here?
Get instant exposure to our readers
Chat on WhatsApp
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے کراچی کے مینڈیٹ پر قبضہ کرکے صرف جماعت اسلامی کا نہیں بلکہ کراچی کے ساڑھے تین کروڑ عوام کا حق مارا ہے، اسٹیبشلمنٹ نے شہر پر ایسے لوگوں کو مسلط کیا جو کرپشن اور لوٹ مار کے سوا کچھ نہیں جانتے۔
یہ بات انہوں نے ٹی ایم سی ماڈل کالونی کے تحت رفاہ عام چوک، ملیر ہالٹ میں ماڈل محلہ اور سڑکوں کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب سے امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان، امیر جماعت اسلامی ضلع ایئرپورٹ محمد اشرف، رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق، ٹاؤن چیئرمین ماڈل کالونی ظفر احمد نے بھی خطاب کیا۔
حافظ نعیم نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کی جانب سے فنڈز کی عدم فراہمی کے باوجود جماعت اسلامی کے ٹاؤنز نے اپنی مدد آپ کے تحت ترقیاتی کاموں کے راستے نکالے ہیں، گلیوں کی تعمیر، پارکوں کی بحالی، سڑکوں کی صفائی اور کچرا کنڈیوں کی بہتری کے کام کیے جا رہے ہیں، بلدیاتی انتخابات کے دوران جب ہم ان علاقوں میں آئے تھے تو ہر طرف مٹی، ٹوٹے راستے اور گڑھے نظر آتے تھے، لیکن آج یہاں پیور بلاکس لگائے جا رہے ہیں، صفائی ستھرائی کا نظام بہتر بنایا گیا ہے اور عوامی سہولیات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی پورے پاکستان کی معیشت چلاتا ہے، ٹیکسوں و ریونیو کے اعتبار سے ملکی معیشت میں اس کا تقریباً نصف حصہ ہے لیکن افسوس کہ سیاسی جماعتوں اور انہیں عوام پر مسلط کرنے والوں نے اس شہر کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ کراچی کے عوام چاہتے تھے کہ جماعت اسلامی کا میئر ہو کیونکہ انہیں یقین تھا کہ جماعت اسلامی اختیارات نہ ہونے کے باوجود شہر کی حالت بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کرے گی۔
حافظ نعیم نے کہا کہ جماعت اسلامی نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ شہر کو اختیارات دلانے کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے، لیکن اختیارات نہ ملنے کی صورت میں بھی ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھیں گے بلکہ اپنے اختیارات سے بڑھ کر کام کریں گے۔ آج کراچی کے جن علاقوں میں جماعت اسلامی کے ٹاؤنز اور یوسیز ہیں، وہاں ترقیاتی کام جاری ہیں۔ جب شہریوں کے چہروں پر خوشی دیکھتے ہیں تو ہمارا دل بھی خوش ہوتا ہے۔ بچوں، نوجوانوں، بزرگوں اور خواتین کو اپنے محلے میں پارک، صاف ستھرے راستے اور بہتر ماحول کی فراہمی ان کی بنیادی خوشیوں میں شامل ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی کے ٹاؤنز میں نامساعد حالات کے باوجود ترقیاتی کام کیے جا رہے ہیں، کراچی کے سرکاری اسکولوں کی حالت بہتر بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔ ہمارے 9ٹاؤنز میں تقریباً ڈیڑھ سو اسکول ہیں، جن میں سے 73 اسکولوں کی تعمیر و مرمت اور تزئین و آرائش کرکے انہیں بہتر بنایا گیا ہے۔ حال ہی میں ناظم آباد کے ایک اسکول کا افتتاح کیا گیا، جس کی عمارت مخدوش ہو چکی تھی اور بچے درختوں کے نیچے بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور تھے۔ اب اس اسکول میں بچوں کے داخلے ہوئے ہیں، انہیں یونیفارم فراہم کیے گئے ہیں، لیبارٹری اور کمپیوٹر لیب قائم کی گئی ہے اور اسے ایک معیاری تعلیمی ادارے کی صورت دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی میں ساڑھے تین ہزار کے قریب سرکاری اسکول ہیں۔ اگر حکومت یہ اسکول ٹاؤنز کے حوالے کر دے اور انہیں مناسب وسائل فراہم کیے جائیں تو تعلیمی صورت حال بہتر بنائی جا سکتی ہے۔ سرکاری اسکولوں کی تباہی کی بڑی وجہ حکومتی عدم توجہی اور بدانتظامی ہے۔ سندھ میں تعلیم کا بجٹ 601 ارب روپے ہے، صوبے میں تقریباً 41 ہزار اسکول اور ہزاروں کالجز و یونیورسٹیاں موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود تعلیمی نظام کی حالت انتہائی خراب ہے۔ گھوٹکی کے ایک اسکول میں 23 بچوں کے لیے 49 اساتذہ تعینات ہیں، جبکہ ہزاروں اسکول ایسے ہیں جہاں اساتذہ تعینات ہونے کے باوجود حاضر نہیں ہوتے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی حکومت اور اقتدار میں نہ ہونے کے باوجود عوام کے حقوق کے لیے آواز بھی اٹھاتی ہے اور اپنے حصے کا عملی کام بھی کرتی ہے۔ اسی مقصد کے تحت نوجوانوں کے لیے بنو قابل پروگرام شروع کیا گیا ہے، جس کے ذریعے نوجوانوں کو مفت آئی ٹی کورسز کروائے جا رہے ہیں۔ مارکیٹ میں جن کورسز کے لیے مختلف ادارے 50 سے 70 ہزار روپے یا اس سے بھی زیادہ فیس وصول کرتے ہیں، جماعت اسلامی وہ کورسز سو فیصد مفت فراہم کر رہی ہے۔ بنو قابل پروگرام میں نوجوان لڑکے، لڑکیاں اور گھریلو خواتین بھی تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ خواتین ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور ای کامرس سمیت مختلف جدید ہنر سیکھ کر اپنے روزگار اور کاروبار کے مواقع پیدا کر رہی ہیں۔ یہ پروگرام کراچی سے شروع کیا گیا تھا، تاہم اب اس کا دائرہ پورے پاکستان تک بڑھا دیا گیا ہے اور اب تک 16 لاکھ نوجوانوں، لڑکوں، لڑکیوں اور گھریلو خواتین کی رجسٹریشن ہو چکی ہے۔