چیف آف ڈیفنس فورسز کا کردار اور ذمہ داری ہو گی کیا؟

5 months ago 22

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

27ویں آئینی ترمیم کو سینیٹ میں پیش کر دیا گیا ہے جس کے بعد اس کے مندرجات منظر عام پر آ چکے ہیں اور ان میں سے ایک چیف آف آرمی سٹاف کو ’چیف آف ڈیفنس فورسز‘ کا اضافی عہدہ دینا بھی شامل ہے لیکن اس نے ایک نئی بحث کو بھی جنم دیا ہے کہ کیا فضائیہ اور بحری افواج چیف آف ڈیفنس فورسز کے ماتحت ہیں یا آزادانہ اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو نے اس حوالے سے آرٹیکل 243 میں ہونے والی تبدیلیوں کو پرکھا اور وزارت دفاع کے حکام سے اس کی وضاحت کے لیے تفصیلی بات چیت کی۔

حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے 27ویں آئینی ترمیم کے مسودے کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف کو ’چیف آف ڈیفنس فورسز‘ کا اضافی عہدہ اور ’نیشنل سٹریٹجک کمانڈ‘ کی ایک نئی کمانڈ پوزیشن بنانے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی‘ کا عہدہ 27 نومبر سے ختم کرنے کی تجویز بھی ہے۔

سینیئر صحافی عمر چیمہ نے سوشل میڈیا پر سوال اٹھایا کہ ’ایئر فورس اور نیول چیف کو آرمی چیف کے ماتحت کیا جا رہا ہے؟ اگر آپ نے کمانڈر آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ تحلیق کیا ہے تو اسے چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کی جگہ پر لے آتے۔‘

ائیر فورس اور نیول چیف کو آرمی چیف کے ماتحت کیا جا رہا ہے؟ آفرین ہے ان کی عقل و دانش پر، اگر آپ نے کمانڈر آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ تحلیق کیا ہے تو اسے چیئرمین جائینٹ چیف آف سٹاف کی جگہ پر لے آتے، بجائے اسکے کہ کمانڈر اور آرمی چیف ایک ہی شخص کو بنائیں، یہ انتہائی بھونڈی حرکت ہے

— Umar Cheema (@UmarCheema1) November 8, 2025

رابطہ کرنے پر وزارت دفاع حکام نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے کا مقصد تینوں مسلح افواج کے درمیان مشترکہ دفاعی رابطوں اور ہم آہنگی کو مؤثر بنانا ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ پاک فضائیہ یا پاک بحریہ کو پاک فوج کے ماتحت کر دیا گیا ہے۔

’ہر سروس چیف آئین کے آرٹیکل 243 اور اپنے متعلقہ سروس قوانین کے تحت اپنی اپنی فورس کی کمان، انتظامی امور اور آپریشنل ذمہ داریاں انجام دینے کے مکمل آئینی اختیار کے حامل رہیں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’یہ ترمیم ان کے اختیارات یا خودمختاری میں کسی بھی قسم کی کمی نہیں کرتی۔ پاکستان بحریہ، پاکستان فضائیہ اور پاکستان فوج کی کمان بالترتیب پاکستان نیوی ایکٹ، ایئر فورس ایکٹ، اور آرمی ایکٹ کے تحت مکمل طور پر محفوظ ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’بحریہ اور فضائیہ کی مکمل نمائندگی نیشنل کمانڈ اتھارٹی، ڈیفنس کمیٹی آف کابینہ اور دیگر سٹریٹجک فورمز میں برقرار رہے گی۔‘

دفاعی تجزیہ کار ڈاکٹر قمر چیمہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’چیف آف ڈیفنس فورسز کا کردار یہ ہے کہ وہ سول قیادت کو ایک مربوط فوجی مشورہ فراہم کریں، تینوں افواج کے مشترکہ آپریشنز اور اسٹریٹجک منصوبہ بندی میں ہم آہنگی پیدا کریں، بالکل اسی طرز پر جیسے دنیا کے کئی ممالک میں رائج ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ صرف سابقہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کی رسمی حیثیت کو ایک زیادہ فعال اور آپریشنل کردار میں تبدیل کرتا ہے تاکہ مشترکہ اسٹریٹجک منصوبہ بندی کو بہتر بنایا جا سکے۔

’میرا نہیں خیال کہ اس سے کسی بھی سروس کے قانونی کمانڈ ڈھانچے میں کوئی تبدیلی آئے گی۔ پاک بحریہ اور پاک فضائیہ کے سربراہان اپنے اپنے دائرہ کار میں بدستور آزادانہ طور پر کام کرتے رہیں گے اور وزیرِاعظم و صدرِ مملکت کو براہِ راست مشورہ دیتے رہیں گے۔‘

سی ڈی ایف کی تعیناتی سے نیوی اور فضائیہ چیف کی خود مختاری متاثر نہیں ہو گی

چیف آف ڈیفنس فورس کے معاملے پر بریگیڈیئر (ر) مسعود احمد خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’جہاں تک چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) کا تعلق ہے، یہ عہدہ اب چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے بجائے ایک فعال اور آپریشنل حیثیت رکھتا ہے۔ اس کا مقصد تینوں مسلح افواج بری، بحری اور فضائی کے درمیان مشترکہ کوآرڈینیشن کو مضبوط بنانا ہے۔

’سی ڈی ایف کسی ایک سروس کو اپنے ماتحت نہیں کرے گا بلکہ مشترکہ دفاعی منصوبہ بندی، ملٹی ڈومین آپریشنز اور سٹریٹیجک فیصلوں میں تمام سروسز کو ایک پیج پر لانے کا کردار ادا کرے گا۔ تینوں افواج اپنے اپنے قوانین کے تحت کام کرتی رہیں گی۔‘

انہوں نے کہا کہ ’سی ڈی ایف کی تقرری بھی اسی طرح ہو گی جیسے چیف آف آرمی اسٹاف کی ہوتی ہے، وزیراعظم کی ایڈوائس پر صدرِ مملکت کی جانب سے۔ اور چونکہ عملی طور پر یہ عہدہ آرمی چیف کے پاس ہو گا اس لیے وہی چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہوں گے۔‘

لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض نے کہا کہ ’سی ڈی ایف کے عہدے سے اداروں کا توازن بگڑے گا نہیں بلکہ مضبوط ہو گا اور باہمی اتفاق پیدا ہو گا۔ ترمیم کا اثر باقی فورسز کی خود مختاری پر نہیں ہو گا۔ نیول چیف اور فضائیہ چیف اپنی اپنی فورس کے خود مختار سربراہ ہوں گے۔‘

COMMITTEE.jpgNA SENATE

چیف آف ڈیفنس فورسز کے لیے الگ تعیناتی ہونی چاہیے 

پاکستان بحریہ کے ریٹائرڈ افسر کموڈور ارشد خان نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز دونوں عہدے ایک ہی شخص کے پاس ہوں، تو باقی سروسز کے لیے یہ تاثر پیدا ہوسکتا ہے کہ انہیں آرمی کے ماتحت کر دیا گیا ہے لہذا ایسا نہیں ہونا چاہیے۔  چیف آف ڈیفنس سٹاف آرمی سے ہی تعینات ہونا چاہیے لیکن اس عہدے کی الگ سے تعیناتی ہونی چاہیے اور آرمی چیف کے پاس اس کا اضافی عہدہ نہیں ہونا چاہیے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہماری ملکی جغرافیائی صورتحال کچھ ایسی ہے، شمال سے جنوب تک لمبی پٹی میں، اور دونوں طرف زمینی سرحدیں ہیں جہاں ہماری فورسز کو دفاعی ذمہ داریاں ادا کرنی پڑتی ہیں۔ اسی لیے جو ہماری بری فوج ’کانٹینینٹل کمپوننٹ‘ ہے، وہ بنیادی طور پر جنگ کے دوران اور امن کے دنوں میں بھی سب سے زیادہ متحرک رہتا ہے۔

’اس پس منظر میں یہ احساس ہوا کہ تینوں فورسز کے درمیان رابطہ اور کوآرڈینیشن کے لیے لینڈ فورسز سے کسی کمانڈر کا ہونا ضروری ہے جو مجموعی کمانڈ کی سطح پر فیصلے کر سکے۔ یہ بہرحال ایک قومی فیصلہ ہے۔ لیکن اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ تینوں سروسز  کے سربراہان کی خودمختاری برقرار رکھی جائے۔ آرمی ایکٹ کے مطابق ہر فورس اپنی جگہ آئینی طور پر خودمختار ہے، اور یہی نظام برقرار رہنا چاہیے۔‘ 

جب پاکستان فضائیہ کے ایک سابق ایئر مارشل سے گفتگو کی تو انہوں نے آرمی چیف کی پاس چیف آف ڈیفنس فورسز  کے اضافی عہدے پر رائے دیتے ہونے نام نہ لکھنے کی درخواست کی ۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ ’جدید وارفیئر میں تینوں سروسز مل کر ہی کام کرتی ہیں اور جنگی حالات میں باہمی مشاورت کی ہمہ وقت ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے لیے مشترکہ میکنزم ضروری ہے۔

’لیکن موجودہ دور میں فضائیہ کو جنگی حالات میں برتری حاصل ہے ایران اسرائیل کی جنگ ہو یا انڈیا پاکستان کی، فضائی کارروائی اور فضائی برتری کو اول درجہ حاصل ہے۔‘

فیلڈ مارشل صرف ایک رینک ہے تعیناتی نہیں: وزیر قانون

ترامیم پیش ہونے کے بعد یہ سوال بھی زیر بحث ہے کہ اگر فیلڈ مارشل تاحیات عہدے مراعات اور وردی کو برقرار رکھیں گے تو کیا آرمی چیف کی تعیناتی جو پانچ سالہ مدت ملازمت ہے اس کے بعد نئے آرمی چیف تعینات ہوں گے؟ یا فیلڈ مارشل ہی اس تعیناتی پر موجود رہیں گے؟

 وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اجلاس میں اس شق کی تشریح کرتے ہوئے بتایا کہ ’فیلڈ مارشل کا منصب ایک ٹائٹل ہے تعیناتی نہیں ہے بلکہ آرمی چیف تعیناتی ہے اس کی مدت ملازمت ہے کہ وہ پانچ سال کے لیے تعینات ہیں یا ان اس کے بعد حکومت مدت ملازمت میں توسیع کرے۔ وہ وضاحت اس میں موجود ہے لیکن فیلڈ مارشل ہے یا مارشل  آف دی ایئر فورس ہے  یا ایڈمرل آف دی فلیٹ ہے یہ دنیا کے مختلف ممالک میں ہیں بحریہ کے لیے فضائیہ کے لیے اور بری افواج کے لیے ان کا ذکر کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ قومی ہیروز ہوں گے جن کو یہ ٹائٹل دیا جائے گا اور یہ ٹائٹل ساری دنیا میں تاحیات ہے اور یہ صرف ایک ٹائٹل ہے کہ آپ کو ان خدمات کے صلے میں قوم نے اس اعزاز سے نوازا کہ آپ فیلڈ مارشل کہلائیں گے۔‘

Senate 26122023.jpeg

26 دسمبر 2023 کو سینیٹ کے ایک اجلاس کا منظر (انڈپینڈنٹ اردو)

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس ٹائٹل کو بھی آپ نے کیونکہ آئینی تحفظ دینا ہے تو اس کے بابت یہاں پر لکھ دیا گیا ہے کہ اس کی امپیچمنٹ (مواخذے) یا ریورسل وزیراعظم کا اختیار نہیں ہو گا بلکہ ایسا صرف پارلیمان ہی کر سکے گی۔‘

اس معاملے پر دفاعی تجزیہ کار برگیڈئیر (ر) مسعود احمد خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’فیلڈ مارشل یا مارشل آف دی ایئر فورس جیسے عہدے دراصل رینک ہوتے ہیں، اپوائنٹمنٹ (تعیناتی) نہیں۔ یہ اعزازی رینک تاحیات ہوتے ہیں، جیسے اگر کوئی بریگیڈیئر ریٹائر بھی ہو جائے تو وہ اپنا رینک برقرار رکھتا ہے۔ ہم اس کے نام کے ساتھ ‘ریٹائرڈ’ لکھتے ہیں، رینک کے ساتھ نہیں۔ اسی طرح فیلڈ مارشل کا رینک بھی تا حیات برقرار رہتا ہے۔ جہاں تک چیف آف آرمی اسٹاف یا چیف آف ڈیفنس فورسز کا تعلق ہے، یہ اپوائنٹمنٹ ہے، یعنی اس کی مدت مقرر ہوتی ہے، پانچ سال یا جتنی مدت قانون میں درج ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’سپریم کمانڈر کے طور پر صدر پاکستان کا جو کردار ہے کہ وزیراعظم کے مشورے پر مسلح افواج کے سربراہان کی تعیناتی کریں گے، وہ اپنی جگہ موجود رہے گا۔‘

آرٹیکل 243 میں کی جانے والی دیگر تبدیلیاں 

 ’کمانڈر، نیشنل سٹریٹیجک کمانڈ‘ کا ایک نیا عہدہ بنائے جانے کی تجویز، جس کا تقرر وزیراعظم کی جانب سے چیف آف ڈیفنس فورسز یا آرمی چیف کی سفارش پر کیا جائے گا جبکہ چیف آف ڈیفنس فورسز پاکستان فوج سے ہوں گے۔ 

مسودے کے مطابق حکومت افسران کو ’فیلڈ مارشل، مارشل آف دی ایئر فورس یا ایڈمرل آف دی فلیٹ‘ کے عہدے پر ترقی دینے کا اختیار رکھتی ہے۔ یہ افسران زندگی بھر اپنے عہدے، مراعات اور وردی کو برقرار رکھیں گے اور انہیں آرٹیکل 47 کے طریقہ کار کے تحت ہی ہٹایا جا سکتا ہے، جو صدر کے مواخذے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ انہیں صدر کی طرح آرٹیکل 248 کے تحت استثنیٰ حاصل ہوتا ہے، جس کے تحت ان کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔ 

دفاعی ماہرین کے مطابق یہ ترمیم کسی ایک سروس میں طاقت کے ارتکاز کے بجائے کمانڈ کی یکجہتی، بحران میں واضح فیصلہ سازی، اور دوہرے نظام کے خاتمے کے لیے کی گئی ہے۔  

Read Entire Article