شمالی لندن میں بدھ کو دو یہودی افراد چاقو کے حملے میں زخمی ہوگئے، جسے پولیس نے ’دہشت گردی‘ کا واقعہ قرار دیا ہے۔
شاہ چارلس سوم، وزیراعظم کیئر سٹارمر اور لندن کے میئر صادق خان نے گولڈرز گرین میں ہونے والے اس ’ہولناک‘ حملے کی مذمت کی قیادت کی، جہاں بڑی یہودی آبادی آباد ہے۔
پولیس نے کہا کہ واقعے کے بعد ایک 45 سالہ ایک شخص کو گرفتار کیا گیا، جس نے پولیس افسران کو بھی چاقو مارنے کی کوشش کی تھی جبکہ دونوں متاثرین جن کی عمریں 76 اور 34 سال ہیں، ہسپتال میں مستحکم حالت میں ہیں۔
جائے وقوعہ پر گفتگو کرتے ہوئے میٹروپولیٹن پولیس کمشنر مارک راؤلی نے کہا کہ مشتبہ شخص ماضی میں ’سنگین تشدد اور ذہنی صحت کے مسائل‘ کا شکار رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: ’میں واضح کر دوں: یہ ایک برادری پر حملہ ہے اور ایک برادری پر حملہ لندن کی تمام برادریوں پر حملہ ہے۔‘
برطانیہ کی انسداد دہشت گردی پولیس کے سربراہ اسسٹنٹ کمشنر لارنس ٹیلر نے کہا کہ چاقو زنی کے اس واقعے کو ’اب باضابطہ طور پر دہشت گردی کا واقعہ قرار دے دیا گیا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ انسداد دہشت گردی افسران اور دارالحکومت کی میٹروپولیٹن پولیس ’سکیورٹی اداروں کے ساتھ بھی کام کر رہے ہیں تاکہ ہمارے پاس مکمل انٹیلی جنس تصویر موجود ہو۔‘
![]()
29 اپریل 2026 کو شمالی لندن میں دو یہودی افراد پر چاقو کے حملے کے بعد فارنزک تفتیش کار اور پولیس افسران جائے وقوعہ پر تعینات ہیں (روئٹرز)
مرکزی لندن میں میٹروپولیٹن پولیس کے نیو سکاٹ لینڈ یارڈ ہیڈکوارٹرز کے باہر پولیس سربراہ لارنس ٹیلر نے کہا: ’تحقیقات کی ایک جہت یہ بھی ہے کہ آیا یہ حملہ جان بوجھ کر یہودی برادری کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا۔‘
یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق صبح 11 بجے کے کچھ دیر بعد پیش آیا، جب شومریم یہودی محلہ نگرانی گروپ نے سب سے پہلے اطلاع دی کہ ایک چاقو بردار شخص ’عوام میں موجود یہودی افراد کو چاقو مارنے کی کوشش کر رہا تھا۔‘
شومریم کے ارکان نے پولیس پہنچنے سے پہلے مشتبہ شخص کو قابو کرنے میں مدد دی، جس کے بعد پولیس نے برقی جھٹکا دینے والا ہتھیار استعمال کر کے اسے بے بس کر دیا۔
زخمیوں کو موقع پر ہاتزولا نامی یہودی رضاکار ایمبولینس سروس نے بھی طبی امداد دی۔
شومریم کے رضاکار سٹیفن بیک نے بدھ کو گولڈرز گرین میں اے ایف پی کو بتایا: ’ہمیں خوف میں کیوں جینا پڑتا ہے؟ ہم اپنی زندگیاں جتنا ممکن ہو معمول کے مطابق گزارنے کی پوری کوشش کرتے ہیں، لیکن ہر دن ایک جدوجہد ہے۔‘
وزیراعظم کیئر سٹارمر نے واقعے کے بعد ایکس پر کہا: ’ہماری یہودی برادری پر حملے برطانیہ پر حملے ہیں، ساتھ ہی انہوں نے عہد کیا کہ ’ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔‘
علاقے کی رکن پارلیمان سارہ سیکمین کے مطابق برطانوی رہنما بدھ کو سینیئر وزرا اور حکام کا ہنگامی اجلاس طلب کریں گے۔
بادشاہ چارلس سوم، جو امریکہ کے سرکاری دورے پر ہیں، نے بکنگھم پیلس کی جانب سے جاری بیان میں کہا کہ وہ ’شدید تشویش‘ میں مبتلا ہیں۔
دوسری جانب لندن کے میئر صادق خان نے یہود دشمن حملوں کے سلسلے کو ’چونکا دینے والا‘ قرار دیا۔
انہوں نے ایکس پر کہا: ’معاشرے میں یہود دشمنی کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔‘
برطانیہ کے چیف ربی افرائیم مروِس نے کہا کہ برادری ’مضبوط‘ اور ’ثابت قدم‘ ہے، لیکن ’ایسے حملے اب رکنے چاہییں۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے موقعے پر صحافیوں سے کہا: ’زیرو ٹالرنس، یہی ہماری برادری چاہتی ہے۔‘
بدھ کے واقعے کے فوراً بعد اسرائیل کی وزارت خارجہ نے کیئر سٹارمر کی حکومت کی مذمت کی۔
وزارت نے ایکس پر کہا: ’عبادت گاہوں، یہودی اداروں، کمیونٹی ایمبولینسوں اور اب گولڈرز گرین میں یہودیوں کو نشانہ بنانے کے بعد برطانوی حکومت مزید یہ دعویٰ نہیں کر سکتی کہ حالات قابو میں ہیں۔‘
چاقو سے حملے کا یہ واقعہ گذشتہ اکتوبر کو مانچسٹر میں یہودی مقدس دن یوم کپور پر عبادت گاہ پر ہونے والے مہلک حملے کے بعد ہوئی ہے۔ اس حملے میں دو افراد جان سے گئے اور تین شدید زخمی ہوئے تھے۔
گذشتہ ماہ مارچ کے آخر میں لندن میں پہلے حملے میں ہاتزولا کی چار ایمبولینسوں کو آگ لگا دی گئی تھی۔
اس کے بعد مزید واقعات پیش آئے، جن میں ہیرو میں کینٹن یونائیٹڈ سینیگاگ اور ایک یہودی فلاحی ادارے کے دفتر پر حملے شامل ہیں جبکہ گذشتہ ہفتے فنچلے ریفارم سینیگاگ کو نشانہ بنایا گیا۔
کمیونٹی سکیورٹی ٹرسٹ نے گذشتہ سال برطانیہ بھر میں یہود مخالف نفرت کے 3,700 واقعات ریکارڈ کیے، جو 2024 کے مقابلے میں چار فیصد زیادہ لیکن 2023 کے مقابلے میں کم تھے۔
.png)
19 hours ago
1



English (US) ·