17 اپریل کو وفاقی وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے ایکس پر تصدیق کرتے ہوئے بیان جاری کیا کہ پاکستان نے چار سال کے وقفے کے بعد بین الاقوامی سرمایہ منڈیوں میں کامیاب واپسی کرتے ہوئےاپنے GMTN (گلو بل میڈیم ٹرم نوٹ) پروگرام کے تحت 50 کروڑ ڈالر کا تین سالہ یورو بانڈ جاری کر دیا ہے۔
خرم شہزاد کے مطابق یہ بانڈ اجرا پاکستان کے خود مختار بانڈز کی ییلڈ کرو میں بہتری، عالمی مارکیٹ میں موجودگی کے استحکام اور بہتر قیمتوں کے تعین میں مدد دے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ پیش رفت پاکستان کی مالیاتی حکمت عملی اور عالمی سرمایہ منڈیوں میں دوبارہ فعال کردار کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
اس مالی اقدام کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ دیکھا جائے کہ یورو بانڈ دراصل کیا ہوتا ہے اورحکومتیں اسے کیوں استعمال کرتی ہیں۔ یہی وہ پس منظر ہے جو اس پورے مالیاتی فیصلے کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔
یورو بانڈ کیا ہے؟
یورو بانڈ ایک ایسا مالیاتی آلہ ہے جس کے ذریعے کوئی ملک اپنی مقامی کرنسی کے بجائے غیر ملکی کرنسی زیادہ تر امریکی ڈالر میں عالمی سرمایہ کاروں سے قرض حاصل کرتا ہے۔ اس کے بدلے حکومت ایک مقررہ مدت کے بعد اصل رقم کے ساتھ منافع ادا کرنے کی پابند ہوتی ہے، جس سے اسے زر مبادلہ کے ذخائر بڑھانے اور فوری مالی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملتی ہے۔
![]()
معاشی ماہر ثانی خان انڈپینڈنٹ اردو کو بتاتے ہیں کہ 'یورو بانڈ دراصل ایسا قرض ہوتا ہے جو کوئی بھی ملک اپنی مقامی کرنسی کے بجائے کسی غیر ملکی کرنسی عموماً ڈالر میں عالمی سرمایہ کاروں سے حاصل کرتا ہے۔ اوریہ سرمایہ کار بینکس، مالیاتی ادارے یا ہائی نیٹ ورتھ افراد بھی ہو سکتے ہیں۔
ثانی خان نے مزید واضح کرتے ہوئے کہا کہ 'اس طریقہ کار میں حکومت عالمی سرمایہ کاروں سے رقم لے کر یہ یقین دہانی کرواتی ہے کہ مقررہ مدت جیسے تین سال کے بعد یہ رقم منافع کے ساتھ واپس کر دی جائے گی۔ اس کا بنیادی مقصد زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنانا اور فوری مالی ضروریات کو پورا کرنا ہوتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ادائیگیوں کے توازن پر دباؤ ہو۔
ثانی خان کے مطابق: 'حالیہ 500 ملین ڈالر کا اجرا اگرچہ حجم میں محدود ہے، مگر تقریباً سات فیصد شرح پر عالمی مارکیٹ سے قرض حاصل کرنا اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ سرمایہ کار پاکستان کی معیشت پر اعتماد رکھتے ہیں اور آئندہ چند برسوں میں ادائیگی کی صلاحیت کو مثبت نظر سے دیکھ رہے ہیں۔‘
ثانی خان کے بقول: 'یورو بانڈ صرف ایک قرض نہیں بلکہ عالمی سطح پر کسی ملک کی معاشی ساکھ کا پیمانہ بھی ہوتا ہے۔
پاکستان کے لیے یہ اجرا اس لحاظ سے اہم ہے کہ اس سے مستقبل میں عالمی مارکیٹ میں دوبارہ رسائی آسان ہوگی، مہنگائی پر کسی حد تک قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے اور مجموعی طور پر معیشت کے استحکام کی توقع کی جا سکتی ہے۔‘
ماہر اقتصادیات شہریار بٹ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ 'یورو بانڈ میں گورنمنٹ آف پاکستان کو ایک ساتھ بڑی رقم مل جاتی ہے ان کے ریزرو میں اضافہ ہوتا ہے جس میں ترقیاتی منصوبے پورے ہو سکتے ہیں، ایجوکیشن کے لیے بھی حکومت یہ پیسہ استعمال کر سکتی ہے۔‘
دوسری جانب یورو بانڈ کا ایک عام آدمی کی یورو بانڈ میں کیا دلچسپی ہے؟ اس حوالے سے شہریار بٹ کہتے ہیں 'عام آدمی براہِ راست یورو بانڈ میں سرمایہ کاری نہیں کرتا، مگر اس کے اثرات بالواسطہ طور پر اس کی زندگی پر ضرور پڑتے ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اگر حکومت بیرونی قرضوں میں اضافہ کرے تو اس کا بوجھ بالآخر ٹیکسوں میں اضافے یا مہنگائی کی صورت میں عوام تک منتقل ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر یورو بانڈ جیسے اقدامات کے نتیجے میں معیشت مستحکم ہوتی ہے تو کاروباری سرگرمیاں بڑھتی ہیں، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور عام آدمی کو بھی اسکے مثبت ثمرات مل سکتے ہیں۔‘
یورو بانڈ کی تاریخ
ماہر معاشی شہریار بٹ بتاتے ہیں کہ 'یورو بانڈ کا تصور پہلی بار 1960 کی دہائی میں سامنے آیا، جب کمپنیوں اورممالک نے اپنی مقامی مالیاتی منڈیوں تک محدود رہنے کے بجائے عالمی سرمایہ کاروں سے قرض حاصل کرنے کے طریقے تلاش کیے۔
اس دور میں بین الاقوامی تجارت اور سرمایہ کاری تیزی سے بڑھ رہی تھی، جس کے باعث ایسی مالیاتی سہولت کی ضرورت محسوس ہوئی جو سرحدوں کی پابندیوں سے آزاد ہو۔
اسی پس منظر میں یورو بانڈ متعارف ہوئے، جن کے ذریعے کوئی بھی ملک یا ادارہ کسی دوسری کرنسی زیادہ ترامریکی ڈالر میں مختلف ممالک کے سرمایہ کاروں سے قرض حاصل کر سکتا تھا۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی یورپی کمپنی امریکہ سے باہر بیٹھ کر ڈالر میں قرض لینا چاہے تو وہ یورو بانڈ جاری کر سکتی ہے۔
شہریار بٹ کے مطابق: 'وقت کے ساتھ یہ نظام عالمی مالیاتی منڈیوں کا اہم حصہ بن گیا اور آج حکومتیں اور بڑی کمپنیاں یورو بانڈز کے ذریعے بڑی مقدار میں فنڈز حاصل کرتی ہیں، کیونکہ اس سے انہیں سرمایہ کاروں کی وسیع رینج تک رسائی ملتی ہے اور مقامی مارکیٹ پر دباؤ بھی کم ہوتا ہے۔
.png)
4 hours ago
1



English (US) ·