پاکستان کے میرین فشریز ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل منصور علی وسان نے کے مطابق پاکستان نے سعودی عرب کے فوڈ ریگولیٹر کو 24 سی فوڈ برآمد کنندگان کی منظوری کے لیے درخواستیں جمع کرائی ہیں۔
سعودی عرب میں غیر ملکی سی فوڈ اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ مچھلی اور اس سے متعلقہ مصنوعات برآمد کرنے سے پہلے متعلقہ حکام سے منظوری حاصل کریں۔
پاکستانی عہدیدار کے مطابق پاکستان اس وقت سعودی عرب کو سالانہ تقریباً ڈیڑھ کروڑ ڈالر جبکہ مجموعی طور پر مشرقِ وسطیٰ کو تقریباً 10 کروڑ ڈالر کا سی فوڈ برآمد کرتا ہے۔
پاکستان کی تقریباً 60 فیصد سی فوڈ برآمدات چین خریدتا ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن
پاکستان کے میرین فشریز ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل منصور علی وسان نے عرب نیوز کو جمعرات کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ سعودی مارکیٹ تک وسیع رسائی سے پاکستانی برآمد کنندگان کو اپنے ملک کے قریب ہی زیادہ قیمت کی حامل سی فوڈ مصنوعات فروخت کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
منصور علی وسان نے کہا، ’ہم نے وہاں 24 کمپنیوں کی دستاویزات پہلے ہی جمع کرا دی ہیں۔‘
عرب نیوز کے مطابق ایک سرکاری دستاویز میں ان درخواستوں کو سعودی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کے پاس زیرِ التوا دکھایا گیا ہے۔ دستاویز میں متعدد پاکستانی سی فوڈ کمپنیوں کے نام شامل ہیں۔
دستاویز میں جن کمپنیوں کے نام شامل تھے، ان میں بلیو اینڈ وائٹ فشریز، ارسولا سی فوڈز، سندھ بلوچستان کوسٹل کمپنی، میری ٹائم سی فوڈ، لیجنڈ انٹرنیشنل پرائیویٹ لمیٹڈ، اوشن گولڈ سی فوڈ، حسین اینڈ سنز انٹرپرائزز، او آر بی ایگزم کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ، النور انٹرنیشنل، سپریم سی فوڈ انٹرپرائزز، سام فش ٹریڈنگ، مخی نور دین اینڈ سنز، ہی 5 انٹرنیشنل فوڈ پاکستان، اے جی فشریز پرائیویٹ لمیٹڈ اور فالکن فشریز (پرائیویٹ) لمیٹڈ شامل ہیں۔
سعودی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کی اکتوبر 2025 کی ایک فہرست میں پہلے ہی 11 پاکستانی سی فوڈ اداروں کو سعودی عرب برآمدات کی اجازت دی گئی تھی۔ تاہم منصور علی وسان نے یہ نہیں بتایا کہ 24 درخواستیں کب جمع کرائی گئیں، آیا ان میں پہلے سے منظور شدہ کمپنیاں بھی شامل ہیں یا نہیں، اور ان میں سے کتنی کمپنیوں کو بعد میں منظوری مل چکی ہے۔
سعودی پریس اتاشی نے عرب نیوز کے سوالات کا جواب حاصل کرنے کی یقین دہانی کرائی، تاہم خبر کی اشاعت تک مزید جواب موصول نہیں ہوا تھا۔
منصور علی وسان نے بتایا کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع نے بحرین، قطر اور کویت کو پاکستانی سی فوڈ کی کچھ برآمدات متاثر کی ہیں۔ ان کے مطابق سعودی عرب کو فروخت میں اضافہ ہوا ہے، تاہم مارکیٹ میں خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کی محدود تعداد اس میں رکاوٹ ہے۔
انہوں نے کہا، ’اگر ہماری مزید کمپنیوں کو سعودی عرب میں فہرست میں شامل کرلیا جائے تو ہم وہاں تازہ اور اعلیٰ معیار کا سی فوڈ فراہم کرسکتے ہیں۔‘
منصور علی وسان کے مطابق پاکستان کو اس حوالے سے ایک اور چیلنج اپنی برآمدی مصنوعات کی نوعیت کا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ زیادہ تر برآمد کنندگان بنیادی پیکنگ کے بعد سی فوڈ برآمد کرتے ہیں، جبکہ ملک کے 578 برآمد کنندگان میں سے صرف تین کمپنیاں مزید پراسیسنگ کرکے تیار کھانے جیسی مصنوعات تیار کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ برآمد کنندگان پراسیسنگ مشینری کی درآمد پر ٹیکس میں ریلیف اور ڈیوٹی میں کمی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
منصور علی وساں نے کہا، ’ہمیں صرف پیکنگ کرنے والوں سے ویلیو ایڈیشن مصنوعات تیار کرنے والے پروڈیوسرز کی طرف منتقل ہونا ہوگا۔‘
ان کے اندازے کے مطابق اگر پاکستان سی فوڈ کی مزید پراسیسنگ شروع کرے تو آئندہ پانچ برس میں مشرقِ وسطیٰ کو سالانہ سی فوڈ برآمدات ایک ارب ڈالر تک بڑھائی جا سکتی ہیں۔ ان کے مطابق اس وقت خطے کو تقریباً 10 کروڑ ڈالر کی سی فوڈ برآمد کی جاتی ہے۔
وزارتِ بحری امور نے جون 2026 کو ختم ہونے والے مالی سال میں پاکستان کی سی فوڈ برآمدات 56 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچنے کا بتایا ہے۔
تاہم پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کے حتمی تجارتی اعداد و شمار کے مطابق یہ برآمدات تقریباً 48 کروڑ 20 لاکھ ڈالر رہیں، جو وزارتِ بحری امور کے اعداد و شمار سے مختلف ہیں۔ اس فرق کے باعث وزارت کی برآمدی پیش گوئیوں کا کسی حتمی اور مستند بنیادی اعداد و شمار کے ساتھ موازنہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
<p class="rteright">کراچی کی ایک فشری بندرگاہ پر واقع مچھلی فیکٹری میں کارکن 22 نومبر، 2019 کو برآمد کے لیے پوری سکویڈ مچھلیاں پیک کرنے کی تیاری کر رہے ہیں(اے ایف پی)</p>
.png)
3 hours ago
1




English (US) ·