’بمباری سے زیادہ موثر‘: ٹرمپ کی ایرانی ناکہ بندی کئی ماہ تک جاری رکھنے کی دھمکی

9 hours ago 1

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کئی ماہ تک جاری رہ سکتی ہے: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کئی ماہ تک جاری رہ سکتی ہے، جس کے باعث بدھ کو تیل کی قیمتیں چار سال سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔

تیل کی کمپنیوں کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کے دوران ٹرمپ نے مؤقف اختیار کیا کہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی،  جس کے خاتمے کا مطالبہ تہران کسی بھی معاہدے سے پہلے کر رہا ہے، بمباری سے زیادہ مؤثر ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار کے مطابق، منگل کو ہونے والی اس ملاقات میں ٹرمپ نے ’عالمی تیل کی منڈی کو مستحکم کرنے اور ضرورت پڑنے پر کئی ماہ تک موجودہ ناکہ بندی جاری رکھنے اور امریکی صارفین پر اس کے اثرات کم کرنے کے اقدامات‘ پر بات کی۔

اگزیوس سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے ایران کے خلاف بحری کارروائی کے بارے میں کہا کہ ’وہ بری طرح دباؤ میں ہیں، اور یہ ان کے لیے مزید خراب ہونے والا ہے۔‘

برینٹ خام تیل کی قیمت میں مزید 7.6 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 119.69 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو 2022 میں یوکرین جنگ کے ابتدائی دنوں کے بعد بلند ترین سطح ہے۔

ایران نے حملوں کے ردعمل میں آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے ذریعے دباؤ بڑھانے کی کوشش کی ہے، جو ایک تنگ آبی گزرگاہ ہے اور جہاں سے عالمی تیل کی تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔


ایران جنگ کا پہلے باضابطہ اختتام چاہتا ہے

ایران کی جانب سے جنگ کے حل کے لیے پیش کی گئی تازہ تجویز، جو 8 اپریل سے جنگ بندی معاہدے کے تحت معطل ہے، اس بات پر مبنی ہے کہ جوہری پروگرام پر بات چیت کو اس وقت تک مؤخر رکھا جائے جب تک جنگ باضابطہ طور پر ختم نہ ہو جائے، بحری نقل و حمل کے مسائل حل نہ ہو جائیں۔

تاہم یہ مؤقف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس مطالبے کے مطابق نہیں کہ جوہری مسئلے پر ابتدا ہی میں بات کی جائے۔

ایک پاکستانی ذرائع نے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے ایرانی تجویز پر اپنے ’مشاہدات‘ شیئر کیے ہیں اور اب جواب دینا ایران کے ذمے ہے۔

پاکستانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ’ایرانیوں نے ہفتے کے اختتام تک مہلت مانگی ہے۔‘

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق دو امریکی حکام اور ایک باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس ایجنسیاں اعلیٰ حکومتی اہلکاروں کی ہدایت پر اس بات کا جائزہ لے رہی ہیں کہ اگر صدر ٹرمپ یکطرفہ فتح کا اعلان کرتے ہیں تو ایران کس طرح ردِعمل دے سکتا ہے۔

Read Entire Article