برطانوی مہم جو 28 سال میں 50 ہزار کلومیٹر پیدل چل کر جنوبی امریکہ سے اپنے گھر پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اب اس کے راستے میں صرف آخری رکاوٹ یعنی انگلش چینل کو عبور کرنا باقی رہ گیا ہے۔
سابق پیراٹروپر کارل بشبی نے فرانس کے شمال میں کیپ بلاں نیز کی جانب پیدل جاتے ہوئے بتایا کہ ’ہم سمجھ رہے تھے کہ ہمیں فرانس کے ساحل سے تیر کر انگلش چینل عبور کرنے کی اجازت مل گئی ہے، لیکن بعد میں پتہ چلا کہ ایسا نہیں ہے۔
کچھ غلط فہمی ہو گئی تھی۔ اس لیے اب ہم قدرے گھبراہٹ میں فوری طور پر اس مسئلے کا حل تلاش کر رہے ہیں۔‘
57 سالہ برطانوی مہم جو پہلے انگلش چینل کی سرنگ میں بنی سروس گزرگاہ سے پیدل برطانیہ جانا چاہتے تھے، لیکن ان کے مطابق حکام اس کے خلاف تھے۔
اس لیے انہوں نے کیلے کے علاقے سے سمندر تیر کر پار کرنے کا فیصلہ کیا، حالاں کہ انہیں تیرنا سخت ناپسند ہے۔
انہوں نے کہا: ’میں ایسے تیرتا ہوں جیسے کسی بلی کو باتھ ٹب میں ڈال دیا گیا ہو۔ یہ مذاق نہیں، میری تیراکی واقعی خراب ہے۔ لیکن جو کرنا ضروری ہو، وہ کرنا ہی پڑتا ہے۔‘
سفر کے ایک مرحلے پر انہوں نے تیراکی اور پانی پر تیرتے ہوئے 30 دن میں بحیرہ کیسپین عبور کیا۔ وہ آرام کے لیے کشتی پر رک جاتے تھے، لیکن کشتی کی مدد سے آگے نہیں بڑھتے تھے۔
انہیں امید ہے کہ یکم اکتوبر سے پہلے انگلش چینل تیر کر عبور کرنے کی اجازت مل جائے گی۔ یہ دنیا کی مصروف ترین بحری گذرگاہوں میں سے ایک ہے۔ یکم اکتوبر کے بعد سردیوں کا موسم اسے عبور کرنا بہت خطرناک بنا دے گا۔
بشبی نے نومبر 1998 میں سفر شروع کرتے وقت دو اصول بنائے تھے کہ آگے بڑھنے کے لیے کوئی سواری استعمال نہیں کریں گے اور شمالی انگلینڈ میں ہل کے قریب اپنے گھر صرف پیدل واپس جائیں گے۔
سفر کے دوران وہ اپنا تمام سامان ایک ریڑھی میں رکھ کر دھکیلتے ہیں، جسے انہوں نے ’دا بیسٹ‘ کا نام دیا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تقریباً تین دہائیوں کے دوران انہوں نے کئی بار اپنا سفر روکنا پڑا۔
روس اس بات پر ناراض تھا کہ وہ الاسکا اور روس کے مشرقی علاقے کے درمیان واقع آبنائے بیرنگ کو پیدل عبور کر کے روس میں داخل ہوئے تھے، اس لیے ماسکو نے انہیں طویل عرصے تک ویزا نہیں دیا۔ بشبی کے مطابق اس سے پہلے کسی نے ایسا نہیں کیا تھا۔
ان کے اندازے کے مطابق ویزے کے مسائل، 2008 کے مالی بحران اور پھر کرونا کی وبا کی وجہ سے ان کے 28 سالہ سفر کے تقریباً 14 سال ضائع ہوئے۔
ان مواقعے پر وہ اپنا سفر روک دیتے تھے اور خاص طور پر میکسیکو میں رہتے تھے۔ حالات بہتر ہونے کے بعد وہ اسی جگہ سے دوبارہ سفر شروع کرتے جہاں اسے روکا تھا۔
انگلینڈ کے قریب پہنچ کر بشبی کو اپنے سفر کے ابتدائی دن یاد آتے ہیں، جب انہوں نے اینڈیز کے پہاڑوں میں پیدل سفر کیا اور کولمبیا اور پاناما کے درمیان دشوار جنگل ڈیرین عبور کیا۔
انہوں نے کہا: ’پھر آہستہ آہستہ یہ سفر ایک کام بن جاتا ہے۔ عمر بڑھتی جاتی ہے اور سفر مشکل ہوتا جاتا ہے۔‘
کارل بشبی کی زندگی اور سفر پر ایک دستاویزی فلم تیار ہو رہی ہے۔ سفر مکمل ہونے کے بعد وہ اس فلم پر کام کرنے اور اپنے تجربات کے بارے میں تقریریں کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’مجھے دوبارہ عام زندگی میں اپنی جگہ بنانی ہوگی کیوں کہ جب میں گھر پہنچوں گا تو میرے پاس کچھ بھی نہیں ہوگا۔‘
لیکن پہلے انہیں انگلش چینل عبور کرنا ہے۔ مشکل کے باوجود وہ پرامید ہیں۔
انہوں نے کہا: ’میرا خیال ہے کہ ہم کوئی راستہ نکال لیں گے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو میں باقی زندگی فرانس میں ہی رہوں گا!‘
<p class="rteright">برطانوی سابق پیراٹروپر کارل بشبی، جو 27 سال سے دنیا بھر کا پیدل سفر کر رہے ہیں، 25 نومبر، 2025 کو ہنگری کے شہر کوماروم میں موجود ہیں (روئٹرز)</p>
.png)
2 hours ago
2




English (US) ·