انڈیا ’جہنم کا گڑھا‘: انڈین وزارت خارجہ نے ٹرمپ کا شیئر کردہ تبصرہ مسترد کر دیا

2 hours ago 1

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

انڈیا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شیئر کیے گئے اس تبصرے کو ’لاعلمی پر مبنی‘ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے، جس میں ملک کو ’جہنم کا گڑھا‘ کہا گیا۔

انڈیا کا کہنا ہے کہ یہ تبصرہ نامناسب تھا اور دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات سے مطابقت نہیں رکھتا۔

یہ تبصرہ قدامت پسند تجزیہ کار مائیکل سیویج نے ’دی سیویج نیشن ٹاک‘ ریڈیو شو کی ایک قسط میں کیا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو بغیر کسی تبصرے کے اپنے ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ پر شو کا ٹرانسکرپٹ پوسٹ کر دیا۔

سیویج نے کہا: ’یہاں ایک بچہ فوراً شہری بن جاتا ہے اور پھر وہ چین یا انڈیا یا کرہ ارض کے کسی اور جہنم زار سے پورے خاندان کو اندر لے آتے ہیں۔

’آج آنے والے تارکین وطن کے طبقے میں اس ملک کے لیے لگ بھگ کوئی وفاداری نہیں ہے۔ ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا تھا۔ نہیں، وہ آج کے یورپی نژاد امریکیوں اور ان کے آباؤ اجداد کی طرح نہیں ہیں۔‘

روئٹرز فوری طور پر سیویج سے رابطہ نہیں کر سکا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ میں پیدائشی حقِ شہریت کو محدود کرنے کے لیے ایک ہدایت نامہ جاری کیا ہے۔ اس اقدام کو امریکی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ قبل ازیں رواں ماہ انہوں نے عدالت کے ایک تاریخی دورے میں اس مسئلے پر ہونے والی سماعت میں شرکت کی۔

انڈیا کی وزارت خارجہ نے جمعرات کو رات گئے ان تبصروں پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔

indian mofa.jpg

انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ایک بیان میں کہا کہ ’یہ ریمارکس واضح طور پر لاعلمی پر مبنی، نامناسب اور بھونڈے ہیں۔ وہ یقینی طور پر انڈیا امریکہ تعلقات کی حقیقت کی عکاسی نہیں کرتے، جو طویل عرصے سے باہمی احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں۔‘

نئی دہلی میں امریکی سفارت خانے نے کہا: ’صدر نے کہا ہے کہ انڈیا ایک عظیم ملک ہے جس کے اعلیٰ عہدے پر میرا ایک بہت اچھا دوست موجود ہے۔‘

چین کی وزارت خارجہ نے تبصرے کے لیے روئٹرز کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انڈیا کی مرکزی اپوزیشن کانگریس پارٹی نے ’جہنم زار‘ کے تبصرے کو ’انتہائی توہین آمیز اور انڈیا مخالف‘ قرار دیا اور کہا کہ ’اس سے ہر انڈین کو تکلیف پہنچی ہے۔‘

 پارٹی نے ایکس پر کہا کہ ’وزیراعظم نریندر مودی کو یہ معاملہ امریکی صدر کے ساتھ اٹھانا چاہیے اور سخت اعتراض درج کروانا چاہیے۔‘

انڈین حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق لگ بھگ 55 لاکھ انڈین نژاد افراد امریکہ میں رہتے ہیں۔ انڈین نژاد امریکی اور چینی نژاد امریکی شہری امریکہ میں ایشیائی نژاد افراد کے دو سب سے بڑے گروہ ہیں۔ 

ٹرمپ کی پہلی مدت کے دوران ٹرمپ اور مودی کے درمیان گرم جوشی پر مبنی تعلقات تھے، لیکن گذشتہ سال انڈیا پر امریکہ کی جانب سے سب سے زیادہ ٹیرف لگائے جانے کے بعد تعلقات سرد پڑ گئے، جن میں سے بہت سے اس سال واپس لے لیے گئے۔

 انڈیا اور امریکہ اب ایک تجارتی معاہدے پر کام کر رہے ہیں، جس کا مقصد ٹیرف میں کسی بھی نئے اضافے کو روکنا اور ایک دوسرے کے ساتھ تجارتی فروخت کو بڑھانا ہے۔

Read Entire Article