آئین پرچی کے ذریعے فیصلے کرانے کی اجازت نہیں دیتا: وزیر اعلیٰ کے پی

4 months ago 17

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے اسلام آباد میں منعقدہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے زیر اہتمام دو روزہ کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ آئین پرچی کے ذریعے فیصلے کرانے کی اجازت نہیں دیتا۔

انہوں نے کہا ’آئین آپ کو اجازت نہیں دیتا کہ ججز سے پرچی کے ذریعے فیصلے کرائیں۔ ججز خود کہہ رہے ہیں کہ آپ مداخلت کرتے ہیں، اس طرح ملک نہیں چلے گا۔‘

محمود خان اچکزئی کی زیر صدارت کانفرنس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں جنید اکبر اور اسد قیصر سمیت سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، مصطفیٰ نواز کھوکھر، سابق گورنر سندھ زبیر عمر و دیگر رہنماؤں کے علاوہ وکلا، صحافیوں، دانش وروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔

کانفرنس کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اس اجتماع کا مقصد سیاسی درجۂ حرارت کو کم کرنا اور جاری سیاسی اختلافات کا حل نکالنا ہے۔

آج سہیل آفریدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے تمام مذہبی اور سیاسی جماعتوں کا امن جرگہ کیا۔ جرگے میں تمام مکتبۂ فکر کے لوگ آئے اور متفقہ فیصلے کیے۔

’لیکن بدقسمتی سے پی ٹی ایم کے لوگوں کو باہر سے اٹھا لیا گیا۔ ایسے کرنے سے لوگوں کے دلوں میں نفرت اور بڑھے گی۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’پاکستان کی سب سے بڑی اسٹیبلشمنٹ سوشل میڈیا ہے۔

’ایک آدمی جیل میں بیٹھا ہے، اس کی اہلیہ جیل میں ہے۔ اس سے لوگوں کے دل آپ کی طرف نہیں مڑ جائیں گے۔

’بند کمروں کے فیصلہ سازوں اور سیاسی جماعتوں کو سمجھنا ہو گا۔ پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے لیے میں آپ لوگوں کے ساتھ کھڑا رہوں گا۔‘

سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ ’ایک صوبے کو تمام وسائل دیے جا رہے ہیں، دوسرے صوبے کو کچھ نہیں مل رہا۔

ایک صوبے کے وزیرِ اعلیٰ کو ایئر فورس کا طیارہ ملتا ہے جبکہ دوسرے کی تذلیل ہوتی ہے۔ 4758 ارب روپے وفاق پر واجب الادا ہیں۔

’ایک وزیر اعلیٰ کو پیسے فراہم کیے جاتے ہیں، مجھے اڈیالہ کے باہر ایک پولیس اہلکار روک دیتا ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عوام پاکستان پارٹی کے کنوینئر شاہد خاقان عباسی نے کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ’عمران خان کو جو سزائیں دی گئیں، ماضی میں بھی ایسی سزائیں دی جاتی رہی ہیں۔

’وزیراعظم کو بھی سزائیں ملیں، سیاست دانوں کو بھی سزائیں ملیں۔ نہ ایسی سزاؤں کو تاریخ قبول کرتی ہے اور نہ قانون قبول کرتا ہے۔ ‘

انہوں نے کہا ’ایسی سزائیں دے دی جاتی ہیں اور بعد میں پتہ چلتا ہے کہ یہ سزائیں غلط دی گئیں۔

’ذوالفقار علی بھٹو کو بھی پھانسی کی سزا ہوئی، 50 سال ہو گئے، آج تک وہ فیصلہ متنازع ہے۔‘

شاہد خاقان عباسی کے مطابق ملک کے جو موجودہ حالات ہیں، ان میں بظاہر بہتری دکھائی نہیں دے رہی۔

’حکومت اور اپوزیشن، سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ سب مل کر بیٹھیں اور راستہ ڈھونڈیں کہ ملک کو کیسے ترقی دی جائے گی۔

’بدقسمتی سے حکومت اپوزیشن کو اس کا مقام نہیں دے رہی۔ حکومت کی جانب سے فسطائیت اور تشدد پر زور دیا جا رہا ہے۔ یہ سلسلہ زیادہ دیر نہیں چل سکتا۔‘

محمد زبیر نے کانفرنس سے خطاب میں کہا ’اس وقت سیاسی حالات کی وجہ سے معاشی حالات خراب ہیں۔ اس وقت حکومت کے پاس سیاسی ساخت نہیں۔

’اس وقت وزیراعظم اور وزیرِ خزانہ کو سنیں، سب یہی کہہ رہے ہیں کہ فِسکل پالیسی یہ کر رہی ہے، مگر عوام کی بات کوئی نہیں کر رہا۔

انہوں نے کہا اس وقت 12 کروڑ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے ہیں جبکہ بے روزگاری کی شرح نو فیصد سے بڑھ کر 22 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

’مہنگائی تحریکِ انصاف کے دور میں 12 فیصد تھی، اب 38 فیصد ہے۔ 1998 سے لے کر اب تک 14 آئی ایم ایف پروگرام کیے جا چکے ہیں۔

’آج حکومت اور آئی ایم ایف یہ کہہ رہے ہیں کہ سب اچھا ہے، کوئی عوام سے پوچھے۔ پاکستان میں کوئی کاروبار نہیں کر رہا۔‘

Read Entire Article