4 ارب روپے سے بننے والا پشاور کا جدید بس ٹرمینل، موٹروے سے منسلک کیوں نہیں؟

1 month ago 14

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

پشاور میں ناردرن بائی پاس کے قریب جدید سہولیات سے آراستہ نیا بس ٹرمینل تکمیل کے آخری مراحل میں ہے اور بہت جلد کھول دیا جائے گا، تاہم ٹرمینل کو موٹروے کے ساتھ لنک کرنے پر تنازعہ کھڑا ہوا ہے۔

تقریباً 323 کنال اراضی پر محیط اس ٹرمینل کے آس پاس کی سڑکیں وفاقی مواصلات کے ادارے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی ملکیت ہیں جبکہ قریب ہی جی ٹی روڈ اور موٹروے گزرتی ہیں۔

اب اس ٹرمینل کا داخلہ اور خارجی راستہ جہاں سے گاڑیاں موٹروے کے لیے نکلیں گی، کو رسائی دینے کا مسئلہ درپیش ہے جس پر بات چیت جاری ہے۔

خیبر پختونخوا کے وزیر بلدیات و اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ہم نے بہت تیزی سے اس منصوبے پر کام کیا اور اس کے لیے فنڈز جاری کیے اور تقریباً اب یہ مکمل طور پر تیار ہے۔

تاہم مینا خان نے بتایا اس ٹرمینل کو موٹروے تک ایکسس یا رسائی دلوانے کے لیے

’ہم نے صوبے کے اعلیٰ افسران کے ذریعے وفاقی حکومت سے بات کی ہے اور امید ہے کہ ٹرمینل کو داخلی راستے کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ ‘

peshawar bus terminal.jpg

بس ٹرمینل کا داخلہ اور خارجی راستہ جہاں سے گاڑیاں موٹروے کے لیے نکلیں گی، ان کو موٹروے تک رسائی دینے کا مسئلہ درپیش ہے (انڈپینڈنٹ اردو)

اصل مسئلہ کیا ہے؟

اس منصوبے سے وابستہ ایک اعلیٰ عہدیدار نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اس منصوبے کے تعمیر کے دوران ٹرمینل کی انٹری اور خارجی راستے کا مسئلہ نیشنل ہائی ویزے اتھارٹی ’این ایچ اے‘ کے ساتھ اٹھایا تھا لیکن این ایچ اے کے مطابق اس میں کچھ تکنیکی مسائل موجود تھے۔

انہوں نے بتایا کہ ٹرمینل سے نکلتے ہی جب جی ٹی روڈ پر گاڑی جاتی تھی تو این ایچ اے کا موقف تھا کہ وہ جگہ بہت تنگ ہے اور وہاں ٹریفک حادثات کے خطرے کے بڑھنے کا خدشہ موجود ہے۔

تاہم جب عہدیدار کے مطابق اس ڈیزائن میں کچھ تبدیلی کی گئی تو بعد میں این ایچ اے کے حکام نے بتایا کہ ادارے کے ذیلی قوانین میں یہ موجود ہی نہیں ہے کہ این ایچ اے کی زمین کسی کو بھی دی جا سکے، تاہم انٹری دی جا سکتی ہے۔

عہدیدار نے بتایا ’اب یہ مسئلہ جب سامنے آ گیا تو چونکہ این ایچ اے کے ذیلی قوانین موجود تھے، تو زمین کسی صورت ٹرمینل کو نہیں دی جا سکتی تھی لیکن ایکسس دی جا سکتی ہے، اور اب اس پر متفق ہو گئے ہیں کہ تین سے پانچ سال تک مشروط اجازت نامہ دیا جائے گا۔‘

اس کے بعد عہدیدار کے مطابق اس ٹرمینل کا فیز 2 منصوبہ بھی ہے اور اس منصوبے میں ٹرمینل کے داخلہ اور خارجی راستے کو صوبائی حکومت اپنی زمین میں ایک چوک کے ساتھ لنک کریں گے اور اس کا مستقل حل نکل آئے گا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ٹرمینل میں کیا سہولیات ہیں؟

تقریباً چار ارب کی لاگت سے بننے والے اس بس ٹرمینل میں 375 چھوٹی بڑی گاڑیوں کے لیے سٹینڈز بنائے گئے ہیں جہاں سے ملک کے شہروں اور اضلاع کے لیے گاڑیاں نکلیں گی۔

اس ٹرمینل میں دکانیں، کیفیٹیریا، ورک شاپس، ریسٹ ایریاز، سروس سٹیشنز، پیٹرول پمپ اور واٹر ری سائیکلنگ پلانٹ بھی بنایا گیا ہے جبکہ ٹرمینل میں سہولیات سے آراستہ انتظار گاہ بھی موجود ہے۔

ٹرمینل کی انتظامیہ کے مطابق ٹرمینل کی گنجائش کی بات کی جائے تو یہاں سے بیک وقت 670 چھوٹی بڑی گاڑیوں کے نکلنے کی سہولت موجود ہے جبکہ یہاں ایسا بھی نہیں ہوگا کہ مسافر گھنٹوں انتظار کریں گے بلکہ ہر گاڑی مقررہ وقت کے مطابق نکلیں گی۔

اسی طرح ٹرمینل میں ایک سنٹرلائزڈ ٹکٹنگ کا نظام ہوگا اور اسی نظام سے تمام ٹرانسپورٹ کمپنیاں لنک ہوں گی جبکہ سکیورٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے سامان کی سکیننگ بھی ہوں گی

Read Entire Article
Chatroom