وہ موسیقار جس نے آشا کو آشا بنایا

3 hours ago 1

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

جیسے ہی گھنٹی بجی اوپی نیر نے ریسیور اٹھا لیا۔ دوسری طرف معروف گلوکارہ گیتا دت بول رہی تھیں: ’آپ نے مجھے گانے دینا کیوں بند کر دیے؟ کوئی ایسا موقع بتایئے جب آپ کی دھن کے ساتھ میں نے انصاف نہ کیا ہو۔ اس کے باوجود آپ مجھے ایک گیت بھی دینے کو تیار نہیں۔ مجھے وجہ ہی بتا دیجیے  نیر صاحب۔‘

بغیر کوئی لفظ بولے اوپی نیر نے ریسیور پٹخ دیا۔

ان دنوں اوپی نیر کی سماعت اور دھنیں سبھی کچھ آشا بھوسلے کے لیے وقف ہو چکا تھا۔ محبت کی پینگ جھولتے وہ ایسی ہواؤں میں تھے کہ گیتا دت کی پوری بات سننا بھی گوارا نہ کی۔

وہی گیتا دت جنہوں نے شمشاد بیگم کے ساتھ مل کر نیر کی ابتدائی کامیابیوں میں کلیدی ترین کردار ادا کیا۔ بلکہ یہ گیتا دت ہی تھیں جنہوں نے اس وقت اوپی نیر پر اعتماد کیا، جب کوئی دوسرا انہیں جانتا تک نہیں تھا۔

دل سکھ پنچولی کی فلم ’آسمان‘ (1952) اوپی نیر کی پہلی فلم تھی اور اس کا ایک گیت گیتا دت کی آواز میں تھا۔ انہوں نے اپنے منگیتر گرو دت سے کہا کہ یہ شخص بہت اچھا سنگیت دیتا ہے، بہت آگے جائے گا۔

گرو دت نے نیر کو ’باز‘ (1953) میں بطور موسیقار سائن کر لیا۔ اس فلم میں گیتا کے چھ گیت تھے۔ فلم بری طرح ناکام ہوئی لیکن نیر کو گرو دت کی دوسری فلم ’آر پار‘ (1954) مل گئی جس نے تہلکہ مچا دیا۔

اس فلم کے سات گیتوں میں گیتا کی آواز سنائی دیتی ہے۔ اسی فلم نے نیر کو ’ردھمک کنگ‘ بنایا تھا لیکن اب وہ گیتا کو بھول چکے تھے۔

’آر پار‘ کی کامیابی کے باوجود اوپی نیر اگلے 22 ہفتے کام کے انتظار میں بیٹھے رہے۔ پھر انہیں ایک ایسی فلم ملی جس کے موسیقار اور فلم ساز میں جھگڑا ہو چکا تھا۔ ’محبوبہ‘ (1954) میں روشن کو پروڈیوسر نے فارغ کیا تو فطری طور پر سبھی گلوکار اور موسیقار روشن کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔

اوپی نیر کی دھن میں کوئی گلوکارہ جادو جگانے کو تیار نہیں تھی۔ شمشاد بیگم نے کسی کی پروا کیے بغیر حامی بھر لی۔ لیکن کون شمشاد بیگم؟ اب تو نیر کے لیے ایک ہی آواز تھی اور وہ تھی آشا بھوسلے کی۔ آشا اور نیر کی قربتوں کی سب سے بھاری قیمت گیتا اور شمشاد بیگم کو چکانا پڑی۔

اوپی نیر نے پہلی بار آشا کو فلم ’منگو‘ (1954) میں موقع دیا اور اس کے بعد وقتاً فوقتاً ان دونوں کے گیت سنائی دیتے رہے۔ ’سی آئی ڈی‘ (1956) کی کامیابی سے اوپی نیر اس پوزیشن میں آ چکے تھے کہ کسی بھی فلم ساز سے اپنی بات منوا سکیں۔

o p nayyar

موسیقار او پی نیر کی ایک یادگار تصویر (او پی نیر ویب سائٹ)

جب بی آر چوپڑا نے اوپی نیر کو ’نیا دور‘ (1957) کے لیے سائن کیا تو نیر نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ ہیروئن کے لیے آواز آشا بھوسلے کی ہی استعمال ہو گی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ کسی صف اول کی اداکارہ (وجنتی مالا) کے لیے تمام گیت آشا کی آواز میں ریکارڈ کیے گئے۔

فلم تو باکس آفس پر خوب چلی لیکن اصل کامیابی اس کی موسیقی کو ملی۔ اوپر نیر نے اپنا واحد فلم فئیر ایوارڈ جیتا۔ آشا بھوسلے کیریئر کے نازک ترین موڑ پر ایک کڑے امتحان میں سرخرو ہوئیں۔

دراصل نیر نے بہت پہلے سے من بنا لیا تھا کہ انہیں ساری زندگی لتا کے ساتھ کام نہیں کرنا۔ ان کی بقا کا انحصار دیگر آوازوں پر تھا۔ رفیع صاحب تو تھے ہی تھے لیکن کوئی ایسی نسوانی آواز نہیں تھی جو ان کی دھنوں کے ساتھ انصاف کر سکے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شمشاد بیگم اپنا سنہری دور گزار چکی تھیں۔ گیتا دت نہایت عمدہ گلوکارہ ہونے کے باوجود ایک خاص دائرے سے باہر نہیں نکل سکتی تھیں۔ نیر کو بہرحال ایک آواز درکار تھی جو ہر طرح کا گیت پوری ہنرمندی سے گا سکے۔ یہی بات ذہن میں رکھتے ہوئے انہوں نے آشا کو تیار کرنا شروع کیا۔

آشا کے لیے سب سے بڑا خوف لتا کی ہر سو چھائی آواز اور بھاری بھرکم شخصیت تھی۔ آشا کو ان کی منفرد آواز کا احساس دلانا اور اس آواز کو  بھرپور طریقے سے بروئے کار لانا ایک کٹھن مرحلہ تھا لیکن نیر کی محبت اور ضد نے یہ پہاڑ بڑی آسانی سے سر کر لیا۔

1960 کی دہائی میں آ کر آشا کو دیگر موسیقار بھی اچھے گیت دینے لگے لیکن ان کی دوسری اننگز سہی معنوں میں آر ڈی برمن کے ساتھ شروع ہوئی۔ جنہوں نے 70 کی دہائی میں راج کیا۔

بعد میں خیام نے ’امراؤ جان ادا‘ (1981) میں نئی آشا دریافت کی۔ بپی لہری کی پرشور موسیقی میں بھی آشا بھوسلے نے بے شمار گیت گائے۔ آشا کی ان سبھی کامیابیوں کا سہرا اوپی نیر کے سر جاتا ہے۔

50کے اوائل میں آشا بھوسلے پہلے، دوسرے یا تیسرے نمبر پر تو کیا کسی شمار قطار میں ہی نہ تھیں۔ پانچ برس انڈسٹری میں گزارنے کے باوجود ان کا محض ایک گیت (گورے گورے ہاتھوں میں مہندی رچا کے) ہی کچھ مقبولیت حاصل کر سکا تھا۔

ان کے شوہر سارا دن سٹوڈیوز کی خاک چھانتے تاکہ گیت مل سکے اور روزمرہ ضروریات پوری ہوں۔ بی گریڈ فلموں میں بھرتی کے گیت آشا کو مل جاتے۔ اس میں فلم سازوں کا فائدہ یہ ہوتا کہ انہیں بہت کم معاوضہ دینا پڑتا۔ کتنا؟ جو چاہے دے دو صاحب! والی صورت حال۔

 اگلے پانچ برس میں نیر نے تن تنہا انہیں گمنامی کے دھندلکوں سے نکال کر شہرت کی بلندیوں پر لا کھڑا کیا۔ کتنی ہی مدھر آوازیں اس لیے چند فلموں کی مہمان ثابت ہوئیں کہ انہیں نیر جیسا جوہری نہ ملا۔ آشا کے بغیر نیر فلم انڈسٹری میں پوری طرح سے قدم جما چکے تھے۔ لیکن اگر اوپی نیر نہ ہوتے تو آشا بھی آج کہیں نہ ہوتیں۔

جن دنوں لوگوں کو نیر کی دھنیں پاگل کر رہی تھیں تب  وہ خود آشا کی محبت میں دیوانے ہو رہے تھے۔ ایک وارفتگی جو نیر کی موسیقی میں نظر آتی ہے وہی ان کے نجی جیون میں در آئی تھی۔ دونوں کا بیشتر وقت ایک ساتھ گزرنے لگا۔

آشا کی اپنے خاوند گنپت رائے بھوسلے سے علیحدگی ہو چکی تھی۔ وہ اپنے بچوں سمیت اوپی نیر کے ساتھ ایک فلیٹ میں رہنے لگیں۔ انہوں نے کئی بار نیر سے کہا کہ جب ہم ایک ساتھ رہ ہی رہے ہیں تو کیوں نا رسمی طور پر بھی شادی کر لیں۔ نیر ہمیشہ کہتے جب ہم ایک ساتھ رہ ہی رہے ہیں تو اس دکھاوے کی کیا ضرورت۔

ان لمحات کو یاد کرتے ہوئے اوپی نیر نے ایک بار کہا تھا: ’میرا اصل مقابلہ شنکر جیکش کے ساتھ تھا لیکن وہ سارا سال موسیقی ترتیب دیتے تھے۔ ان کے برعکس میں چھ مہینے سنگیت دیتا اور چھ مہینے آشا کے ساتھ کامیابی کا جشن منایا کرتا تھا۔‘

جب آشا اپنے بھائی ہردیناتھ کی شادی پر گئیں تو ان کے گلے میں ایک لاکٹ تھا جس میں اوپی نیر کی تصویر لگی تھی۔ یہ بات ان کے خاندان بالخصوص لتا کو بہت بری لگی۔

دھیرے دھیرے نیر کی محبت اور موسیقی دونوں اپنا جادوئی لمس کھونے لگیں۔ آپس میں دونوں کی تال میل بگڑنے لگی۔ ایک دن کسی بات پر نیر نے آشا کی بیٹی کو تھپڑ جڑ دیا اور آشا اپنے بچوں کو لے کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نیر کی زندگی سے چلی گئیں۔

’پھاگن‘ (1958) سے شروع ہونے والی یہ محبت 14 برس کے نرم گرم تجربات کے بعد ’پران جائے پر وچن نہ جائے‘ (1974)کے ایک انتہائی بامعنی گیت پر ختم ہو گئی: ’چین سے ہم کو کبھی آپ نے جینے نہ دیا۔‘

آشا بھوسلے کو جب اس گیت پر بہترین گلوکارہ کا فلم فیئر ایوارڈ ملا تو وہ لینے نہیں آئیں۔ گویا یہ اعلان تھا کہ اب ہماری کہانی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم، لیکن ایسا تھوڑی ہوتا ہے۔ نیر اور آشا کی محبت ان تمام گیتوں میں گونجتی رہے گی، جو ہم آپ سنتے ہوئے اپنی اپنی محبتوں کو یاد کرتے ہیں۔

نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

Read Entire Article