پاکستان عالمی ثالث کے طور پر کیسے ابھرا؟

1 hour ago 1

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

اسلام آباد ایک دفعہ پھر مرکز نگاہ بننے جا رہا ہے اور یہ شاید پاکستان کی خارجہ پالیسی کا درخشاں سنگ میل ثابت ہو، مگر پاکستان کے ابھرتے ہوئے عالمی کردار کو سمجھنے کے لیے محض حالیہ سفارتی سرگرمیوں کو دیکھنا کافی نہیں، بلکہ اس کے پیچھے موجود ساختی عوامل، تاریخی ارتقا اور بدلتے ہوئے عالمی نظام کی حرکیات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، خصوصاً ایران، اسرائیل، امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان پیچیدہ تعلقات کے تناظر میں پاکستان کا بطور ثالث سامنے آنا کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک تدریجی اور شعوری سفارتی عمل کا عکس ہے۔

یہ کردار کئی بنیادی عوامل کی پیداوار ہے جو پاکستان کو ایک منفرد پوزیشن فراہم کرتے ہیں۔

سب سے پہلے پاکستان کی بڑی طاقت اس کی وہ سفارتی حیثیت ہے جو اسے بیک وقت مختلف اور باہم متضاد کیمپوں کے ساتھ رابطے میں رہنے کی صلاحیت دیتی ہے۔

امریکہ کے ساتھ اس کے تاریخی تعلقات، سعودی عرب کے ساتھ دفاعی اور سٹریٹجک شراکت داری اور ایران کے ساتھ جغرافیائی قربت، پاکستان کو ایک ایسا پل بناتے ہیں جو مختلف قوتوں کو جوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ وہ اعتماد ہے جو کسی بھی ثالثی کردار کی بنیاد ہوتا ہے۔ ایسے ماحول میں جہاں زیادہ تر ریاستیں واضح صف بندی کا شکار ہیں، پاکستان کی یہ کثیر جہتی سفارت کاری اسے ایک قابل قبول ثالث بناتی ہے۔

دوسرا اہم عنصر پاکستان کی جغرافیائی حیثیت ہے جو اسے محض ایک علاقائی نہیں بلکہ بین العلاقائی اہمیت عطا کرتی ہے۔

جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے سنگم پر واقع پاکستان ایک قدرتی راہداری اور سٹریٹجک نقطۂ اتصال ہے۔

ایران کے ساتھ براہ راست سرحد، خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی روابط اور چین کے ساتھ اقتصادی شراکت داری، اسے ایک ایسے مقام پر کھڑا کرتے ہیں جہاں سے وہ مختلف جغرافیائی اکائیوں کے درمیان رابطہ کار بن سکتا ہے۔

یہی وجہ ہے ایران جیسے ممالک بھی کسی مغربی ریاست کی بجائے پاکستان جیسے ملک کو ترجیح دیتے ہیں جو نہ صرف قریب ہے بلکہ ایک حد تک غیر جانب دار بھی ہے۔

تیسرا پہلو پاکستان کی وہ سفارتی حکمت عملی ہے جسے سٹریٹجک ہیجنگ کہا جا سکتا ہے۔ پاکستان نے نہ تو مکمل طور پر کسی ایک بلاک کے ساتھ خود کو وابستہ کیا اور نہ ہی خود کو عالمی سیاست سے الگ رکھا۔

اس نے ایک توازن قائم رکھا، جس میں مختلف قوتوں کے ساتھ تعلقات برقرار رکھتے ہوئے اپنے مفادات کو محفوظ رکھا گیا۔ یہی توازن آج اس کے لیے ایک اثاثہ بن چکا ہے۔

بدلتے ہوئے عالمی نظام میں جہاں واضح اتحاد کمزور ہو رہے ہیں اور مفادات پر مبنی تعلقات مضبوط ہو رہے ہیں، پاکستان کی یہی حکمت عملی اسے ایک لچک دار اور قابل قبول کردار ادا کرنے کے قابل بنا رہی ہے۔

چوتھا عنصر پاکستان کی ادارہ جاتی صلاحیت اور خاص طور پر اس کے عسکری و سفارتی ڈھانچے کی استعداد ہے۔

ثالثی محض بیانات دینے کا عمل نہیں بلکہ اس کے لیے بیک چینل مذاکرات، سکیورٹی ضمانتیں اور حساس معلومات کے تبادلے کی ضرورت ہوتی ہے۔

پاکستان نے حالیہ عرصے میں ایسے اقدامات کیے ہیں جو اس کی عملی صلاحیت کو ظاہر کرتے ہیں۔

اعلیٰ سطحی وفود کی میزبانی، مذاکرات کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرنا اور مختلف فریقین کے درمیان رابطہ کاری، یہ سب ایسے عناصر ہیں جو کسی بھی مؤثر ثالثی کے لیے ناگزیر ہوتے ہیں۔

پانچواں عنصر قیادت کا کردار اور اس کی بروقت مداخلت ہے۔ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے ایک ایسے وقت میں متحرک کردار ادا کیا جب خطے میں سفارتی خلا پیدا ہو رہا تھا۔

روایتی ثالثین یا تو اپنی ساکھ کھو چکے تھے یا کسی ایک فریق کے ساتھ حد سے زیادہ جڑے ہوئے تھے۔

ایسے میں پاکستان نے، جو مختلف جغرافیائی تنازعوں سے نبرد آزما ہونے کا وسیع تجربہ رکھتا ہے، نہ صرف موقع کو پہچانا بلکہ اسے استعمال بھی کیا۔

یہ وہ لمحہ تھا جب سیاسی و عسکری قیادت نے سفارتی بصیرت اور سٹریٹجک ادراک سے پاکستان کو ایک نمایاں کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کیا۔

چھٹا عنصر عالمی نظام میں جاری تبدیلی ہے۔ سرد جنگ کے بعد کا یک قطبی نظام اب اپنی سابقہ شکل میں باقی نہیں رہا۔

دنیا بتدریج ایک کثیر القطبی ترتیب کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں طاقت کا ارتکاز بکھر رہا ہے اور درمیانی طاقتیں نئی اہمیت اختیار کر رہی ہیں۔

اس تناظر میں پاکستان کی حیثیت محض ایک علاقائی ریاست کی نہیں رہتی بلکہ وہ ایک ایسے فریق کے طور پر سامنے آتا ہے جو مختلف قوتوں کے درمیان توازن قائم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہی وہ خلا ہے جسے ثالثی کے ذریعے پر کیا جا سکتا ہے اور پاکستان اسی خلا کو پر کرنے کی پوزیشن میں آ چکا ہے۔

ان تمام عوامل کے ساتھ ایک اور نہایت اہم پہلو پاکستان کی سٹریٹجک ساکھ اور اس کی جوابی صلاحیت ہے، جو حالیہ برسوں میں مؤثر انداز سے نمایاں ہوئی ہے۔

کسی بھی ثالث کے لیے یہ لازم ہے کہ وہ محض غیر جانب دار نہ ہو بلکہ اس کے پاس اتنی سٹریٹجک وقعت بھی ہو کہ فریقین اسے سنجیدگی سے لیں۔

پاکستان نے حالیہ عرصے میں اپنی اس صلاحیت کا مظاہرہ مختلف سطحوں پر کیا ہے، جہاں اس کے ردعمل کو ایک منظم اور نامیاتی عسکری و سٹریٹجک فریم ورک کے تحت دیکھا گیا۔

انڈیا کے ساتھ کشیدگی کے تناظر میں ’معرکہ حق‘ کی کامیابی جبکہ افغانستان اور ایران کے حوالے سے پیدا ہونے والی صورت حال کے تناظر میں ’آپریشن غضب اللحق‘ اور ’آپریشن مرگ بر سرمچار‘ جیسے فیصلہ کن اقدامات کے ذریعے ایک واضح پیغام دیا گیا۔

یہ کارروائیاں محض عسکری ردعمل نہیں تھیں بلکہ ایک سٹریٹجک سگنلنگ کا حصہ تھیں، جس کے ذریعے پاکستان نے یہ واضح کیا کہ وہ اپنے مفادات کے تحفظ کی صلاحیت بھی رکھتا ہے اور اس کا استعمال بھی کر سکتا ہے۔

یہی توازن سفارت کاری اور سٹریٹجک قوت کے درمیان کسی بھی ثالث کو قابلِ اعتبار بناتا ہے۔

ان تمام عوامل کے ساتھ ایک اور اہم پہلو پاکستان کی سٹریٹجک ٹائمنگ اور اس کا رضاکارانہ کردار ہے۔

پاکستان نے اس کردار کو محض قبول نہیں کیا بلکہ ایک حد تک اس کے لیے خود کو پیش بھی کیا۔

یہ پہلو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان اب صرف ردعمل دینے والی ریاست نہیں رہا بلکہ وہ ایک فعال پالیسی اپروچ اختیار کر رہا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، امریکہ اور ایران کے درمیان محدود مکالمے اور سعودی عرب کی علاقائی ترجیحات میں تبدیلی، ان سب نے ایک ایسا لمحہ پیدا کیا جسے پاکستان نے بروقت پہچانا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس نے نہ صرف اس خلا کو محسوس کیا بلکہ خود کو اس خلا کو پر کرنے کے لیے پیش کیا۔

یہی فعال طرز عمل کسی بھی ریاست کو محض ایک کھلاڑی سے ایک معمار میں تبدیل کرتا ہے۔

یہ تمام عوامل مل کر پاکستان کے اس ابھرتے ہوئے کردار کی وضاحت کرتے ہیں جو اسے ایک مؤثر ثالث کے طور پر سامنے لاتے ہیں۔

تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کردار کے ساتھ چیلنجز بھی جڑے ہوئے ہیں۔ ثالثی کا عمل ہمیشہ نازک ہوتا ہے اور اس میں ناکامی کی صورت میں ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

اسی طرح مختلف فریقین کے درمیان توازن قائم رکھنا بھی ایک مشکل کام ہے، خاص طور پر اس وقت جب مفادات ایک دوسرے سے متصادم ہوں۔

اس کے باوجود موجودہ حالات میں پاکستان کا یہ کردار ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ نہ صرف اس کی سفارتی صلاحیتوں کا مظہر ہے بلکہ اس بات کا بھی اشارہ ہے کہ پاکستان عالمی سیاست میں ایک زیادہ فعال اور بااثر کردار ادا کرنے کی جانب بڑھ رہا ہے۔

اگر یہ تسلسل برقرار رہتا ہے اور پاکستان اپنی سٹریٹجک پوزیشن کو دانش مندی کے ساتھ استعمال کرتا ہے تو وہ نہ صرف خطے میں بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک اہم ثالث اور استحکام کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

پاکستان کا یہ کردار اس وسیع تر تبدیلی کا حصہ ہے جس میں عالمی طاقت کا توازن بدل رہا ہے اور نئی قوتیں ابھر رہی ہیں۔

اس بدلتے ہوئے منظرنامے میں وہی ریاستیں آگے بڑھیں گی جو نہ صرف حالات کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہوں بلکہ ان کے مطابق خود کو ڈھالنے اور موقع کو بروئے کار لانے کی اہلیت بھی رکھتی ہوں۔

پاکستان نے حالیہ عرصے میں یہی صلاحیت دکھائی ہے اور یہی پیش رفت مستقبل میں اس کے کردار کی نوعیت کا تعین کرے گی۔

(ڈاکٹر راجہ قیصر احمد ایریا سٹڈی سینٹر برائے افریقہ، نارتھ و ساؤتھ امریکہ کے ڈائریکٹر ہیں)

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

Read Entire Article