ٹرمپ کی بی بی سی کو ایک ارب ڈالر ہرجانے کی دھمکی

5 months ago 17

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو ایک ارب ڈالر کے ہرجانے کا دعویٰ دائر کرنے کی دھمکی دے دی۔

انہوں نے یہ دھمکی بی بی کی طرف سے نشر کی گئی ایک دستاویزی فلم میں اپنی تقریر میں کی جانے والی ایڈیٹنگ کے طریقہ کار پر دی۔ 

بی بی سی کے چیئرمین سمیر شاہ نے پیر کو ’فیصلے میں غلطی‘ پر معذرت کی، جس کے بعد بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل اور شعبہ نیوز کی سربراہ کے استعفے سامنے آئے۔

بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل ٹم ڈیوی اور ہیڈ آف نیوز ڈیبرا ٹرنیس نے اتوار کو جانبداری اور اس تقریر کی گمراہ کن ایڈیٹنگ کے الزامات پر استعفیٰ دے دیا۔ ٹرمپ نے یہ تقریر چھ جنوری 2021 کو اپنے حامیوں کے ہجوم کے سامنے کی جس کے بعد اس ہجوم نے واشنگٹن میں امریکی کانگریس کی عمارت پر چڑھائی کر دی۔

’ٹرمپ: دوسرا موقع؟‘ کے عنوان سے ایک گھنٹے کے دورانیے کی دستاویزی فلم 2024 کے امریکی صدارتی انتخاب سے چند روز پہلے بی بی سی کی سیریز ’پینوراما‘ کے حصے کے طور پر نشر کی گئی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس میں 2021 کی تقریر کے دو حصوں سے، جو تقریباً ایک گھنٹے کے وقفے سے تھے، تین اقتباسات جوڑ کر ایک ایسا اقتباس بنا دیا گیا جو بظاہر ایک ہی جملہ لگتا تھا، جس میں ٹرمپ نے حامیوں سے ان کے ساتھ مارچ کرنے اور ’سخت لڑائی‘ کی اپیل کی۔ تقریر کے نکالے جانے والے حصوں میں وہ حصہ بھی شامل تھا جس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں ان کے حامی پرامن مظاہرہ کریں۔

سمیرشاہ نے کہا کہ نشریاتی ادارے نے یہ تسلیم کیا کہ ’تقریر کی ایڈیٹنگ کے طریقے نے واقعی براہ راست پرتشدد کارروائی کی اپیل کا تاثر دیا۔‘

ٹرمپ کے وکیل الیخاندرو بریتو کے ایک خط میں بی بی سی سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ’جھوٹے، ہتک آمیز، تحقیر آمیز اور اشتعال انگیز بیانات‘ واپس لے، معافی مانگے اور ’ہونے والے نقصان پر صدر ٹرمپ کو مناسب معاوضہ ادا کرے‘ ورنہ ایک ارب ڈالر کے ہرجانے کے لیے قانونی کارروائی کا سامنا کرے۔

بی بی سی نے کہا کہ وہ خط کا جائزہ لے گی ’اور مناسب وقت پر براہ راست جواب دے گی۔‘

Read Entire Article