داعش کا اہم رکن پاکستان، افغانستان سرحدی علاقے سے گرفتار: ترک میڈیا

4 months ago 25

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

ترکی کی نیشنل انٹیلی جنس آرگنائزیشن (ایم آئی ٹی) نے ایک کارروائی میں عسکریت پسند تنظیم داعش کے نام نہاد سینیئر رکن مہمت گورین کو افغانستان پاکستان کے سرحدی علاقے سے گرفتار کیا ہے۔

ترک نیوز ایجنسی انادولو کے مطابق مہمت نے داعش کے کیمپوں میں فعال کردار ادا کیا تھا اور وقت کے ساتھ ساتھ ایک نام نہاد ایڈمنسٹریٹر یا منتظم کے عہدے تک بھی پہنچا تھا۔

ایم آئی ٹی نے گرفتار رکن کی شناخت مہمت گورین کے نام سے کی ہے، جس کا کوڈ نام یحییٰ تھا۔ مہمت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہیں خودکش حملے کرنے کا کام سونپا گیا تھا۔ انادولو کی خبر میں یہ واضح نہیں کہ مہمت کی گرفتاری کے لیے کارروائی کب کی گئی تھی۔

پاکستان کی طرف سے اس گرفتاری سے متعلق تاحال کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔

ترک انٹیلی جنس حکام نے یہ بھی بتایا کہ مشتبہ شخص نے افغانستان، پاکستان، ترکی اور یورپ میں مقیم شہریوں کو نشانہ بناتے ہوئے خودکش حملے کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

ترک حکام نے گرفتاری کے مقام کے بارے میں بھی واضع معلومات نہیں دیں ہیں لیکن محض پاک افغان علاقہ کہا ہے۔ ایم آئی ٹی کا کہنا ہے کہ مہمت ترکی سے افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقے میں مقیم تھا، وہ اس علاقے میں داعش کے خلاف کیے گئے فضائی حملوں میں بچ گیا تھا۔

مہمت کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ ایک مشتبہ شخص اوزگور التون کے ساتھ مل کر کام کر رہا تھا، جس کا کوڈ نام ابو یاسر الترکی ہے۔ اوزگور نے داعش کے کئی عسکریت پسندوں کو  ترکی سے افغانستان اور  پاکستان کے سرحدی علاقے میں منتقل کرنے میں فعال کردار ادا کیا تھا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اوزگور بھی پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا اور بعد میں انہیں ترکی منتقل کر دیا گیا۔

ISIS-K نے حالیہ برسوں میں افغانستان، پاکستان اور اس سے باہر کئی خطرناک حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے، جن میں زیادہ تر عام شہریوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

مارچ 2024 میں، اس گروپ سے وابستہ عسکریت پسندوں نے ماسکو میں ایک کنسرٹ ہال پر حملہ کیا، جس میں 140 سے زائد افراد مارے گئے۔ 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اس گروپ نے افغانستان اور پاکستان میں بھی مہلک حملے کیے ہیں۔

ایک سینیئر پاکستانی انٹیلی جنس اہلکار نے گذشتہ جمعہ کو کہا کہ انہوں نے سلطان عزیز اعظم، میڈیا منیجر اور داعش کی ایک شاخ کے ترجمان کو گرفتار کر لیا ہے۔

ایک پاکستانی انٹیلی جنس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا، ’وہ صرف ایک ترجمان ہی نہیں تھا، بلکہ خطے میں گروپ کا ایک سینیئر رہنما بھی تھا۔‘

حالیہ برسوں میں، ترکی نے داعش کے نیٹ ورکس کے خلاف اپنی انٹیلی جنس اور انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کو تیز کر دیا ہے، خاص طور پر جو گروپ کی خراسان شاخ سے منسلک ہیں۔

انادولو کے مطابق انٹیلی جنس مانیٹرنگ کے بعد ترک انٹیلی جنس ایجنسی نے افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقے میں مہمت گورن کے ٹھکانے کا پتہ لگایا اور اسے گرفتار کرنے کے بعد ترکی منتقل کر دیا۔

رپورٹ کے مطابق، گورین کی مدد اوزگر نے بھی کی، جسے ’ابو یاسر التون‘ بھی کہا جاتا ہے۔ التون کو اس سے قبل ترکی سے مسلح افراد کو خطے میں لے جانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

پاکستانی حکومت نے ابھی تک ترک خفیہ ایجنسی کے آپریشن پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے اور نہ ہی اس آپریشن میں اس کے کردار کے بارے میں معلومات ظاہر کی ہیں۔

Read Entire Article