وینزویلا آپریشن: امریکی فوجی پر شرط لگا کر لاکھوں ڈالر کمانے کا الزام

1 hour ago 1

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

امریکی محکمہ انصاف کے مطابق ایک امریکی فوجی پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے وینزویلا کے سابق صدر نکولس مادورو کو گرفتار کرنے کے امریکی آپریشن سے متعلق خفیہ معلومات استعمال کرتے ہوئے آن لائن پیشگوئی مارکیٹس میں شرط لگائی۔

نارتھ کیرولائنا کے شہر فیئٹ وِل سے تعلق رکھنے والے امریکی فوج کے 38 سالہ اہلکار گینن کین وان ڈائک پر الزام ہے کہ انہوں نے آن لائن پلیٹ فارم پولی مارکیٹ استعمال کرتے ہوئے چار لاکھ ڈالر سے زائد کمائے۔ 

انہوں نے وینزویلا کے دارالحکومت کراکس میں امریکی فوج کی آمد اور مادورو کی معزولی سے متعلق نتائج پر شرط لگائی۔

یہ ایک ایسا آپریشن تھا جس کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد میں وہ خود بھی شامل تھے۔

امریکی فوج نے تین جنوری کو کراکس میں کارروائی کی، جس کے دوران مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو گرفتار کر کے نیویارک منتقل کیا گیا تاکہ وہ منشیات سمگلنگ کے الزامات کا سامنا کریں۔

قائم مقام امریکی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانش نے کہا: ’ہماری مسلح افواج کے مرد و خواتین پر اپنے مشن کی تکمیل کے لیے خفیہ معلومات کے حوالے سے اعتماد کیا جاتا ہے اور انہیں ان انتہائی حساس معلومات کو ذاتی مالی فائدے کے لیے استعمال کرنے سے منع کیا گیا ہے۔‘

پولی مارکیٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ اس نے مشکوک صارف کی نشاندہی کر کے محکمہ انصاف کو آگاہ کیا اور تحقیقات میں تعاون کیا۔

کمپنی کے مطابق: ’انسائیڈر ٹریڈنگ کی پولی مارکیٹ پر کوئی جگہ نہیں اور آج کی گرفتاری اس بات کا ثبوت ہے کہ نظام کام کر رہا ہے۔‘

وان ڈائک پر وائر فراڈ، غیر قانونی مالی لین دین اور کموڈیٹی ایکسچینج ایکٹ کی خلاف ورزی کے تین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

یہ مقدمہ اس بات کی تازہ مثال ہے کہ اندرونی معلومات کو شرط لگانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، خاص طور پر ٹرمپ انتظامیہ کے دوسرے دور میں ہونے والی کارروائیوں سے متعلق۔

اس سال کے آغاز میں بھی پولی مارکیٹ کے چھ اکاؤنٹس نے تقریباً 12 لاکھ ڈالر کمائے تھے، جب انہوں نے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے دن، 28 فروری کو امریکہ کے ایران پر حملے کی پیشگوئی پر شرط لگائی تھی، تاہم اس معاملے میں اب تک کوئی گرفتاری نہیں ہوئی اور نہ ہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یا وائٹ ہاؤس کے کسی اہلکار کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت سامنے آیا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’بدقسمتی سے پوری دنیا کسی حد تک ایک کیسینو بن چکی ہے۔۔۔ یورپ سمیت ہر جگہ لوگ اس طرح کی شرط بازی کر رہے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’وہ ذاتی طور پر کبھی اس کے حق میں نہیں تھے۔‘

مفادات کا ٹکراؤ

ڈیموکریٹک قانون سازوں اور ناقدین نے ٹرمپ اور ان کے خاندان پر دوسرے دورِ صدارت کے آغاز سے ہی مفادات کے ٹکراؤ کے الزامات عائد کیے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سینیٹر برنی سینڈرز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’ٹرمپ خاندان نے صدارت سے چار ارب ڈالر کمائے‘ اور اسے’بے مثال لوٹ مار پر مبنی حکومت‘ قرار دیا۔

مارچ میں ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر ایران کے ساتھ ہونے والی ’انتہائی مثبت‘ بات چیت کا ذکر کیا، جس کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی اور سٹاک مارکیٹ میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ 

ایک مارکیٹ آپریٹر کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس اعلان سے پہلے فیوچرز مارکیٹ میں کی جانے والی بڑی تعداد میں سودوں کے باعث کچھ افراد نے کروڑوں ڈالر کا ممکنہ منافع کمایا۔

ٹرمپ خاندان کے ارکان نے کرپٹو کرنسیز سے بھی کروڑوں ڈالر کے منافع حاصل کیے ہیں، جو ایک ایسا شعبہ ہے جسے صدر ٹرمپ نے خود ڈی ریگولیٹ کرنے کی کوشش کی ہے۔

ٹرمپ کے بیٹے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر 1789 کیپیٹل کے پارٹنر بھی ہیں، جس نے گذشتہ سال پولی مارکیٹ میں کروڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی، جس کے بعد اس پیشگوئی مارکیٹ نے انہیں کمپنی کا مشیر مقرر کر دیا۔

اگر امریکی فوجی وان ڈائک، جنہوں نے پولی مارکیٹ پر شرطیں لگائیں، تمام الزامات میں مجرم ثابت ہوتے ہیں تو انہیں زیادہ سے زیادہ 50 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

Read Entire Article