کراچی کے علاقے گلستان سوسائٹی سکیم 33 میں واقع ایک گھر گذشتہ کئی دنوں سے بے چینی اور انتظار کا منظر پیش کر رہا ہے کیوں کہ آئل ٹینکر کے یرغمال بنائے گئے عملے میں اس گھر کے سربراہ سید حسین یوسف بھی شمال ہیں جن کے بارے میں ان کے اہل خانہ کو کوئی اطلاع نہیں ہے۔
21 اپریل 2026 کو صومالیہ کے قریب بحری قزاقوں کی جانب سے ’اونر 25‘ نامی آئل ٹینکر کو یرغمال بنانے کی خبریں سامنے آئیں جس میں 11 پاکستانی بھی سوار تھے۔
واقعہ سامنے آنے کے بعد پاکستانی عملے کے اہل خانہ بے یقینی اور شدید اضطراب کا شکار ہیں اور حکومت سے فوری اقدامات کی اپیل کررہے ہیں۔
اس وقت جہاز پر یرغمال سید حسین یوسف کے گھر میں روزمرہ زندگی جیسے رک سی گئی ہے۔ اہل خانہ کے مطابق وقت گزر تو رہا ہے لیکن ہر لمحہ غیر یقینی صورت حال کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔
حسین یوسف کی بیٹی معصومہ جب سکول سے واپس آئیں تو ان کے چہرے پر معمول کی تھکن کے ساتھ ایک واضح اداسی بھی تھی۔ گھر کا دروازہ کھولتے ہی انہیں وہی ماحول ملا جو گذشتہ کئی دنوں سے معمول بن چکا ہے۔ لوگوں کی آمد و رفت، سرگوشیاں اور بار بار دعا کے لیے اٹھتے ہاتھ۔
معصومہ یوسف نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بھرائی ہوئی آواز میں کہا کہ ’پتہ نہیں بابا کس حال میں ہیں؟ انہوں نے کھانا بھی کھایا ہو گا؟ وہ ٹھیک تو ہوں گے؟‘
![]()
اہل خانہ نے حکومت پاکستان سے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے اقدامات کی اپیل کی ہے (انڈپینڈنٹ اردو)
ان کی آواز میں لرزش تھی۔ انہوں نے کہا کہ ’سکول میں سب دوست پوچھتے ہیں کہ تمہارے بابا کب آئیں گے؟ میرے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔ میں بس خاموش ہو جاتی ہوں۔‘
کچھ لمحے رک کر وہ آہستہ سے کہتی ہیں کہ ’میں بس دعا کرتی ہوں کہ میرے بابا صحیح سلامت واپس آ جائیں۔‘
وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے 28 اپریل کو صومالیہ کی حکومت سے ’اونر 25‘ پر موجود پاکستانی عملے کی بحفاظت بازیابی کے لیے فوری تعاون کی اپیل کی۔
حسین یوسف کی اہلیہ عنبرین یوسف کے لیے ہر گزرتا لمحہ آزمائش بن چکا ہے۔ انہیں ابتدائی طور پر واقعے کا علم بھی کسی اورمتاثرہ خاندان کے ذریعے ہوا۔
عنبرین یوسف نے انڈہینڈنٹ اردو سے بات چیت میں شوہر کے ساتھ ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو کے بارے میں بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ واقعے کے تین سے چار دن بعد شوہر سے مختصر بات ہوئی ایک ایسی گفتگو جس نے میری بےچینی کو مزید گہرا کر دیا۔‘
’ان کی آواز میں خوف تھا وہ ٹھیک سے بات بھی نہیں کر پا رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ کھانے پینے کا سامان ختم ہو چکا ہے، اور قزاق ہر وقت اسلحہ لے کر ہر مغوی کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔ یہ سب سن کر جیسے زمین پاؤں تلے سے نکل گئی ہو۔‘
عنبرین کہتی ہیں: ’سمجھ میں نہیں آ رہا کہ خود کو اور بچوں کو کیسے سنبھالوں؟ اس کے بعد سے اب تک شوہر کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہو سکا۔‘
عنبرین کی اپیل سادہ مگر درد سے بھری ہوئی ہے: 'ہمیں صرف یہ جاننا ہے کہ وہ زندہ اور محفوظ ہیں۔ حکومت سے گزارش ہے کہ ہمارے پیاروں کو واپس لانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔‘
حسین یوسف کے کمسن بیٹے شبیر یوسف کے لیے یہ صورت حال سمجھنا بھی مشکل ہے، لیکن وہ بار بار ایک ہی بات دہراتے ہے کہ انہیں اپنے والد کی بہت یاد آ رہی ہے اور وہ جلد واپس آ جائیں۔
دوسری جانب کراچی کے ایک اور رہائشی امین بن شمس کی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے۔ انہوں نے یہ آڈیو پیغام اپنے والد کو بھیجا تھا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اپنے وائس نوٹ میں وہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ ’ابو، ہمیں بحری قزاقوں نے پکڑ لیا ہے۔ یہ شاید میرا آخری پیغام ہو۔ ہو سکتا ہے میں آپ سے دوبارہ بات نہ کر سکوں۔ وہ ہمیں مارنے کے لیے لے جا رہے ہیں۔ اگر مجھ سےکوئی غلطی ہوئی ہو تو معاف کر دیجیے گا اور میرے لیے دعا کیجیے گا۔‘
امین بن شمس کی اہلیہ عائشہ امین نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ ’بعد میں ہونے والی مختصر بات چیت میں امین کا کہنا تھا کہ نے قزاق ہوائی فائرنگ کر کے عملے کو خوفزدہ کر رہے ہیں۔ ہمیں ڈرا کر لے جایا جا رہا ہے انہوں نے مشین گن ہمارے سروں پر تانی ہوئی ہے۔‘
یرغمال بنائے جانے والے امین بن شمس دو کم عمر بچوں کے والد ہیں پانچ ماہ کا بیٹا، اور تین سالہ بیٹی۔ اہلیہ عائشہ امین نے انڈپینڈنٹ اردو کے ساتھ ویڈیو بھی شیئر کی جس میں تین سالہ بیٹی والد کو تڑپتے ہوئے یاد کررہی ہے اور باربار یہی جملے دہرا رہی ہے کہ ’میرے بابا کو لے کر آؤ۔‘
یہ صرف دو خاندانوں کی کہانی نہیں، بلکہ ان 11 پاکستانیوں کے گھروں کی مشترکہ اذیت ہے جو اس وقت انجانےخطرے سے دوچار ہیں۔ متاثرہ خاندانوں نے پاکستانی عملے کی جلد واپسی کے لیے اقدامات کی اپیل کی ہے۔
ہر گزرتے دن کے ساتھ امید اور خوف کی یہ کشمکش مزید گہری ہوتی جا رہی ہے اور ایک ہی دعا بار بار دہرائی جا رہی ہے کہ ’وہ صحیح سلامت واپس آ جائیں۔‘
.png)
2 hours ago
1



English (US) ·