اچھا رشتہ چاہیے تو پڑھو

2 hours ago 3

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

کچھ سال پہلے تک خاندان کے بڑے اپنے جاننے والوں سے کہتے تھے کہ وہ ان کے بچوں کے لیے اچھے رشتے نظر میں رکھیں۔ ساتھ ہی ساتھ اپنے علاقے میں موجود رشتہ کروانے والوں یا میرج بیوروز سے بھی رابطہ کرتے تھے اور اپنے بچوں کے لیے مناسب رشتے ڈھونڈنے کا کہتے تھے۔

اب رشتہ کروانے والے تقریباً غائب ہو چکے ہیں۔ میرج بیوروز اپنا اعتماد کھو چکے ہیں اور لوگ کسی کے معاملے میں پڑنے سے احتراز کر رہے ہیں۔ ایسے میں لوگ اپنے بچوں کے رشتے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر تلاش کر رہے ہیں۔

وہ اپنے بچوں کی باقاعدہ پروفائل بناتے ہیں، جس میں ان کے نام کے ساتھ ساتھ قد، رنگ، وزن، شہر، تعلیم، کاروبار سمیت مذہبی رجحان تک لکھا ہوتا ہے۔

پروفائل کے آخری حصے میں مطلوبہ رشتے کی شرائط بھی درج ہوتی ہیں۔ عموماً لڑکیوں کی پروفائل میں کم شرائط درج ہوتی ہیں۔ لڑکی والوں کو بس ایک اچھا خاندان، نیک سیرت، پڑھا لکھا، برسرِ روزگار لڑکا درکار ہوتا ہے، تاہم کسی پروفائل میں مزید شرائط بھی لکھی ہوتی ہیں۔

دوسری طرف لڑکوں کی پروفائل میں شرائط کا خانہ قدرے طویل اور دلچسپ ہوتا ہے۔ لڑکی خوبصورت ہو، لمبی ہو، گوری ہو، پتلی ہو، خوش سیرت ہو، فلاں شہر میں رہتی ہو، کھانا بنانے میں ماہر ہو، سلائی کڑھائی بھی کر لیتی ہو۔ ساتھ ہی ساتھ شرمیلی بھی ہو، نماز روزے کی پابند ہو، رسم و رواج سے واقف ہو۔ کسی بڑے شہر کے پوش علاقے میں مقیم اچھے خاندان سے تعلق رکھتی ہو۔ تعلیم یافتہ بھی ہو لیکن بس تعلیم یافتہ نہ ہو، مخصوص جامعات سے مطلوبہ ڈگری کر رکھی ہو۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ شرائط کافی سخت ہوتی ہیں۔ ان میں ردو بدل کی گنجائش صرف اس صورت میں نکلتی ہے جب لڑکی کے پاس کسی اچھے ملک کا پاسپورٹ موجود ہو۔ ورنہ پروفائل میں کوئی ایک چیز بھی ان کی مرضی کی نہ ہو تو فوراً معذرت کر لیتے ہیں۔

پہلے پڑھائی کا مقصد یہ تھا کہ انسان کچھ سیکھے، اپنے پاؤں پر کھڑا ہو، روزگار کمائے اور اپنی زندگی بنائے۔ اب اس کا ایک بنیادی مقصد اچھا رشتہ حاصل کرنا بھی بن گیا ہے۔ سو اگر اچھا رشتہ چاہیے تو پڑھیں اور اگر بہت اچھا رشتہ چاہیے تو اچھی اور مہنگی یونیورسٹی سے پڑھیں، اچھا جی پی اے لائیں اور بہتر ہے کہ صرف وہ ڈگری کریں جو آج کل رشتہ مارکیٹ میں چل رہی ہے، یعنی میڈیکل اور اس سے منسلک ڈگری، انجینیئرنگ، فنانس یا اکاؤنٹنگ۔

اے آئی، ڈیٹا سائنس اور روبوٹکس کی مانگ ابھی رشتہ مارکیٹ میں شروع نہیں ہوئی اس لیے ایسی ڈگریاں ذرا دیکھ بھال کر کریں۔ میڈیا کی ڈگری سے بھی دور رہیں کہ یہ انسان کو شرافت سے دور لے جاتی ہے اور لڑکے والوں کو لڑکی کا شرافت سے دور رہنا قبول نہیں ہے۔

یہ شرائط پڑھتے ہوئے اپنے اردگرد ہرگز نظر نہ ڈالیں جہاں ڈاکٹر صاحب سادہ بی اے پاس کے ساتھ گھر بسائے بیٹھے ہیں اور انجینیئر صاحب ایسی خاتون کے ساتھ نباہ کر رہے ہیں جنہوں نے کبھی یونیورسٹی کی شکل ہی نہیں دیکھی۔ نہ ہی لیبر فورس سروے دیکھیں جس کے مطابق پاکستان کی لیبر فورس میں شامل خواتین کُل آبادی کا صرف 21 فیصد حصہ ہیں۔

نہ یہ سوچیں کہ ایم بی بی ایس یا کلینیکل سائیکولوجی کی ڈگری آخر شادی کے رشتے میں آپ کی مدد کیسے کر سکتی ہے۔ نہ یہ سوچیں کہ مطلوبہ ڈگری کے باوجود آپ کے سانولے رنگ کی وجہ سے آپ کا رشتہ کیوں نہیں ہو پا رہا جبکہ آپ کی متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی گوری کلاس فیلو ڈگری مکمل ہونے سے پہلے ہی ایک اچھے سے خاندان کی بہو بن چکی ہے۔

یہ قسمت کے فیصلے ہیں۔ جس کا جہاں نصیب لکھا ہو، وہ وہیں پہنچ جاتا ہے۔ آپ البتہ کیریئر نامی جگہ ہر جانے سے پرہیز کریں۔ ایسا کرنا آپ کا رشتہ بننے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔

جامعات کو بھی اس حوالے سے طالبات کی مدد کرنی چاہیے۔ وہ ان کے لیے ایسی فیکلٹی تعینات کریں جو انہیں اچھی بہو، بیوی اور ماں بننا سکھائے۔

فیکلٹی کی تعیناتی کے وقت امیدوار کی ازدواجی حیثیت، شادی کی مدت اور گھر بسانے کے تجربے کو بھی باقاعدہ اہلیت کا حصہ بنائیں۔ بہتر ہو گا کہ کم از کم دس سال سے شادی شدہ امیدواروں کو ترجیح دی جائے تاکہ وہ طلبہ کو شادی نبھانے کے عملی گُر سکھا سکیں۔

ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو بھی بدلتے ہوئے معاشرتی تقاضوں کا ادراک کرتے ہوئے جامعات میں ایسے کورسز متعارف کروانے چاہییں، جو طالبات کو اچھے رشتے کے لیے اپنی پروفائل مزید بہتر کرنے میں مدد دے سکیں۔

آخر ہمارا ڈگری کرنے کا مقصد شعور حاصل کرنا، تہذیب سیکھنا، اپنے شعبے میں ماہر بننا اور دنیا کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا نہیں بلکہ ایک اچھے رشتے کا اہل بننا ہے؟

نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

اے آئی، ڈیٹا سائنس اور روبوٹکس کی مانگ ابھی رشتہ مارکیٹ میں شروع نہیں ہوئی اس لیے ایسی ڈگریاں ذرا دیکھ بھال کر کریں۔ میڈیا کی ڈگری سے بھی دور رہیں کہ یہ انسان کو شرافت سے دور لے جاتی ہے۔
جمعرات, اکتوبر 1, 2026 - 08:00
Main image: 

<p class="rteright">اب لوگ اپنے بچوں کے رشتے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر تلاش کر رہے ہیں&nbsp;(پیکسلز)</p>

type: 
SEO Title: 
اچھا رشتہ چاہیے تو پڑھو
Read Entire Article
Chatroom