عارف علوی کا انکشاف: عمران خان نے صدارتی معافی کی پیشکش مسترد کر دی تھی

5 months ago 15

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

سابق صدر پاکستان اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما ڈاکٹر عارف علوی کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک حالیہ پوسٹ نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ انہوں نے صدارتی اختیارات استعمال کرتے ہوئے عمران خان کو جھوٹے مقدمات میں معافی دینے کی کوشش کی تھی، لیکن عمران خان نے یہ پیشکش یہ کہہ کر ٹھکرا دی کہ انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا۔

ڈاکٹر عارف علوی نے لکھا: ’گرفتاری کے چند ماہ بعد کی بات ہے۔ قیدی نمبر 804 کو جھوٹے مقدمات میں سزائیں ہو چکی تھیں۔ اُس وقت یہ امکان پیدا ہوا کہ خان صاحب کو جو سزائیں دھاندلی سے دی جا چکی ہیں، انہیں عوام اور عمران خان کے دیے ہوئے صدارتی آئینی اختیارات استعمال کر کے ایمنیسٹی یا معافی کا اعلان کر کے معطل کردوں۔‘

Absolutely Not@ImranKhanPTI
اڈیالہ کی خاموش دیواروں میں سے عمران خان کی آواز گونجی۔
میں بتاتا ہوں کہ یہ واقع کب پیش آیا۔

عمران خان نے دنیا کے سٹیج پر ایبسولیوٹلی ناٹ کہہ کر ٹرمپ اور بین الاقوامی گلوبل آرڈر کو چیلنج کر دیا تھا۔ مگر مجھ سے بھی ایک بڑے انکار کے لیے خان صاحب نے…

— Dr. Arif Alvi (@ArifAlvi) November 13, 2025

یہ ٹویٹ اب سوشل میڈیا پر کافی زیربحث ہے اورتا دم تحریر 1500 مرتبہ ری ٹویٹ ہو چکا تھا۔ اس پر صارفین کے مختلف ردعمل نے بحث کو اور گرما دیا ہے۔

کئی صارفین نے عمران خان کی اس ’اصولی پوزیشن‘ کو سراہا۔

حیدر فار پی ٹی آئی نامی صارف نے لکھا: ’تین سال تو کیا، میں تین منٹ کے لیے بھی خاموش نہیں رہوں گا - Absolutely Not ‘


 ایک صارف نے عمران خان کو بہادر قرار دیا۔
کچھ صارفین نے علوی اور پی ٹی آئی کی حکمت عملی پر سوال اٹھائے۔ @Omar16Jan نامی اکاؤنٹ نے کمنٹ کیا: ’علوی صاحب سب نے مقدور بھر حصہ ڈالا ہے آپ کے پاس بہت اختیار تھے اگر آپ استعمال کرتے لیکن! آپ نے نہیں کئے!‘

علوی صاحب سب نے مقدور بھر حصہ ڈالا ہے
آپ کے پاس بہت اختیار تھے
اگر آپ استعمال کرتے لیکن!
آپ نے نہیں کئے!

— Omar ferozpuria (@Omar16Jan) November 13, 2025

ڈاکٹر علوی کے مطابق اڈیالہ جیل قید عمران خان نے جھوٹے مقدمات میں معافی لینے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسٹیبلشمنٹ کی رکاوٹوں کے باوجود ان کا خان سے رابطہ جاری رہا۔
 تاہم، کچھ صارفین نے اسے ’خواہ مخواہ کی کہانیاں‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ خان کی گرفتاری اسٹیبلشمنٹ سے اختلاف کا نتیجہ ہے۔

آفس سے نکلنے کے بعد آپ نے وہ رول ادا نہیں کیا جو کرنا چاہیے تھا۔ آپ عمران خان وفادار ہو سکتے ہو لیکن دلیر کبھی بھی نہیں ہو سکتے۔

— Iftikhar Ahmad (@IftikharHa27651) November 13, 2025

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل

Read Entire Article