لندن: دو یہودیوں پر چاقو حملہ کرنے والے شخص پر اقدام قتل کا الزام عائد

2 hours ago 1

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

لندن میں پولیس نے جمعرات کو بتایا ہے کہ دو یہودی افراد پر چاقو سے حملے کے الزام میں 45 سالہ شخص پر اقدام قتل کی فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔

پولیس کے مطابق ملزم عیسیٰ سلیمان پر گولڈرز گرین کے علاقے میں ہونے والے حملے سے متعلق اقدام قتل کے دو مقدمات جب کہ اسی روز شہر کے ایک اور مقام پر ہونے والے حملے کے حوالے سے تیسرا مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے۔

ملزم کو جمعے کو عدالت میں پہلی بار پیش کیا جا رہا ہے۔

یہ حملہ شمالی لندن کے علاقے گولڈرز گرین میں ہوا، جو برطانیہ کی یہودی برادری کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ حملے میں زخمی ہونے والے دونوں افراد، جن کی عمریں 34 اور 76 سال ہیں، جو شدید زخمی ہوئے۔ ان میں سے ایک کو ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے جب کہ دوسرے اب بھی زیرِ علاج ہیں مگر ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔

شمالی لندن میں بدھ کو دو یہودی افراد چاقو کے حملے میں زخمی ہوگئے، جسے پولیس نے ’دہشت گردی‘ کا واقعہ قرار دیا ہے۔

london attac.jpg

29 اپریل 2026 کو شمالی لندن میں دو یہودی افراد پر چاقو کے حملے کے بعد فارنزک تفتیش کار اور پولیس افسران جائے وقوعہ پر تعینات ہیں (روئٹرز)

شاہ چارلس سوم، وزیراعظم کیئر سٹارمر اور لندن کے میئر صادق خان نے گولڈرز گرین میں ہونے والے اس ’ہولناک‘ حملے کی مذمت کی قیادت کی، جہاں بڑی یہودی آبادی آباد ہے۔

پولیس نے کہا کہ واقعے کے بعد ایک 45 سالہ ایک شخص کو گرفتار کیا گیا، جس نے پولیس افسران کو بھی چاقو مارنے کی کوشش کی۔

جائے وقوعہ پر گفتگو کرتے ہوئے میٹروپولیٹن پولیس کمشنر مارک راؤلی نے کہا کہ مشتبہ شخص ماضی میں ’سنگین تشدد اور ذہنی صحت کے مسائل‘ کا شکار رہا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ واقعات ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب لندن میں حالیہ دنوں کے دوران یہودی عبادت گاہوں اور دیگر یہودی مقامات پر آتشزدگی کے کئی واقعات بھی سامنے آئے ہیں، جس کے باعث مقامی برادری میں خوف اور غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔

برطانوی وزیرِاعظم کیئر سٹارمر نے کہا ہے کہ حکومت یہود مخالف جذبات کے خاتمے کے لیے اقدامات کرے گی اور یہودی کمیونٹی کی سیکیورٹی مزید سخت کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم اس نفرت کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے۔‘

ادھر برطانیہ میں ’دہشت گردی‘ کے خطرے کی سطح کو  بڑھا دیا گیا ہے، جو پانچ درجاتی پیمانے میں دوسرا بلند ترین درجہ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ سکیورٹی اداروں کے مطابق آئندہ چھ ماہ کے دوران کسی حملے کا امکان بہت زیادہ ہے۔

Read Entire Article