مشرق وسطیٰ میں جنگ اور آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی بحری تجارت میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں سے پاکستان کی جغرافیائی اہمیت اچانک بڑھ گئی ہے۔
کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم پر بحری جہازوں اور کارگو کی آمد میں اضافہ ہوا ہے جب کہ پاکستان کی قومی شپنگ کمپنی سمیت بحری شعبے کے مختلف اداروں کو بھی غیر معمولی کاروباری مواقع میسر آئے ہیں۔
اس تبدیلی کا سب سے نمایاں ثبوت کراچی پورٹ کی کارکردگی ہے۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ کے اعدادوشمار کے مطابق مالی سال 2024-25 میں بندرگاہ نے 53.95 ملین ٹن کارگو ہینڈل کیا، جبکہ کنٹینرز کی تعداد 26 لاکھ 51 ہزار ٹی ای یوز تک پہنچ گئی۔
مارچ 2025 سے مارچ 2026 کے دوران جاری کردہ کارکردگی رپورٹ میں 59.46 ملین ٹن کارگو، 29 لاکھ 45 ہزار ٹی ای یوز اور 2,182 بحری جہازوں کی آمد ریکارڈ کی گئی۔ یہ اعدادوشمار پاکستان کی بندرگاہوں میں بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔
اس بحران سے فائدہ اٹھانے والی ایک اہم قومی کمپنی پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن ہے۔ مالی سال 2025-26 میں اس کی مجموعی آمدنی 59.5 ارب روپے رہی، جو گزشتہ مالی سال کے 37.6 ارب روپے کے مقابلے میں تقریباً 58 فیصد زیادہ ہے۔
شپنگ کے بنیادی کاروبار سے آمدنی 33.7 ارب روپے سے بڑھ کر 50.6 ارب روپے ہوگئی، جبکہ مجموعی منافع 11.2 ارب روپے سے بڑھ کر 21.5 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ تاہم کمپنی کا خالص منافع تقریباً 5 فیصد اضافے کے ساتھ 21.55 ارب روپے رہا۔
نہ صرف بندرگاہوں کے منافع میں اضافہ ہوا ہے بلکہ مزدوروں کو بھی مستقل روزگار مل گیا ہے۔ جن مزدوروں کو بمشکل دس سے گیارہ دن کام ملتا تھا اب وہ پورے تیس دن کام کر رہے ہیں یعنی تنخواہیں تین گنا بڑھ گئی ہیں اور نئے افرادی قوت بھی بھرتی کی جا رہی ہے۔
تاہم اس پوری صورت حال کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ موجودہ کاروباری سرگرمیوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ جنگ اور علاقائی عدم استحکام ہے۔ عالمی شپنگ کمپنیاں کسی ملک کی بندرگاہ کو صرف جغرافیائی قربت کی بنیاد پر مستقل ترجیح نہیں دیتیں بلکہ ان کے فیصلوں میں لاگت، وقت، سکیورٹی، کسٹمز کلیئرنس، جدید ٹیکنالوجی اور زمینی رابطوں کی اہمیت بھی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
پاکستان نے کراچی پورٹ پر رعایتوں کے ذریعے کاروبار حاصل کرنے کی کوشش تو کی ہے، لیکن مستقل بنیادوں پر عالمی شپنگ کمپنیوں کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے صرف رعایت کافی نہیں ہوگی۔ بندرگاہوں پر جدید مشینری، بڑے جہازوں کو سنبھالنے کی صلاحیت، کنٹینرز کی تیز رفتار منتقلی، گوداموں اور ریلوے رابطوں کو بہتر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اگر جہاز پاکستان پہنچ جائیں لیکن ان کا سامان بروقت اپنی منزل تک منتقل نہ ہو سکے تو عالمی تجارتی کمپنیاں دوبارہ متبادل بندرگاہوں کا انتخاب کر سکتی ہیں۔
اس حوالے سے سرمایہ کاری کے امکانات بھی قابلِ توجہ ہیں۔ وزارتِ بحری امور کے مطابق پاکستان کو میری ٹائم منصوبوں کے لیے چھ سے نو ارب ڈالر مالیت کی سرمایہ کاری کی ٹھوس تجاویز موصول ہوئی ہیں۔ ان میں ملٹی پرپز کارگو ٹرمینلز، کنٹینر ٹرمینلز، ایل این جی اور تیل کے ٹرمینلز، اسٹیل اور میری ٹائم انڈسٹریل کمپلیکس جیسے منصوبے شامل ہیں۔
تاہم سرمایہ کاری کی تجاویز اور حقیقتاً پاکستان آنے والی سرمایہ کاری میں فرق ہوتا ہے۔ اصل کامیابی تب ہوگی جب یہ تجاویز معاہدوں، تعمیراتی سرگرمیوں اور عملی منصوبوں میں تبدیل ہوں گی۔
فی الحال پاکستانی بندرگاہوں نے بڑی تعداد میں کنٹینرز ہینڈل کر کے اپنی قابلیت کا ثبوت دیا ہے۔
کراچی پورٹ ٹرسٹ کی اگست 2026 میں جاری کردہ کارکردگی کی تفصیلات کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران کراچی پورٹ نے 55.483 ملین ٹن کارگو ہینڈل کیا، جبکہ کنٹینرز کی تعداد 2.749 ملین ٹی ای یوز تک پہنچ گئی۔
اسی عرصے میں بندرگاہ نے 2115 بحری جہازوں کو خدمات فراہم کیں۔ یہ کارکردگی کراچی پورٹ کی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ قرار دی گئی۔ اس سے پہلے مالی سال 2024-25 میں کراچی پورٹ نے 53.951 ملین ٹن کارگو اور 2.651 ملین ٹی ای یوز ہینڈل کیے تھے۔
اس طرح ایک سال میں کارگو ہینڈلنگ میں تقریباً 2.8 فیصد اور کنٹینرز کی تعداد میں تقریباً 3.7 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ اضافہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ پاکستان کی بندرگاہوں نے علاقائی تجارتی دباؤ کے باوجود اپنی عملی استعداد میں بہتری دکھائی ہے۔
اس کارکردگی کا مستقل ہونا ضروری ہے۔ اس موقع پر کارگوکمپنیوں سے کم منافع کے عوض لانگ ٹرم معاہدے کیے جا سکتے ہیں۔ جیسا کورونا کے دنوں میں پاکستانی ٹیکسٹایل کمپنیوں نے امریکہ اور یورپ کے ساتھ لانگ ٹرم معاہدے کیے تھے جس کا فائدہ آج تک ہو رہا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
گوادر کے لیے تو یہ ایک تاریخی موقع ہے۔ اگر اسے محض ایک بندرگاہ کے بجائے خطے کی تجارتی، صنعتی اور توانائی کی ترسیل کے مرکز میں تبدیل کر دیا جائے تو پاکستان وسطی ایشیا، چین، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے درمیان ایک اہم تجارتی پل بن سکتا ہے۔
یہ خدشہ موجود ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں امن بحال ہوتا ہے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری تجارت معمول پر آجاتی ہے تو جہازوں کا ایک بڑا حصہ دوبارہ اپنے روایتی راستوں اور دبئی، جبل علی، فجیرہ اور دیگر خلیجی بندرگاہوں کی طرف منتقل ہوسکتا ہے۔
پاکستانی بندرگاہیں کب تک منافع کماتی رہیں گی اس بارے میں مکمل یقین سے کچھ کہا نہیں جا سکتا لیکن ایک بات مکمل یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ جب تک آبنائے ہرمز بند ہے تب تک پاکستانی بندرگاہوں کا منافع کمانا یقینی ہے۔
اس طرح کا موقع بار بار نہیں ملتا۔ یہ ایک اپرچیونٹی ہے۔ جس سے اگر فائدہ اٹھا لیا تو مستقبل کی لائن اور لنتھ سیدھی ہو سکتی ہے۔ کئی ملکوں نے اپنی تقدیر ایسی اپر پیونٹی سے بدلی ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش صرف ایک حادثہ نہیں ہے بلکہ قدرت کی طرف سے ملنے والا ایک ایسا موقع ہے جس کا انتظار شاید ہماری معیشت کئی دہائیوں سے کر رہی تھی۔
<p class="rteright">چھ اپریل، 2023 کو کراچی کی بندرگاہ پر ایک جہاز پر رکھے شپنگ کنٹینرز نظر آ رہے ہیں (اے ایف پی)</p>
.png)
15 hours ago
6




English (US) ·