امریکی ریاست لوئیزیانا میں پولیس نے بتایا کہ ایک شخص نے اتوار کی صبح گھریلو تشدد کے واقعے میں آٹھ بچوں کو گولی مار کر قتل کر دیا، جن میں سے سات اس کے اپنے بچے تھے۔
گن وائلنس آرکائیو کے اعداد و شمار کے مطابق شریوپورٹ شہر میں ایک گھر میں ہونے والا یہ صبح سویرے قتل عام گذشتہ دو برس سے زائد عرصے میں امریکہ میں ہونے والی مہلک ترین اجتماعی فائرنگ تھی۔
دو خواتین بھی فائرنگ سے شدید زخمی ہوئیں، جن میں بچوں کی والدہ بھی شامل ہیں۔ تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ کتنے بچے ان کے تھے۔
پولیس نے حملہ آور کی شناخت 31 سالہ شمر ایلکنز کے نام سے کی۔ وہ فائرنگ کے بعد ایک چھینی گئی گاڑی میں فرار ہو گیا۔ تاہم پولیس نے تعاقب کرنے کے بعد اسے گولی مار دی۔
پولیس کے کارپورل کرس بورڈی لون نے صحافیوں کو بتایا ’تعاقب کے اختتام پر ملزم گاڑی سے اسلحہ لے کر باہر نکلا، جس پر ہمارے افسران کو مجبوراً اسے غیر مؤثر بنانا پڑا۔‘
موقعے پر موجود اے ایف پی کے ویڈیوگرافر نے دیکھا کہ دو منزلہ چھوٹے گھر کے سفید دروازے پر گولیوں کے پانچ سوراخ واضح تھے جبکہ قریب ہی ہمدردی کے طور پر پھولوں کے کئی گلدستے رکھے گئے تھے۔
بورڈی لون کے مطابق مرنے ہونے والے بچوں کی عمریں تقریباً ڈیڑھ سے 12 سال تک تھیں اور آٹھ میں سے سات بچے حملہ آور کے اپنے تھے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس ابھی بھی واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کر رہی ہے اور تین گھروں پر مشتمل جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے واقعے کو ’گھریلو جھگڑا‘ قرار دیتے ہوئے کہا ’ہمیں یقین ہے فائرنگ کرنے والا واحد شخص یہی تھا۔‘
پولیس کے مطابق ایلکنز کو 2019 میں اسلحہ رکھنے کے ایک کیس میں گرفتار کیا گیا تھا جس میں اس نے جرم قبول کیا۔
تاہم اس کے ماضی میں گھریلو تشدد کے دیگر واقعات کا علم نہیں تھا۔
متاثرین اور حملہ آور کے بارے میں مزید تفصیلات قریبی رشتہ داروں کو اطلاع دینے کے بعد جاری کی جائیں گی۔
شہر کے میئر ٹام آرسینو نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا ’یہ ایک ہولناک واقعہ ہے اور خاص طور پر افسوس ناک ہے کہ تمام متاثرین بچے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا ’یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دنیا میں برائی اب بھی موجود ہے اور ہمیں اس کے خلاف اچھائی کے ساتھ لڑنا ہوگا تاکہ اندھیرے میں روشنی پھیلائی جا سکے۔‘
میئر کے مطابق حملہ آور نے جس دوسرے گھر کا رخ کیا وہاں مجموعی طور پر نو بچے موجود تھے، جن میں سے ایک بچہ زندہ بچ گیا اور اسے معمولی زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
میڈیا رپورٹ کے مطابق دونوں زخمی خواتین کو سر میں گولیاں لگیں۔
پولیس نے اے ایف پی کو بتایا ایک خاتون نے، جس کے چہرے کے نچلے حصے پر گولی لگی تھی، پڑوسی کو خبردار کیا، جس نے صبح پانچ بجے سے 5:30 کے درمیان 911 پر کال کر کے حکام کو اطلاع دی۔
لوئیزیانا سے تعلق رکھنے والے امریکی سینیٹر بل کیسڈی نے واقعے کو ’ہولناک تشدد‘ قرار دیا اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی۔
ریاست کے گورنر جیف لینڈری نے کہا کہ وہ ’دل گرفتہ‘ ہیں۔
امریکی ایوان نمائندگان کے سپیکر مائیک جانسن نے، جو شریوپورٹ میں پیدا ہوئے، اس واقعے کو ’بے معنی سانحہ‘ قرار دیا۔
میئر آرسینو نے کہا ’یہ شریوپورٹ کے لیے ایک افسوس ناک صبح ہے اور ہم سب متاثرین کے ساتھ سوگ میں شریک ہیں۔‘
امریکہ میں، جہاں اسلحہ آسانی سے دستیاب ہے، فائرنگ کے واقعات عام ہیں اور ہر سال ہزاروں افراد مارے جاتے ہیں۔
ترقی یافتہ ممالک میں گن سے ہونے والی اموات کی شرح امریکہ میں سب سے زیادہ ہے۔
.png)
3 hours ago
2



English (US) ·