صدر ٹرمپ کا نئی دریافت شدہ یو ایف او فائلز ریلیز کرنے کا اشارہ

2 hours ago 2

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ پینٹاگون ان کی انتظامیہ کی جانب سے دریافت کی گئی ’انتہائی دلچسپ‘ یو ایف او فائلوں کو جاری کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جس نے خلائی مخلوق سے متعلق ممکنہ انکشافات کے بارے میں خڈشات اور شکوک پیدا کر دیے ہیں۔

ٹرمپ نے پہلی بار فروری میں خلائی معاملات میں دلچسپی کا کھلا اظہار کیا اور وفاقی اداروں کو ہدایت دی کہ وہ یو ایف او اور خلائی مخلوق سے متعلق ریکارڈز کو ڈی کلاسیفائی کریں۔ اس کے بعد سے انہوں نے سنسنی خیز اپ ڈیٹس کے ساتھ تجسس بڑھایا ہے، ایسے دستاویزات کے جلد انکشاف کا اشارہ دیتے ہوئے جو امریکی حکومت پہلے کبھی منظر عام پر نہیں لائی۔

ٹرمپ نے بدھ کو وائٹ ہاؤس میں ناسا خلابازوں کے اعزاز میں منعقد ایک تقریب میں کہا ’ہم بہت سی چیزیں منظر عام پر لانے جا رہے ہیں جو ہم نے پہلے نہیں کیں۔ میرے خیال میں اس میں سے کچھ لوگوں کے لیے بہت دلچسپ ہونے والا ہے۔‘

ٹرمپ نے اپنے آپ کو ایک ایسے صدر کے طور پر پیش کرنے میں لطف اٹھایا ہے جو راز افشا کرتا ہے۔ اپنے پہلے ہفتے میں، انہوں نے صدر جان ایف کینیڈی، سینیٹر رابرٹ ایف کینیڈی، اور مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کے قتل سے متعلق ریکارڈز کی ریلیز کا حکم دیا۔ یہ انکشافات اس سے کچھ زیادہ منظر عام پر نہیں لائے جو پہلے سے معلوم تھا۔

اس ریلیز کی تیاری سے قبل ٹرمپ نے کہا ’امریکی عوام شفافیت اور سچائی کے مستحق ہیں۔‘ اب وہ آسمان کے معاملات کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور صدر نے اسی طرح کا لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہائیوں پرانے سوالات کے جوابات جلد مل سکتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر ان کی فروری کی ہدایت نے ’خلائی اور ماورائے ارض زندگی، نامعلوم فضائی معمے (یو اے پی)، اور نامعلوم اڑن طشتریاں (یو ایف اوز)‘ کے گرد شفافیت کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے اپریل میں فینکس میں ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے کی تقریب میں اپنے حامیوں سے کہا تھا کہ ’اس کی پہلی ریلیز بہت، بہت جلد شروع ہو جائیں گی۔ تو آپ باہر جا سکتے ہیں اور دیکھ سکتے ہیں کہ یہ معمہ درست ہے یا نہیں۔ آپ اسے سمجھ جائیں گے۔‘

NASA Dart Mission.jpg

ناسا سے چار نومبر 2021 کو حاصل کردہ ایک آرٹسٹ کے بنائے ہوئے خاکے میں ڈارٹ خلائی جہاز اپنے ہدف سیارچے کی طرف بڑھتے ہوئے (اے ایف پی، ناسا، جانز ہاپکنز اے پی ایل)

ٹرمپ کی ہدایت سے پہلے بھی، پینٹاگون یو ایف اوز سے متعلق حکومتی دستاویزات کو ڈی کلاسیفائی اور ریلیز کرنے کے عمل میں برسوں سے مصروف تھا، جنہیں اب اکثر غیر واضح غیر معمولی معمہ، یا یو اے پی کہا جاتا ہے۔

قومی سلامتی پر خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے کانگریس نے 2022 میں یو اے پی کی تحقیقات کرنے اور جتنا ممکن ہو مواد کو ڈی کلاسیفائی کرنے کے لیے ایک دفتر بنایا۔

دفتر کی 2024 کی پہلی رپورٹ نے سینکڑوں نئے یو اے پی واقعات کا انکشاف کیا لیکن کوئی ثبوت نہیں ملا کہ امریکی حکومت نے کبھی خلائی ٹیکنالوجی کی کسی مشاہدے کی تصدیق کی ہو۔ زیادہ حالیہ مشاہدات کا احاطہ کرنے والی دوسری رپورٹ جلد آنے کی توقع ہے۔

پینٹاگون کے بیان کے مطابق یہ ایجنسی، آل ڈومین انومالی ریزولوشن آفس، اب وائٹ ہاؤس کے ساتھ ’پہلے کبھی نہ دیکھی گئی یو اے پی معلومات‘ جاری کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔

تاہم دفتر کے سابق ڈائریکٹر نے کہا کہ ٹرمپ کے وعدے شیخی بگھارنے جیسے تھے جس کا مقصد ایک ’چمکدار چیز‘ دکھا کر امریکیوں کی توجہ ایران کے ساتھ جنگ سے ہٹانا تھا۔

شان کرک پیٹرک، ایک ماہر طبیعیات اور سابق کیریئر انٹیلی جنس افسر جنہوں نے 2023 تک دفتر کی قیادت کی، نے کہا کہ انہوں نے حکومت کے ریکارڈز دیکھے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ کوئی دھماکہ خیز انکشافات نہیں ملیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’قارئین کو اپنی امیدیں نہیں بڑھانی چاہئیں کہ کوئی ایسی دستاویز ہوگی جس میں تصاویر ہوں گی، خلائی مخلوق کا انٹرویو ہوگا جب وہ نیچے آئے۔ کیونکہ یہ موجود ہی نہیں ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ خلائی ٹیکنالوجی دکھانے کا دعویٰ کرنے والی ویڈیوز عام طور پر معمولی وضاحتیں رکھتی ہیں۔ امریکی فوج کی جانب سے استعمال ہونے والے جدید انفراریڈ کیمرے اکثر جیٹ انجن اور دیگر گرم اشیا کو ایک لمبے تھرمل بلوم میں کیپچر کرتے ہیں، جو کرک پیٹرک کے مطابق تیز رفتار، گولی کی شکل کی اشیا کی وائرل ویڈیوز کی وضاحت کرتا ہے۔

کیپٹول ہل میں اس قسم کی ویڈیوز نے ٹرمپ کے ساتھ منسلک رپبلکنز کے ایک چھوٹے گروپ کی توجہ حاصل کی ہے جو اصرار کرتے ہیں کہ پینٹاگون راز چھپا رہا ہے۔

USA UFOs.jpg

یوفولسٹ سٹیون گریر 12 جون، 2023 کو واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس کے دوران یو ایف او اور یو اے پی پر اپنی تحقیق سے متعلق گفتگو کر رہے ہیں (اے ایف پی/ کیون ڈیٹش)

ٹاسک فورس آن دی ڈی کلاسیفیکیشن آف فیڈرل سیکرٹس امریکی فوجی تنصیبات کے قریب پراسرار طیاروں کی رپورٹس پر اپنی تحقیقات کر رہی ہے، جو پینل کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی اور مسلح افواج کے لیے خطرہ ہیں۔

گذشتہ خزاں میں، ٹاسک فورس نے موجودہ اور سابق سروس ممبران کی گواہی سنی جنہوں نے یو اے پی مقابلوں کی وضاحت کی۔

ایک معاملے میں، ایک سینیئر نیوی افسر نے کہا کہ وہ 2023 میں کیلیفورنیا کے ساحل پر تھے جب انہوں نے ایک چمکتی ’ٹک ٹیک‘ کی شکل کی چیز کو سمندر سے نکلتے اور تین اسی طرح کی اشیا کے ساتھ منسلک ہوتے دیکھا۔ وہ ایک لمحے میں تیزی سے چلے گئے۔

اس موضوع میں ٹرمپ کی دلچسپی نے کانگریسی رپبلکنز کو طاقت دی ہے، بشمول فلوریڈا کی نمائندہ انا پولینا لونا، جو ایئر فورس کی سابق فوجی رہی ہیں جو ٹاسک فورس کی شریک سربراہ ہیں۔ لونا نے پینٹاگون کی جانب سے’ناکافی سے کم‘ شفافیت پر تنقید کی ہے۔

مارچ میں وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو لکھے گئے خط میں، لونا نے درجنوں یو اے پی ویڈیوز کا مطالبہ کیا جن کی شناخت وِسل بلوورز نے کی تھی اور جن پر ’بادلوں میں کرہ نما یو اے پی‘ جیسے نام لگے تھے۔ ہیگسیتھ کے لیے ان کی ڈیڈ لائن آئی اور گزر گئی، اور کوئی ویڈیوز پیش نہیں کی گئیں۔

یو ایف او معاملے میں ٹرمپ کی دلچسپی نے لونا سے داد وصول کی، جنہوں نے گذشتہ سال پوڈکاسٹر جو روگن کو بتایا تھا کہ انہوں نے ’بین الجہتی مخلوقات‘ کا ثبوت دیکھا ہے۔ لونا نے ٹرمپ کی ہدایت کے بعد سوشل میڈیا پر کہا کہ پینٹاگون ’اب ہماری دستاویزات کی درخواست سے نہیں چھپ سکتا۔‘

Planets Parade NASA

25 جنوری 2025 سے زہرہ، مشتری، زحل، مریخ، نیپچون، یورینس اور عطارد ایک قطار میں نظر آ رہے ہیں (ناسا)

ٹرمپ ماورائے ارض زندگی کے وجود کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔ فینکس میں ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے کے ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’میں نے سوچا کہ یہ ایک اچھا مجمع ہے کیونکہ میں آپ لوگوں کو جانتا ہوں، آپ واقعی اس میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ میں رکھتا ہوں یا نہیں۔‘

انہوں نے اس تقریب میں، جو ایک میگا چرچ میں منعقد ہوئی، یہ انکشاف کیوں کیا، واضح نہیں ہے۔ ایک دن پہلے، ٹرمپ نے لاس ویگاس میں تقریر کی تھی، ایریا 51 سے زیادہ دور نہیں، ایک انتہائی خفیہ کولڈ وار ٹیسٹ سائٹ جس نے یو ایف او سازشی تھیوریز کو ہوا دی ہے۔

نائب صدر جے ڈی وینس نے اپنے آپ کو یو ایف او فائلوں کے حوالے سے ’جنونی‘ قرار دیا ہے۔ مارچ میں، انہوں نے کہا کہ وہ عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ایریا 51 کی تحقیقات کے لیے وقت نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

’میرے پاس نائب صدر کے طور پر ابھی تین سال مزید ہیں۔‘، وینس نے قدامت پسند پوڈکاسٹر بینی جانسن سے کہا۔

’میں یو ایف او فائلوں کی تہہ تک پہنچوں گا۔‘ اپنے مسیحی عقیدے کا حوالہ دیتے ہوئے وینس نے کہا کہ وہ یقین رکھتے ہیں کہ خلائی مخلوق ہونے کی اطلاع دیے جانے والی مشاہدات دراصل شیطانی روحوں کا کام ہیں۔

ٹرمپ کے اس موضوع پر بات کرنے سے پہلے بھی خلائی مخلوق سے متعلق سرگوشی فضا میں پہلے سے موجود تھی۔

یہ معاملہ ہالی ووڈ میں آنے والی سٹیون اسپیل برگ کی فلم، ’ڈسکلوژر ڈے‘ کے ساتھ واپس آ گیا ہے۔

سابق صدر براک اوباما نے فروری میں دھماکہ خیز بیان دیا جب انہوں نے ایک پوڈکاسٹ پر اعلان کیا کہ خلائی مخلوق حقیقی ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بعد میں واضح کیا کہ انہوں نے کوئی ثبوت نہیں دیکھا لیکن ’امکانات اچھے ہیں کہ وہاں (خلا میں) باہر زندگی موجود ہے۔‘

ٹرمپ شاید ہی یو ایف او کے اسرار کی طرف راغب ہونے والے پہلے صدر ہوں۔ ایک بار صدر بل کلنٹن نے کہا تھا کہ انہوں نے 1997 میں اس کی 50 ویں سالگرہ کے موقع پر ایک بار روزویل واقعے کا جائزہ لینے کا حکم دیا تھا ۔ 1947 میں نیو میکسیکو کے ایک رینچ میں کچھ گر گیا تھا اور حکام نے بعد میں کہا کہ ملبہ ایک بلند اونچائی والے موسمی غبارے کی باقیات تھیں۔ جمی کارٹر اور رونلڈ ریگن نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے وائٹ ہاؤس میں اپنے وقت سے پہلے یو ایف اوز دیکھے تھے۔

محکمہ دفاع کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکومت 1940 کی دہائی سے یو ایف او رپورٹس کی تحقیقات کر رہی ہے، جزوی طور پر یہ طے کرنے کے لیے کہ آیا وہ مدمقابل قوموں کی جدید ٹیکنالوجی کی نمائندگی کرتے ہیں یا ’‘دنیا سے باہر کی ٹیکنالوجی کا ثبوت ہیں۔‘

یو ایف اوز کے لیے وقف آن لائن کمیونٹیز میں، کچھ ٹرمپ کے وعدے کو صحیح سمت میں ایک قدم کے طور پر دیکھتے ہیں؛ دوسروں کا خیال ہے کہ اس سے کچھ نہیں ہوگا۔

گریگ ایگیگین، پنسلوانیا سٹیٹ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر جنہوں نے یو ایف او مشاہدات کی تاریخ پر کتاب لکھی، نے کہا کہ ’جو لوگ موضوع کو قریب سے فالو کرتے ہیں ان کے لیے، بڑے انکشافات کے وعدے کبھی بھی شہرت کے مطابق نہیں رہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’بہت زیادہ دلچسپی رکھنے والے لوگوں کے لیے تقریباً کوئی اطمینان بخش جواب ممکن نہیں ہے۔ تو ایک لحاظ سے، مجھے لگتا ہے کہ تقریباً یقینی طور پر مایوس ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے چاہے اس میں سے کچھ بھی نکلے۔‘

Read Entire Article