پاکستان کی سیاست اور خیبر پختونخوا کا سوال

7 hours ago 1

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp
ملک میں جب بھی عدمِ استحکام پیدا ہوتا ہے یا حالات خرابی کی جانب گامزن ہوتے ہیں تو دشمن ملک کی حکومت اور پاکستان میں رہنے والے ان کے وظیفہ خوار، قیامِ پاکستان کے بارے میں نئی نسل کے ذہنوں میں شکوک وشبہات پیدا کرنے کی کوششیں تیز کردیتے ہیں، اور ابوالکلام آزاد کی پیشنگوئیاں الاپنا شروع کردیتے ہیں، مگر ہندوستان میں مسلمانوں کی حالتِ زار دیکھ کر اب وہی شخص ایک آزاد ملک کی یا قیامِ پاکستان کی برکتوں اور فضیلتوں پر انگلی اٹھاسکتا ہے جو عقل وشعور سے بالکل خالی ہو، یا پیسوں کے عوض ڈیوٹی نبھارہا ہو۔ ابوالکلام آزاد صاحب ایک بڑے عالم تھے، کسی زمانے میں وہ دہلی کی بادشاہی مسجد میں جمعتہ المبارک کا خطبہ دیا کرتے تھے اور حکومتِ الہٰیہ کے قیام کے داعی تھے مگر سیاسی تاریخ کے اہم ترین موڑ پر انھوں نے ایک غلط فیصلہ کیا، جدید مسلم تاریخ کے سب سے بڑے مفکر اور شاعر ڈاکٹر اقبالؒ نے 1930ء؁ میں دنیا کو بڑی وضاحت سے سمجھا دیا تھا کہ ہندوستان میں ایک نہیں دو قومیں (مسلمان اور ہندو) بستی ہیں اور مسلمانوں کے مذہبی، اقتصادی، سیاسی اور سماجی حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ ان کے لیے ایک علیحدہ (ملک) ریاست قائم ہو۔ آزاد صاحب اور کچھ دوسرے مولوی صاحبان نے اس نظرئیے سے اتفاق کرنے کی بجائے، کانگریسی لیڈروں کے ساتھ ذاتی مراسم کی وجہ سے یا ذاتی انا کی خاطر، پاکستان بنانے کی مخالفت کی، اقبالؒ نے کہا قوم مذہب سے بنتی ہے علاقے سے نہیں، مگر چند مولوی صاحبان نے گاندھی کی پیروی کرتے ہوئے ہندوستان میں بسنے والے تمام باشندوں کو ایک قوم قرارددے دیا، وقت کے ساتھ ساتھ بہت سوں نے اپنے اس موقف سے رجوع بھی کرلیا۔ ابواکلام آزادؔ کے پیروکاروں کے پاس قیامِ پاکستان کی مخالفت کے لیے کوئی ٹھوس دلیل موجود نہیں، وہ صرف ایک بات دھراتے رہتے ہیں کہ آزاد صاحب کا خیال تھا کہ پاکستان نہ بنتا تو پورے ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی، اس کی وجہ سے وہ طاقتور ہوتے اور ہندو اکثریت ان کے حقوق غصب نہ کرسکتی۔ افسوس کہ ایسا سوچنے والے انگریز کے جانے کے بعد ہندوستان کے سیاسی اور حکومتی نقشے کا اندازہ ہی نہ کرسکے، اُس کا اندازہ صرف علامہ اقبالؒ اور محمد علی جناحؒ کی بصیرت افروز نگاہوں نے کیا، اور اُسی وقت بتادیا کہ اگر پورے ہندوستان میں مسلمان دس کروڑ ہیں تو ہندو چالیس کروڑ ہیں، انگریزوں کے جانے کے بعد جمہوریت یا انتخابات کے نتیجے میں اکثریت رکھنے والے ہندؤں کی حکومت بنے گی، وہ ہندوستان کے حاکم ہوں گے اور باقی سب ان کی رعایا یا غلام ہوں گے، اس لیے کہ جمہوری نظام کے تحت حکومت ہمیشہ آبادی کی اکثریت کی یعنی ہندوؤں کی ہی بنے گی، لہٰذا فوج، پولیس اور پوری حکومتی مشینری ان کے کنٹرول میں ہوگی، جس کے بے رحمانہ استعمال سے وہ غیر ہندوؤں کو (چاہے ان کی تعداد کتنی بھی ہو) دبالیں گے خصوصاً مسلمانوں (جن کی وہ کئی صدیوں تک رعایا رہے) کے خلاف ان کی صدیوں سے دبی ہوئی نفرت ابھر کر سامنے آئے گی اور وہ ان سے انتقام لینے کے لیے ان کے جائز حقوق کو بھی روند ڈالیں گے۔ آج سو سال بعد بانیانِ پاکستان کے خدشات سو فیصد درست ثابت ہوئے ہیں۔ آج بھارت میں مسلمانوں کی تعداد پاکستان سے زیادہ (26 کروڑ) ہے۔ مگر نہ ان کی جان، مال اور عزّت محفوظ ہے اور نہ ہی ان کی عبادت گاہیں اور گھر محفوظ ہیں۔ آج ہندوستان کے مسلمان سیاسی، معاشی، اور سماجی طور پر دلّتوں سے نیچے چلے گئے ہیں۔ کسی باہر کے ملک میں ہندوستان کے مسلمان مل جائیں تو وہ علحدہ لے جاکر کہتے ہیں کہ ’’جناح صاحب کو دعائیں دو کہ جن کی وجہ سے چالیس کروڑ مسلمانوں کو تو آزادی نصیب ہوئی، ورنہ آج ساٹھ کروڑ ہماری طرح غلام ہوتے اور ہر روز ایک بدترین عذاب سے گذررہے ہوتے‘‘۔ کیا اقلیّت کی زیادہ تعداد ان کے حقوق کی ضمانت بن سکتی ہے؟ ہر گز نہیں۔ کشمیر میں مسلمانوں کی تعداد نوّے فیصد سے زیادہ ہے، ہر گھر کے نوجوان شہید ہوئے ہیں، ہر کشمیری مسلمان کے دل میں بھارت کے لیے شدید نفرت ہے اور وہ دہلی حکومت کی غلامی میں نہیں رہنا چاہتے، مگر کیا اسّی سالوں میں مسلمانوں کی اتنی بڑی تعداد اپنے مقاصد حاصل کرسکی ہے؟ بالکل نہیں، وہ ہر روز بھارت کی فوج اور پولیس کے مظالم کا نشانہ بنتے ہیں مگر معمولی سے حقوق بھی حاصل نہیں کرپائے۔ کیوں؟ اس لیے کہ دہلی کی حکومت ہندوؤں کے پاس ہے اور فوج اور سیکیوریٹی فورسز دہلی حکومت کے کنٹرول میں ہیں، آج ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد انڈونیشیا کے علاوہ ہر مسلمان ملک سے زیادہ ہے۔ کیا اتنی بڑی تعداد رکھنے والے مسلمان اپنے حقوق کا تحفظ کرپائے ہیں؟ کیا ابوالکلام صاحب کی پیشنگوئیاں مسلمانوں کی عبادت گاہوں کی حفاظت کرسکی ہیں؟ کیا آزادؔ صاحب کے دکھائے جانے والے خواب مسلمانوں کی ہر روز جلائی جانے والی دکانوں کی آگ بجھا پائے ہیں؟ دانائے راز ڈاکٹر محمد اقبالؒ اور محمد علی جناحؒ صاحب کی دور رس نگاہیں سو سال آگے کا نقشہ دیکھ رہی تھیں،آج بھارت میں اس کی ہوبہو عملی تصویر نظر آرہی ہے۔ یہاں تو اقلیّت میں ہونے والے حکمران حکومتی جبر کے زور پر واضح اکثریت کو دبائے رکھتے ہیں، جس طرح صدّام نے اور حافظ اسد یا اس کے بیٹے بشار الاسد نے کئی دہائیوں تک اکثریت کو دبائے رکھا۔ ہندؤں کی تو بھارت میں بہت بڑی اکثریت ہے۔ تحریکِ پاکستان کی کال یقیناً ایک رحمتِ خداوندی تھی، وہ نویدِ الٰہی تھی، وہ ایک خدائی تحفہ تھا کہ لے لو آزادی جتنے لے سکتے ہو، بچالو جتنے مسلمانوں کو بچاسکتے ہو۔ ایک جابر اور کم ظرف حکمران کی غلامی سے نکال کر لے جاؤ جتنے مسلمان نکال سکتے ہو۔ اللہ تعالیٰ کی کروڑوں رحمتیں نازل ہوں قائداعظم اور ان کے ساتھیوں پر، جنھوں نے دو تہائی مسلمانوں کو غلامی سے بچالیا اور انھیں آزادی سے ہمکنار کیا۔ اگر پاکستان نہ بنتا تو کیا ابوالکلام آزاد تمام مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ کرپاتے؟ کیا وہ انھیں ہندو اکثریت کے جبر سے بچا لیتے؟ ہر گز نہیں۔ اُس وقت تین مشہور سیاستدان قیامِ پاکستان کے خلاف تھے۔ ابوالکلام آزاد، کشمیر سے شیخ عبداللہ اور صوبہ سرحد سے عبدالغفار خان۔ اتفاق سے آزاد صاحب کی کتاب india wins freedom، شیخ عبداللہ کی آتشِ چنار، اور عبدالغفار خان کے بیٹے عبدالولی خان کی کتاب facts are facts تینوں میرے سامنے پڑی ہیں، انھی کی روشنی میں بات کرتے ہیں۔ فی الحال شیخ عبداللہ کی اپنے گرو آزاد صاحب کے بارے میں یہ لائنیں پڑھ لیں ’’مولانا ابوالکلام آزاد مسلمانوں کی قیادت کے معاملے میں جناح صاحب جیسے مغرب کے رنگ میں رنگے وکیل کے مقابلے میں نہ جم سکے، اس میں ان کے قوم پرستانہ اعتقادات کا بڑا دخل تھا، مولانا کی پوزیشن عجیب ہوگئی تھی، فرقہ پرست ہندو انھیں مسلمان سمجھ کر ان پر اعتبار نہ کرتے تھے اور مسلمان انھیں ہندؤں کا شوبوائے قرار دیتے تھے‘‘۔ صورتحال یہ تھی کہ آخری سالوں میں حکومت کا کوئی معمولی اہلکار بھی مولانا کی بات نہ سنتا تھا، نہ مانتا تھا۔ شیخ عبداللہ کے بقول ’’مولانا آزاد بددل ہو کر بالکل گوشہ نشین ہوکر رہ گئے تھے اور ان سے خال خال ہی کوئی شرفِ ملاقات حاصل کرسکتا تھا‘‘ تو کیا ایسے بے بس آزاد صاحب مسلمانوں کو آزاد رکھ سکتے تھے؟ (جاری ہے)
Read Entire Article
Chatroom