کیا ہم امن کے سفیر ہیں

2 days ago 2

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp
اسلام آباد کے کسی پُرسکون ہوٹل کے بند کمروں میں سفارتکاری جاری ہے۔ میز پہ رکھے شیشے کے جگ میں پانی شفاف ہے مگر زیر بحث موضوع دھندلے۔ کہا جا رہا ہے کہ ہم ایک بار پھر امن کے سفیر کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایک ایسے خطے میں جہاں بارود کی بو ہوا میں گھلی ہوئی ہے، ہم ثالثی کا پرچم اٹھائے کھڑے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں، ہم نے اس سے پہلے بھی بڑی طاقتوں کے بیچ پیغام رسانی کی ہے، خاموشی سے بغیر کسی شور کے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ان سفارتی کامیابیوں کا سایہ ہمارے اپنے گھر تک کبھی پوری طرح نہیں پہنچا۔ پوش ایریازکی روشن سڑکوں پر سائرن کی آوازیں گونج رہی ہیں اور سیکیورٹی کے حصار تنگ کیے جا رہے ہیں، شہروں کے غریب حصوں میں اندھیرے کا راج ہے۔ کراچی کے عوام پریشان ہے کیونکہ کئی کئی گھنٹے کی لوڈشیڈنگ شہر میں کی جاتی ہے، لائٹ آتی ہے تو گیس چلی جاتی ہے ،کہیں پانی کے لیے قطار لگی ہے۔ یہ وہ مسائل ہیں جن کا سامنا کراچی کے شہریوں کا مقدر بن گیا ہے۔ پانچ چھ سال سے پورے کراچی کی سڑکوں کو کھود دیا گیا ہے اور کام ہے کہ کسی طرح مکمل نہیں ہورہا۔ دنیا کے دوسرے ممالک میں اتنے عرصے میں بڑے بڑے منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچتے ہیں۔ اس صورتحال کی وجہ سے شہریوں کو بہت تکلیف کا سامنہ ہے۔ عجیب تضاد ہے ہم دنیا کو امن کا راستہ دکھانے نکلے ہیں مگر اپنے ہی لوگوں کے لیے سکون کا ایک لمحہ فراہم نہیں کر پا رہے۔ سوال یہ نہیں کہ ہم ثالثی کیوں کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم اپنے ہی لوگوں کے زخموں پر مرہم کیوں نہیں رکھ پا رہے۔کہا جاتا ہے کہ عالمی سیاست میں کردار ادا کرنا وقار کی علامت ہے ، یقینا ہے۔ مگر کیا وقار بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت سے طے ہوتا ہے؟ کیا ایک ملک کی عزت اس کے سفیروں کے بیانات سے بنتی ہے یا اس کے شہریوں کی آنکھوں میں جھلکتی امید سے۔ اس سرزمین پہ امید کا چراغ مدھم پڑتا جا رہا ہے۔ مہنگائی نے زندگی کو ایک مسلسل آزمائش بنا دیا ہے۔ مزدور صبح گھر سے نکلتا ہے تو اسے معلوم نہیں ہوتا کہ شام کو روٹی کا بندوبست ہوگا یا نہیں۔ کسان اپنے کھیت کو دیکھتا ہے تو اسے بارش سے زیادہ قیمتوں کا خوف ہوتا ہے۔ نوجوان ڈگری ہاتھ میں لیے دروازے کھٹکھٹاتا ہے مگر ہر دروازے کے پیچھے خاموشی ہے۔ ایسے میں جب ہم عالمی تنازعات کے بیچ ثالثی کا کردار ادا کرتے ہیں تو یہ سوال اور بھی شدت سے ابھرتا ہے کیا ہم واقعی ایک خودمختار ملک ہیں یا صرف بڑی طاقتوں کے کھیل میں ایک مہرہ۔ یہ سوال نیا نہیں تاریخ کے اوراق میں بار بار یہ سوال ابھرتا رہا ہے۔ کبھی ہم نے کسی جنگ میں فرنٹ لائن کا کردار ادا کیا ،کبھی کسی امن معاہدے کے لیے راستہ ہموار کیا۔ ہر بار ہمیں بتایا گیا کہ یہ قومی مفاد ہے، مگر اس قومی مفاد کا پھل عام آدمی کو کبھی نہیں ملا۔ اسلام آباد کے ایوانوں میں جب عالمی امن کی بات ہوتی ہے تو شاید کسی کو یاد نہیں رہتا کہ اس ملک کے دور دراز علاقوں میں اسکول نہیں ،اسپتال نہیں روزگار نہیں۔ وہاں ریاست صرف ایک خبر کی صورت میں پہنچتی ہے، کبھی کسی آپریشن کی ،کبھی کسی منصوبے کی اور اکثر کسی وعدے کی۔ وعدہ وہ کرنسی ہے جو یہاں سب سے زیادہ گردش میں ہے مگر سب سے کم قابل اعتبار بھی۔یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ ثالثی ہمیں عالمی سطح پر ایک نئی پہچان دے گی۔ ممکن ہے ایسا ہو مگر ایک سوال پھر بھی باقی رہتا ہے کیا پہچان باہر سے ملتی ہے یا اندر سے جنم لیتی ہے؟ ایک ملک کی اصل پہچان اس کے شہریوں کے چہروں پر لکھی ہوتی ہے، اگر وہ چہرے تھکے ہوئے ہوں، آنکھوں میں بے یقینی ہو اور دلوں میں خوف تو کوئی بھی سفارتی کامیابی اس حقیقت کو زیادہ دیر تک نہیں چھپا سکتی۔یہاں مسئلہ صرف بجلی یا گیس کا نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ امارت اور غربت کے درمیان ایک خاموش فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ ایک طرف فیصلے ہیں، دوسری طرف ان فیصلوں کے اثرات۔ ایک طرف بیانات ہیں دوسری طرف حسرتیں۔ کبھی کبھی یوں لگتا ہے کہ ہم دو مختلف ملکوں میں رہ رہے ہیں۔ ایک وہ جو عالمی خبروں میں نظر آتا ہے، متحرک اہم سفارتی طور پر فعال اور دوسرا وہ جو گلیوں بازاروں اور گھروں میں سانس لیتا ہے، تھکا ہوا پریشان اور اکثر نظرانداز۔یہ دہرا پن زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتا۔امن صرف سرحدوں کے پار ہونے والے معاہدوں کا نام نہیں۔ امن اس لمحے کا نام ہے جب ایک ماں کو یہ یقین ہو کہ اس کے بچے کو کل بھوکا نہیں سونا پڑے گا۔ امن اس سکون کا نام ہے جو ایک مزدور کو اس وقت ملتا ہے جب وہ دن بھر کی محنت کے بعد گھر لوٹتا ہے اور اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی محنت رائیگاں نہیں گئی، اگر یہ امن ہمارے اپنے گھروں میں موجود نہیں تو دنیا کے لیے امن کا پیغام ایک ادھورا خواب ہے۔ سفارتکاری یقینا ضروری ہے۔ دنیا کے تنازعات میں مثبت کردار ادا کرنا بھی اہم ہے، مگر اس سے زیادہ اہم وہ خاموش ذمے داری ہے جو ریاست اپنے شہریوں کے لیے اٹھاتی ہے۔ یہ ذمے داری صرف وعدوں سے پوری نہیں ہوتی نہ ہی بیانات سے۔ یہ اس وقت پوری ہوتی ہے جب اندھیروں میں روشنی پہنچتی ہے جب بھوک کے مقابلے میں روٹی جیتتی ہے اور جب خوف کے مقابلے میں اعتماد۔آج جب ہم ایک بار پھر عالمی سطح پر امن کے سفیر بننے کی کوشش کر رہے ہیں شاید ہمیں ایک لمحے کے لیے رک کر اپنے اندر بھی جھانکنا چاہیے،کیونکہ اگر ہمارے اپنے گھر اندھیروں میں ڈوبے ہوں تو ہم دوسروں کے لیے چراغ کیسے جلائیں گے۔ شاید سب سے بڑا سوال یہی ہے،کیا ہم واقعی امن کے سفیر ہیں۔
Read Entire Article