اسرائیل 1967 کی سرحدی بنیادوں پر فلسطین کو تسلیم کرے تو سکیورٹی بلاک کا حصہ بن سکتا ہے: ترک وزیر خارجہ

2 hours ago 1

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

ترکی کے وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ اسرائیل 1967 کی سرحدی بنیادوں پر فلسطین کو تسلیم کرے تو سکیورٹی بلاک کا حصہ بن سکتا ہے۔

اس سے قبل پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے جمعے کو روز ابراہم اکارڈ میں شامل ہونے کے امکان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسلام آباد کی خارجہ پالیسی میں اس وقت تک کوئی تبدیلی نہیں آئے گی جب تک 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم نہیں ہو جاتی۔

ہاکان فیدان کے مجوزہ بلاک میں پاکستان، ترکی، سعودی عرب، مصر اور خلیجی ممالک بنیادی کردار ادا کریں گے، جبکہ مستقبل میں اس دائرہ کار کو مزید وسعت بھی دی جا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’جب حالات معمول پر آ جائیں تو شاید ایران بھی اس کا حصہ بن سکتا ہے۔‘

انہوں نے پاکستان سے خلیج فارس تک پھیلے ایک علاقائی سکیورٹی ڈھانچے کا تصور پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل بھی مستقبل میں اس کا حصہ بن سکتا ہے، بشرطیکہ وہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے۔

نکئی ایشیا کو انقرہ میں دیے گئے ایک انٹرویو میں ہاکان فیدان نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے پاس باہمی تعاون اور ایک دوسرے کو تسلیم کرنے پر مبنی علاقائی نظام قائم کرنے کا ’سنہری موقع‘ موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’خطے کے تمام ممالک کو ایک دوسرے کی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور سلامتی کا احترام اور تحفظ یقینی بنانے کا عہد کرنا چاہیے۔‘

یہ بیانات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مبینہ طور پر مئی کے آخر میں مشرقِ وسطیٰ کے رہنماؤں کے ساتھ ایک کال کے دوران کی جانے والی اس کوشش کے جواب میں سامنے آئے، جس میں انہوں نے ترکی پر زور دیا تھا کہ وہ ابراہم اکارڈ میں شامل ہو جائے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ غزہ پر اسرائیلی جارحیت سے پہلے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت 10 ارب ڈالر تک پہنچ چکی تھی، جسے اب روک دیا گیا ہے۔

فیدان نے کہا، ’ہم نے تجارت روکتے وقت یہ بالکل واضح کر دیا تھا کہ اسرائیل کو فلسطینیوں کا قتل عام بند کرنا ہوگا، اور غزہ کے لوگوں کو بنیادی انسانی ضروریات جیسے کہ خوراک، پناہ گاہ، ادویات اور پانی تک رسائی حاصل کرنے سے روکنا بند کرنا ہو گا۔‘

انہوں نے مزید کہا، ’اگر یہ شرائط پوری ہو جاتی ہیں، تو ہم معمول کی زندگی کی طرف واپس لوٹ سکتے ہیں، کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ہم دو ریاستی حل حاصل کرنا چاہتے ہیں۔‘

ترکی کو ایک ممکنہ سٹریٹجک دشمن کے طور پر پیش کرنے والے اسرائیلی سیاست دانوں کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے فیدان نے کہا: ’بدقسمتی سے، اسرائیل کی اندرونی سیاست میں انہیں اپنے علاقائی عزائم کو پورا کرنے کے لیے ہر وقت ایک دشمن کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن ہر کوئی جانتا ہے کہ اسرائیل اپنی سکیورٹی کے پیچھے نہیں بلکہ مزید زمین حاصل کرنے کے پیچھے ہے،‘ انہوں نے غزہ، مغربی کنارے، شام اور لبنان میں اسرائیلی فوجی موجودگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا۔

ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ ’اسرائیل کو نہ صرف علاقائی نظام بلکہ عالمی نظام کو بھی مزید غیر مستحکم کرنے سے روکے۔‘

Read Entire Article