فلسطینی قیدیوں کے لیے آواز اٹھانے والی ایک انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق اسرائیلی جیلوں میں قید تقریباً 80 فیصد فلسطینیوں کو کسی نہ کسی مرحلے پر سکیبیز (خارش کی بیماری) لاحق ہوئی، جس کی بڑی وجوہات صفائی کی مناسب سہولتوں کی عدم دستیابی اور جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کی موجودگی ہیں۔
’فلسطینین پریزنرز سوسائٹی‘ کی قانونی ٹیم نے اکتوبر اور نومبر کے اوائل میں اسرائیلی جیلوں کے دوروں کے دوران قیدیوں کے بیانات جمع کیے، جن سے معلوم ہوا کہ اسرائیلی حکام کی جانب سے ناکافی طبی سہولتوں کے باعث خارش کی بیماری مسلسل پھیل رہی ہے۔
سوسائٹی کا کہنا ہے کہ ہزاروں قیدیوں کو کپڑوں کی شدید قلت کا سامنا ہے، جو جلد کی اس بیماری کے پھیلاؤ کی اہم وجوہات میں سے ایک ہے۔
قیدیوں کو اسرائیلی جیل سروس سے وابستہ مسلح اہلکاروں کی جانب سے ہر ہفتے ان کی بیرکوں اور سیلوں پر چھاپوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کارروائیوں میں پولیس کے کتے بھی اہلکاروں کے ہمراہ ہوتے ہیں۔ بعض قیدی ربڑ کی تہہ چڑھی گولیوں سے زخمی بھی ہوئے ہیں۔
قیدیوں اور سابق قیدیوں کے امور سے متعلق کمیشن نے اتوار کو بتایا کہ اسرائیلی جیل عوفر میں قید کمال فاید حسنی، امیر داغرا اور آدم ابو عبید کی صحت بگڑ رہی ہے۔
تینوں قیدی خارش کی بیماری کے مختلف مراحل سے گزر رہے ہیں۔
فلسطینی قیدیوں کی سوسائٹی کے مطابق اس وقت اسرائیلی جیلوں میں نو ہزار 300 فلسطینی قید ہیں۔ ان میں 118 عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں جن میں 90 خواتین اور 350 بچے بھی شامل ہیں جبکہ تین ہزار 101 افراد انتظامی حراست میں ہیں۔
اسرائیلی حکام نے 2023 کے اواخر سے اب تک مقبوضہ مغربی کنارے اور مقبوضہ مشرقی بیت المقدس سے 26 ہزار افراد کو حراست میں لیا ہے۔ ان میں 800 خواتین اور دو ہزار سے زیادہ بچے بھی شامل ہیں، جن میں سے بیشتر کو بعد ازاں رہا کر دیا گیا۔
<p>اسرائیلی فوجی 31 اکتوبر 2024 کو فوجی کارروائی کے دوران آنکھوں پر پٹی باندھے فلسطینی زیر حراست افراد کو جیل منتقل کر رہے ہیں (اے ایف پی)</p>
.png)
2 hours ago
2




English (US) ·