کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی کے لیے عدالت میں درخواست

3 weeks ago 19

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

پاکستان میں کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی کے لیے عدالت میں درخواست دائر کی گئی ہے۔

Background & Context

سوشل میڈیا کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، اور پاکستان میں اس کی لہر کا بہت بڑا حصہ ہے۔ ملک میں 11 کروڑ 70 لاکھ انٹرنیٹ صارفین اور سات کروڑ 99 لاکھ فعال سوشل میڈیا صارفین کے اکاؤنٹس موجود ہیں۔ یہ تعداد ملک کی مجموعی آبادی کا 31.2 فیصد بناتی ہے۔

بچے اور نوجوان ملکی آبادی کا ایک بڑا حصہ ہیں، اور ان کی شمولیت سوشل میڈیا میں ایک اہم مسئلہ بن چکی ہے۔ پاکستان کی 11 فیصد سے زائد آبادی کی عمر 13 سے 17 سال کے درمیان ہے، جبکہ ملک میں اوسط عمر تقریباً 20.6 سال ہے۔

Key Details

پاکستانی شہری نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے کہ حکومت کو 16 سال سے کم عمر بچوں اور نوعمروں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنانے یا چلانے سے روکنے کے لیے قانون سازی کی ہدایت کی جائے۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد سائبر بُلنگ، جنسی استحصال اور نقصان دہ مواد تک رسائی جیسے خطرات سے بچوں کو محفوظ رکھنا ہے۔

ڈیجیٹل انٹیلی جنس فرم ڈیٹا ریپورٹل کے اندازے کے مطابق پاکستان میں 11 کروڑ 70 لاکھ انٹرنیٹ صارفین اور سات کروڑ 99 لاکھ فعال سوشل میڈیا صارفین کے اکاؤنٹس موجود ہیں۔

پاکستان میں سوشل میڈیا کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، اور اس کی وجہ سے بچوں اور نوعمروں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ اس لیے حکومت کو اس مسئلے کا سامنا کرنا پڑے گا کہ کیسے اسے حل کیا جاسکے۔

What Experts Say

وکیل جلال حیدر نے کہا کہ ’پاکستان میں اگر مثال کے طور پر ٹک ٹاک کو دیکھیں تو یہاں 10 لاکھ صارفین میں سے شاید نصف کی عمر 16 سال سے کم ہے۔ اس لیے اس معاملے کو ریگولیٹ کرنا انتہائی ضروری ہے کیونکہ صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ بچے اس کے عادی ہو گئے ہیں۔‘

اس مسئلے سے نجات کے لیے حکومت کو قانون سازی کا آغاز کرنا ہوگا، اور اس لیے پاکستانی شہری نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔

Key Takeaways

  • پاکستان میں 11 کروڑ 70 لاکھ انٹرنیٹ صارفین اور سات کروڑ 99 لاکھ فعال سوشل میڈیا صارفین کے اکاؤنٹس موجود ہیں۔
  • پاکستان کی 11 فیصد سے زائد آبادی کی عمر 13 سے 17 سال کے درمیان ہے۔
  • سوشل میڈیا کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، اور اس کی وجہ سے بچوں اور نوعمروں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
  • گورنمنٹ کو اس مسئلے کا سامنا کرنا پڑے گا کہ کیسے اسے حل کیا جاسکے۔

What This Means For You

اس مسئلے سے نجات کے لیے حکومت کو قانون سازی کا آغاز کرنا ہوگا، اور اس لیے پاکستانی شہری نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم اپنے بچوں اور نوعمروں کو سوشل میڈیا کے خطرات سے بچانے کے لیے اپنی ذمہ داریوں کا حوالہ دینا ہوگا۔

ہم اپنے بچوں اور نوعمروں کو سوشل میڈیا کے خطرات سے بچانے کے لیے اپنی ذمہ داریوں کا حوالہ دینا ہوگا، اور اس لیے ہمیں اپنے بچوں اور نوعمروں کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال منظم کرنا ہوگا۔

Read Entire Article
Chatroom