پاکستان کے ایوان زریں قومی اسمبلی سے 27 ویں آئینی ترمیم منظور ہونے کے بعد آج جمعرات کو سینیٹ میں دوبارہ پیش کی جا رہی ہے۔
گذشتہ روز قومی اسمبلی میں 27 ویں آئینی ترمیم پیش کی گئی تو اس میں ایک نئی ترمیم شامل تھی جو آرٹیکل چھ سے متعلق تھی۔ اب آئینی ترمیم میں آرٹیکل چھ کی شق دو میں ’وفاقی آئینی عدالت‘ کے لفظ کا اضافہ کیا گیا ہے۔
آئین کے آرٹیکل چھ میں آئین معطل کرنے اور آئین شکنی کو سنگین غداری قرار دیا جا چکا ہے جسے کوئی بھی عدالت جائز قرار نہیں دے سکتی۔ سینیٹ میں دو تہائی اکثریت سے جو ترمیم منظور کی گئی اس میں ’ہائی کورٹ‘ اور ’سپریم کورٹ‘ کے ساتھ ’آئینی عدالت‘ کا نام شامل یا اس کا اضافہ نہیں تھا لہٰذا ترمیم کو آج دوبارہ سینیٹ میں پیش کیا جائے گا۔
آئین میں کوئی بھی تبدیلی، حتی کہ وہ ’نقطہ‘ ہی کیوں نہ ہو، کو ترمیم کے ذریعہ پارلیمان کے دونوں ایوانوں سینیٹ اور قومی اسمبلی سے منظور کرانا ضروری ہوتا ہے اور اس کے لیے دونوں سے دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔
گذشتہ روز جہاں قومی اسمبلی میں 27 ویں آئینی ترمیم کے حق میں 234 ارکان نے ووٹ ڈالے وہاں آج یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ سینیٹ یہ نمبر کیسے پورا کیا جائے گا؟
آئین پاکستان کے مطابق سینیٹ میں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے 64 ارکان کے ووٹ درکار ہوتے ہیں اور یہ نمبر سینیٹ کے اس سے قبل ہونے والے اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں کے دو ارکان نے ووٹ دے کر پورا کیا۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر سیف اللہ ابڑو اور جمعیت علمائے اسلام کے احمد خان نے 27 ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ ڈالے تھے۔ ووٹ دینے کے بعد سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے ایوان میں تقریر کے دوران استعفی دے دیا تھا جبکہ سینیٹر احمد خان کو ان کی جماعت نے پارٹی سے نکال دیا تھا۔
پارلیمانی قواعد و ضوابط کے مطابق اگر کوئی رکن ایوان میں سب کے سامنے استعفیٰ دے تو سینیٹ یا قومی اسمبلی سیکریٹریٹ اس کا باضابطہ نوٹیفیکیشن جاری کرتا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس صورت حال میں رکن کو استعفے کی تصدیق کے مرحلے سے نہیں گزرنا ہوتا۔ اگر کوئی تحریری طور پر استعفی دیتا ہے تو قواعد کے مطابق چئیرمین سینیٹ یا سپیکر قومی اسمبلی، سینیٹر یا رکن قومی اسمبلی کو بلا کر استعفے کی تصدیق کرتے ہیں اس کے بعد ہی رکن کو ڈی سیٹ کرنے یا استعفے کی منظوری کا نوٹیفیکیشن جاری ہونا ہوتا ہے۔
سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے ایک بیان میں کہا کہ ان کے استعفے کے بعد سینیٹ سیکریٹریٹ نے تاحال انہیں ڈی سیٹ کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری نہیں کیا۔
یاد رہے اس سے قبل بلوچ نیشنل پارٹی کی سینیٹر نسیمہ احسان نے 26 ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ ڈالا تھا جس کے بعد انہیں پارٹی سے نکال دیا گیا تھا۔ تاہم نسیمہ احسان نے دو روز قبل 27 ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ ڈالا ہے۔
اس طرح ممکن ہے کہ سینیٹ میں دوبارہ وہی ارکان 27 ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ ڈالیں جنہوں نے دو روز قبل ایوان میں اس کی حمایت کی تھی۔
صدر مملکت کے دستخط کے بعد 27 ویں آئینی ترمیم باقاعدہ قانون کی شکل اختیار کرے گی۔
.png)
5 months ago
31



English (US) ·