خاتون کی قابلِ اعتراض تصاویر پھیلانے والے کو 3 سال قید کا حکم

5 months ago 15

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp
ایڈیشنل سیشن کورٹ اسلام آباد  نے خاتون کی قابلِ اعتراض تصاویر کے کے پھیلاؤ کا الزام ثابت ہونے پر  ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والے شخص کو تین سال کی قید کا حکم دے دیا۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے مقدمہ درج کیا تھا، سنگین مقدمے میں تحقیقات مکمل کر کے اہم کامیابی حاصل کی ہے۔ مجرم نے متاثرہ خاتون کی جنسی ناقابل اعتراض تصاویر اس کے شوہر اور بھائی کو متعدد واٹس ایپ نمبرز کے ذریعے بھیجیں۔  ملزم نے یہ قابلِ اعتراض مواد اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر بھی شئیر کیا، ملزم کو 09 مارچ 2023 کو گرفتار کیا اور اس کے قبضے سے موبائل فون، سم کارڈز اور دیگر ڈیجیٹل شواہد برآمد کیے۔ فورینزک لیبارٹری کی ٹیکنیکل اینالیسس رپورٹس نے ملزم کے خلاف شواہد کو مزید مضبوط کیا۔ ایڈیشنل سیشن جج ویسٹ اسلام آباد عبدالحفیظ میمن نے فیصلہ سنایا، ملزم کو الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کے تحت تین سال قید اور 1 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا دی گئی، عدالت نےمجرم کو 50 ہزار روپے ہرجانہ کی رقم متاثرہ خاتون کو ادا کرنے کا حکم بھی دیا۔
Read Entire Article