کوٹ لکھپت جیل میں کھانے کی تقسیم پر جھگڑے میں قیدی کی موت، مقدمہ درج

4 hours ago 1

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

لاہور میں واقع کوٹ لکھپت جیل کی انتظامیہ کے مطابق بدھ کو کھانے کی تقسیم کے دوران قیدیوں کے درمیان جھگڑے کے نتیجے میں ایک قیدی کی موت جبکہ ایک زخمی ہوگیا، جس کا مقدمہ درج کر کے انکوائری شروع کر دی گئی ہے۔

سینٹرل جیل کوٹ لکھپت کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کامران مقبول نے تھانہ کوٹ لکھپت میں درج مقدمے میں موقف اپنایا کہ بدھ کی شام سات بجے کے قریب قیدیوں کے دو گروپوں میں یہ لڑائی کھانے کے برتن گم ہونے کی وجہ سے ہوئی۔

بقول کامران مقبول: ’ایک گروپ میں دو قیدی تھے جبکہ دوسرے میں تین قیدی تھے۔ قیدی محمد اشرف اور فلک شیر کی لڑائی محمد عثمان عرف شانی، جاوید اقبال اور آصف محمود سے ہوئی۔ جھگڑا کھانے کے برتن گم ہونے پر ہوا، جو شدت اختیار کر گیا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’قیدی عثمان اور ان کے ساتھی قیدیوں نے سٹیل کے مگ سے بنے تیز دھار آلے سے اشرف اور ان کے ساتھی پر حملہ کیا۔ حملے میں محمد اشرف اور فلک شیر شدید زخمی ہوئے۔‘

ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کے مطابق دونوں زخمی قیدیوں کو پہلے جیل ہسپتال اور پھر جنرل ہسپتال لاہور منتقل کیا گیا، جہاں قیدی محمد اشرف زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا جبکہ فلک شیر زخمی حالت میں زیرِ علاج ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید کہا کہ ’حملہ کرنے والے قیدیوں کے خلاف مقدمہ درج کر کے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔‘

پولیس نے تینوں قیدیوں کے خلاف قتل اور اقدامِ قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے کارروائی شروع کر دی ہے جبکہ مقتول قیدی کی لاش ورثا کے حوالے کر دی گئی ہے۔

جیل انتظامیہ کے مطابق جیل میں قیدیوں کے درمیان جھگڑے میں جان سے جانے والا 42 سالہ قیدی محمد اشرف ولد برکت علی قتل کے ایک مقدمے میں زیر دفعہ 302 کی سزا کاٹ رہا تھا۔

دوسری جانب ترجمان محکمہ داخلہ توصیف صبیح گوندل نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ واقعے پر محکمہ داخلہ نے نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ سطح کی انکوائری ٹیم مقرر کر دی ہے، جو تین ڈی آئی جی لیول کے افسران پر مشتمل ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ’زخمی قیدیوں اور جیل عملے سے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ یہ واقعہ کھانے کی تقسیم کے دوران پیش آیا ہے، جس کی مکمل اور ہر پہلو سے انکوائری کی جا رہی ہے۔‘

پنجاب کی جیلوں میں گنجائش بڑھانے کا منصوبہ

جیلوں میں قیدیوں کے درمیان لڑائی جھگڑے کے واقعات معمول میں رپورٹ ہوتے رہتے ہیں، جس کی ایک بڑی وجہ جیلوں میں قیدیوں کی تعداد گنجائش سے زیادہ بھی سمجھی جاتی ہے۔

سرکاری اعداد وشمار کے مطابق پنجاب بھر کی 45 جیلوں میں گنجائش صرف 38 ہزار 317 قیدیوں کی ہے، مگر اس وقت 72 ہزار سے زائد قیدی موجود ہیں جن میں 70 ہزار مرد، 1360 خواتین اور 893 کم عمر قیدی شامل ہیں۔

لاہور کی کیمپ جیل میں 2000 کی گنجائش کے باوجود 7200 قیدی بند ہیں جبکہ اڈیالہ جیل میں 2174 کی جگہ 8174 قیدی موجود ہیں۔ لاہور کی دونوں جیلوں میں 4300 کی گنجائش کے مقابلے میں دس ہزار پانچ سو سے زائد قیدی موجود ہیں۔

پنجاب حکومت نے کچھ عرصہ قبل ہی جیلوں میں سکیورٹی کے جدید آلات کی تنصیب کے ساتھ گنجائش میں اضافے کے منصوبوں پر کام تیز کرنے کی حکمت عملی بنائی تھی۔

اس سلسلے میں وزیراعلیٰ پنجاب نے ایک اجلاس میں ننکانہ صاحب جیل منصوبے کے لیے ایک ارب 30 کروڑ روپے کے فنڈز کی منظوری دیتے ہوئے ننکانہ صاحب اور سمندری جیلوں کو رواں سال ستمبر تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا۔

اس بریفنگ میں بتایا گیا تھا کہ قیدیوں کی زیادہ تعداد کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے 27 نئی بیرکوں کی تعمیر جاری ہے جبکہ چنیوٹ اور مری میں نئی جیلیں بھی تعمیر کی جا رہی ہیں۔

حکومت نے 2027 تک جیلوں کی گنجائش بڑھا کر 43 ہزار 718 کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔

سینٹرل جیل کوٹ لکھپت کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کامران مقبول کے مطابق بدھ کی شام سات بجے کے قریب قیدیوں کے دو گروپوں میں یہ لڑائی کھانے کے برتن گم ہونے کی وجہ سے ہوئی۔
جمعرات, اکتوبر 1, 2026 - 13:00
Main image: 

<p class="rteright">18 اپریل 2022 کی ایک تصویر میں ایک پولیس اہلکار لاہور میں کوٹ لکھپت جیل کے باہر چیک پوسٹ کے دروازے پر پہرہ دے رہا ہے&nbsp;(عارف علی / اے ایف پی)</p>

type: 
SEO Title: 
کوٹ لکھپت جیل میں کھانے کی تقسیم کے دوران جھگڑے میں قیدی کی موت، مقدمہ درج
Read Entire Article
Chatroom