پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے جمعرات کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ صوبہ خیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی تین مختلف کارروائیوں میں سات عسکریت پسند مارے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ضلع مہمند میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس آپریشن کیا۔ اس کارروائی میں چار عسکریت پسند مارے گئے۔
جبکہ ضلع لکی مروت میں انٹیلی جنس کارروائی میں دو عسکریت پسند مارے گئے۔ اسی طرح ضلع ٹانک میں ایک عسکریت سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں مارا گیا۔
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں پر افسروں اور جوانوں کو شاباش دیتے ہوئے فورسز کی صلاحیتوں کو سراہا۔
جمعرات کو وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے کہا ہے کہ ملک سے دہشت گردی کے خاتمے تک اس جنگ کو جاری رہیں گے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ڈیرہ اسماعیل خان پولیس کی بکتر بند گاڑی کو نشانہ بنایا جانے کی مذمت کی ہے۔
وزیرداخلہ محسن نقوی نے اس دھماکے میں جان سے جانے والے دو اہلکاروں کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا ہے۔
اس سے قبل ایک اور بیان میں پاکستانی فوج نے جمعرات کو کہا کہ ملک کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخوا میں عسکریت پسندوں کے خلاف دو کارروائیوں میں 23 جنگجو مارے گئے ہیں۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ کے مطابق یہ کارروائیاں 19 نومبر کو ضلع کرم کے دو الگ الگ مقامات پر کی گئیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاکستان نے اس سال کے اوائل میں ’عزم استحکام‘ کے نام سے انسداد دہشت گردی کی ایک تجدیدی مہم کا آغاز کیا تھا جس کا مقصد فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کا تیز کرنا تھا۔
پاکستان کا موقف ہے کہ ان حملوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) ملوث ہے جو کہ افغانستان کی سرزمین کو ان حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کرتی ہے، تاہم افغانستان کی حکومت اس الزام کی تردید کرتا ہے۔
پاکستان میں حالیہ حملوں پر اسلام آباد اور کابل کے تعلقات کشیدہ ہیں۔ رواں ماہ ہی اسلام آباد کی کچہری کے باہر خودکش حملے میں کم از کم 12 افراد جان سے گئے جبکہ درجنوں زخمی ہوئے تھے، اس حملے کی تحقیقات کے بعد پاکستان کی طرف سے کہا گیا کہ اس کی منصوبہ بندی بھی افغانستان میں کی گئی تھے۔
.png)
5 months ago
22



English (US) ·