Want Your Business Featured Here?
Get instant exposure to our readers
Chat on WhatsApp
پیپلز پارٹی کے رہنما اور صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا ہے کہ 28 ویں ترمیم اگر بہتری کے لیے ہوئی تو پیپلز پارٹی ضرور سپورٹ کرے گی۔
پاکستان فرسٹ فرنیچر ٹریڈ شو کے دوسرے روز بطور مہمان خصوصی شرکت کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ گزشتہ سال فرسٹ ایکسپو آزادی کے نام سے سجایا گیا، دوسرے ایڈیشن کا نام علامہ اقبال سے منسوب ہے۔ تمام اداروں کو چاہیے کہ تاجروں کے ساتھ تعاون کریں۔ دنیا بھر کے مقابلے میں ہمارے ملک میں فرنیچر کی قیمتیں کم ہے۔ ہمارا بنایا ہوا فرنیچر پوری دینا میں جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال یہاں 150 سٹال لگائے گئے تھے، اس سال ایکسپو میں 200 کے قریب اسٹال لگائے گئے ہیں۔ خوشی کی بات یہ ہے مقامی فرنیچر کے اسٹال زیادہ ہیں۔ لوگوں سے گزارش ہے کہ آئیں اور اس ایکسپو سے فائدہ اٹھائیں۔
سعید غنی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کراچی جیسا بڑا شہر پورے ملک کو سنبھالتا ہے۔ کراچی ہمیشہ سے پورے ملک سے آئے لوگوں کو روزگار دیتا ہے۔ جب کسی شہر کی اتنی اہمیت ہو تو وفاقی حکومت کی بھی کچھ ذمے داری بنتی ہے۔ افسوس کے ساتھ کراچی کے ساتھ وہ تعاون نہیں کیا جاتا۔ یہ بحث برسوں سے چلتی آرہی ہے، کراچی کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جس سڑک کی بات کی جا رہی ہے، وہ ریلوے کی زمین تھی۔ کام تو اچھا ہورہا تھا ، ترقی کا کام ہورہا تھا۔ ریلوے ایک وفاقی اداراہ ہے، سرکاری ادارہ ہے۔ 2 ادارے جب آپس میں لڑیں گے تو کام نہیں ہوگا۔ بد قسمتی سے اس جھگڑے نے غلط رنگ لے لیا۔ بیٹھ کر معاملے کو حل کرنا چاہیے تاکہ کام جلد ہو۔ کے ایم سی نے کچے راستے پر کام کرکے لوگوں کے لیے اچھی سڑک بنانے کی کوشش کی۔ اگر ریلوے کو مسئلہ تھا اس سڑک کو پہلے ہی بند کردینا چاہیے تھا۔ جو کچھ اس واقعے کے بعد ہوا ہے، اسے مزید آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔
سعید غنی نے کہا کہ حیدر آباد والی سڑک کی آپ اگر تاریخ دیکھیں تو پرانی ہے۔ بڑے عرصے بعد سڑک کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا۔ سڑک پر موجود بجلی کے پول کوئی عام پول نہیں ہیں۔ یہ سڑک لوگ تعمیر سے پہلے بھی استعمال کررہے تھے۔ لوگوں کی سہولت کے لیے سڑک ڈالی گئی لیکن اسکو الگ رنگ دے دیا گیا۔ یہ چیز میرے حلقے میں بھی ہوچکی ہے۔ اس وقت بھی مسائل آئے اور تعمیراتی کام روکا گیا۔ یہ چیزیں ماضی میں بھی آتی رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ابھی تک 28 ویں ترمیم کا کوئی پیپر ہمارے سامنے نہیں آیا۔ جب 28 ویں ترمیم کا پیپر ہمارے سامنے آئے گا تو پیپلز پارٹی اس پر بیٹھ کر بات کرے گی۔ اگر 28 ویں ترمیم بہتری کے لیے ہوگی تو پیپلز پارٹی ضرور سپورٹ کرے گی۔