یو ایس ایس رفال ایرانی بندرگاہ کی جانب جانے کی کوشش کرنے والے بحری جہاز کے قریب موجود ہے، یہ تصویر 24 اپریل 2026 کو سینٹ کام کی جانب سے جاری کی گئی (روئٹرز)
ایران نے آج کہا ہے کہ گذشتہ چند گھنٹوں میں کوئی تجارتی جہاز یا آئل ٹینکرز آبنائے ہرمز سے نہیں گزرا، اس بارے میں امریکی بیان غلط ہیں۔
ارنا پر موجود پاسداران انقلاب کی سٹیٹمنٹ میں پیر کو کہا گہا ہے کہ ’گذشتہ گھنٹوں میں کوئی تجارتی جہاز یا آئل ٹینکرز آبنائے ہرمز سے نہیں گزرے اور امریکی حکام کے دعوے بے بنیاد اور سراسر غلط ہیں نیز دیگر کوئی بھی بحری نقل و حرکت ان اصولوں کے منافی ہے۔‘
IRGC: No commercial vessels or oil tankers have passed through the Strait of Hormuz in the past several hours, and the claims made by US officials are baseless and completely false.
— IRNA News Agency (@IrnaEnglish) May 4, 2026پیر کو ہی امریکہ کی مرکزی کمان (CENTCOM) نے کہا تھا کہ امریکی بحریہ کے کسی جہاز کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ امریکی افواج پراجیکٹ فریڈم کی حمایت کر رہی ہیں اور ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی کو نافذ کر رہی ہیں۔
CLAIM: Iranian state media claims that Iran's Islamic Revolutionary Guard Corps hit a U.S. warship with two missiles.
TRUTH: No U.S. Navy ships have been struck. U.S. forces are supporting Project Freedom and enforcing the naval blockade on Iranian ports. pic.twitter.com/VFxovxLU6G
قبل ازاں ایرانی نیوز ایجنسی فارس نے رپورٹ کیا کہ ایک امریکی جنگی جہاز کو آبنائے ہرمز کے جنوبی داخلی مقام پر واقع بندرگاہ جاسک کے قریب دو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد وہ آبنائے عبور کرنے کی کوشش ترک کرتے ہوئے واپس مڑ گیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دوسری جانب (روئٹرز) امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’امریکہ پیر کی صبح سے ایک آپریشن شروع کرے گا تاکہ آبنائے میں پھنسے جہازوں کو ’انسانی ہمدردی‘ کے تحت نکالا جا سکے۔‘ جس کے بعد ایرانی بحریہ نے بیان دیا (ارنا) کہ اس نے آبنائے ہرمز میں ’دشمن جنگی جہازوں کے داخلے کو تیز اور فیصلہ کن وارننگ دے کر روک دیا ہے۔‘
.png)
2 hours ago
1



English (US) ·