یورپی یونین سے تجارت کے فروغ کی کوششیں جاری رکھیں گے: پاکستان

2 hours ago 1

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے یورپی یونین کے سینیئر حکام اور ممتاز یورپی کمپنیوں کے کاروباری نمائندوں کے وفد سے منگل کو ملاقات میں کہا کہ ان کی حکومت یورپی یونین سے تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری رکھے گی۔

دو روزہ اعلیٰ سطحی یورپی یونین، پاکستان بزنس فورم کا منگل کو اسلام آباد میں آغاز ہوا جس میں پاکستان اور یورپی یونین تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

یورپی کمیشن کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف انٹرنیشنل پارٹنرشپس کے ڈائریکٹر (ایشیا پیسفک) مسٹر پیٹرس سٹبس کی قیادت میں ایک وفد نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی جس کے بعد جاری بیان میں کہا گیا ’حکومت یورپی یونین کے ساتھ تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو فروغ دینے کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری رکھے گی۔‘

شہباز شریف نے کہا یورپی یونین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے اور پاکستان سے برآمدات کے سب سے زیادہ حجم کی منزل ہے۔

EU shahbaz sharif.jpg

یورپی یونین کے وفد کا پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف سے اسلام آباد میں 28 اپریل، 2026 کو ملاقات کے موقعے پر گروپ فوٹو (وزیر اعظم ہاؤس)

یورپی یونین پاکستان بزنس فورم کے انعقاد کو سراہتے ہوئے وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ یہ فورم پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو مزید فروغ دینے کی حوصلہ افزائی کرے گی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے یورپی یونین کے وفد کو مشرق وسطیٰ کی صورت حال کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سمیت علاقائی چیلنجوں کے باوجود معیشت کے استحکام کے لیے کام جاری رکھنے کے لیے حکومت پاکستان کے پختہ عزم کا یقین دلایا۔

بیان میں کہا گیا کہ وفد کے اراکین نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے اپنے اپنے تجربے کے بارے میں بتایا اور کہا ’یورپی یونین اور پاکستان کے درمیان توانائی، مواصلات، آئی ٹی وغیرہ سمیت مختلف شعبوں میں B2B تعلقات کو مزید فروغ دینے کے قوی امکانات ہیں۔‘

یورپی یونین، پاکستان بزنس فورم بدھ کو بھی جاری رہے گا۔ یورپی حکام کے مطابق، پاکستان میں 300 سے زائد یورپی کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔

یورپی یونین کے جی ایس پی پلس (GSP+) پروگرام کے تحت پاکستان کو متعدد برآمدات پر کم یا صفر ٹیرف کی سہولت حاصل ہے، جس کے بدلے میں اسے انسانی حقوق، مزدوروں کے معیار اور حکمرانی سے متعلق اصلاحات کی پابندی کرنا ہوتی ہے۔ یہ اسکیم دو طرفہ تجارت میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت

Read Entire Article