اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججوں کے تبادلوں کے خلاف لاہور ہائی کورٹ بار سمیت بڑے شہروں میں جمعرات کو وکلا نے احتجاج کیا جبکہ کئی وکلا نے ان تبادلوں کو ’آئینی اقدام‘ قرار دیا ہے۔
جوڈیشل کمیشن کی سفارش پر قائم قام صدر مملکت یوسف رضا گیلانی نے گذشتہ روز اسلام آباد کے تین ججوں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس بابر ستار اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز کا بالترتیب پشاور، لاہور اور سندھ ہائی کورٹ تبادلے کے نوٹیفکیشن جاری کیا، جس کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ بار، پشاور اور لاہور ہائی کورٹ بار نے احتجاج کیا۔
لاہور میں ہونے والے وکلا احتجاج میں جماعت اسلامی کے سربراہ حافظ نعیم الرحمٰن نے بھی شرکت کی۔
لاہور ہائی کورٹ بار کے صدر بابر مرتضیٰ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’پارلیمنٹ سے 26 اور 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست زیر سماعت ہے۔ اس دوران ایک ہائی کورٹ سے دوسری ہائی کورٹ تبادلوں کا اقدام غیر آئینی ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا: ’ہم پہلے بھی آئینی ترامیم کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، آج ان تبادلوں کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔ ایسے غیر آئینی اقدامات سے نہ صرف وکلا بلکہ عوام میں بھی بے چینی پائی جاتی ہے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دوسری جانب سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل الیاس خان اسے حکومت کا ’آئینی اختیار‘ سمجھتے ہیں۔
انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ’آئینی ترامیم حکومت کا آئینی اختیار ہے۔ نئی قانون سازی کے تحت جوڈیشل کمیشن کو تبادلوں کا اختیار دیا گیا ہے، لہذا اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججوں کے تبادلوں پر احتجاج بلا جواز ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’اگر ان ججوں کو اعتراض ہے تو وہ مستعفی ہو کر وکلا کے ساتھ احتجاج میں شریک ہوں ورنہ انتظامی احکامات کا احترام کریں۔‘
پارلیمنٹ میں 27ویں ترامیم کے خلاف اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف بھی ردعمل ظاہر کرتی رہی ہے۔ اسی تنازعے کے دوران سپریم کورٹ کے سینیئر جج منصور علی شاہ اور سابق جسٹس اطہر من اللہ مستعفی ہوگئے تھے، تاہم ابھی تک حکومتی حلقوں میں اس حوالے سے احتجاج کا کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔
سپریم کورٹ کے ساتھ آئینی عدالت بھی اپنے فرائض انجام دے رہی ہے۔
اسی طرح بعض وکلا کے خیال میں کسی کو پسند ہو یا نہ ہو، آئینی طور پر پارلیمان سے قانون سازی کے بعد کوئی بھی اقدام قانون کا حصہ بن جاتا ہے۔
.png)
5 hours ago
1



English (US) ·