Want Your Business Featured Here?
Get instant exposure to our readers
Chat on WhatsApp
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا یہ واضح پیغام کہ افغان طالبان نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہ کی تو انھیں بھی نتائج بھگتنا پڑیں گے، اس بنیادی حقیقت کی نشان دہی کرتا ہے کہ ہمسایہ ملک کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف حملوں کا سلسلہ نہ تو معمول کی سفارتی گفتگو سے نظرانداز کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی محض یقین دہانیوں سے اس کا تدارک ممکن ہے۔ اب ضرورت ایسے عملی اقدامات کی ہے جن کے نتائج سرحد کے دونوں طرف امن کی صورت میں دکھائی دیں۔
پاکستان کا افغانستان کی طالبان حکومت سے مطالبہ اصولی ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ اس مطالبے کو کسی غیر معمولی رعایت یا دوسرے ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا۔
ہر خودمختار ریاست کی بنیادی ذمے داری ہے کہ اس کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے شہریوں پر حملوں، تخریب کاری یا مسلح کارروائیوں کے لیے استعمال نہ ہو۔ یہی اصول بین الاقوامی تعلقات میں ریاستی خودمختاری کے ساتھ ذمے داری کو بھی لازم قرار دیتا ہے، اگر افغانستان کی سرزمین پر موجود کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد گروہ پاکستانی علاقوں میں حملے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو اس صورت حال کا خاتمہ افغانستان کے اقتدار پر قابض رجیم کی عملی معاونت کے بغیر دشوار ہوگا۔
ادھر پاکستان کو بھی اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات، داخلی قانون اور بین الاقوامی ذمے داریوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے، جاری رکھنے کا حق حاصل ہے۔ سفارت کاری کی کامیابی کا پیمانہ ملاقاتوں کی تعداد، مشترکہ بیانات کی طوالت یا اجلاسوں کے بعد جاری ہونے والی خوش آئند عبارتیں نہیں، بلکہ زمینی صورت حال میں آنے والی تبدیلی ہے۔ پاکستان افغانستان کے ساتھ مذاکرات، دوروں اور سہ فریقی رابطوں کے ذریعے اس مسئلے کا حل تلاش کرتا رہا ہے۔
اگست 2025 میں کابل میں پاکستان، چین اور افغانستان کے درمیان ہونے والے سہ فریقی اجلاس کا ذکر بھی اسی سلسلے میں اہم ہے، تاہم اگر ایسے رابطوں کے باوجود سرحد پار حملوں کا خطرہ برقرار رہے تو اس کا مطلب ہے کہ سفارتی وعدوں کو موثر عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کی ضرورت ابھی پوری نہیں ہوئی۔ اس مرحلے پر افغان حکام کے لیے لازم ہے کہ وہ دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی، ان کی نقل و حرکت، اسلحے کی فراہمی، مالی معاونت اور سرحد پار کارروائیوں سے متعلق خدشات کو محض بیانات کے ذریعے مسترد کرنے کے بجائے قابل تصدیق اقدامات کریں۔ اعتماد اسی وقت بحال ہوگا جب پاکستان کو یہ اطمینان حاصل ہو کہ اس کے شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنانے والے عناصر کے لیے افغان سرزمین محفوظ پناہ گاہ نہیں رہی۔
یہاں ایک اہم حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ دہشت گردی کا نقصان کسی ایک ریاست تک محدود نہیں رہتا۔ افغانستان خود بھی طویل جنگ، معاشی مشکلات، سیاسی تنہائی اور بنیادی سہولتوں کی کمی جیسے مسائل سے دوچار رہا ہے، اگر اس کی سرزمین پر سرگرم مسلح دہشت گرد تنظیمیں ہمسایہ ممالک کے لیے خطرہ بنتی ہیں تو اس کے نتیجے میں افغانستان کے اپنے علاقائی تعلقات بھی متاثر ہوں گے۔
تجارت، آمدورفت، سرحدی تعاون اور معاشی روابط کا فروغ اسی وقت ممکن ہے جب ریاستیں ایک دوسرے کی سلامتی کو اپنے مفادات سے الگ کرکے نہ دیکھیں۔ افغان حکومت کے لیے اس معاملے کو محض پاکستان کا مطالبہ سمجھنا حقیقت سے صرفِ نظر ہوگا۔ دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی افغانستان کے اپنے مفاد میں بھی ہے، کیونکہ مسلح گروہوں کو کھلی چھوٹ دینا بالآخر ریاستی اختیار، داخلی استحکام اور خطے میں اس کے مقام کے لیے خطرات پیدا کرسکتا ہے۔ پائیدار امن کا تقاضا یہی ہے کہ کسی گروہ کو نظریاتی قربت، سیاسی مصلحت یا وقتی ضرورت کی بنیاد پر قانون سے بالاتر نہ سمجھا جائے۔
پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں غیر معمولی انسانی اور معاشی قیمت ادا کی ہے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے بیان کے مطابق اس جنگ میں پاکستان نوے ہزار سے زیادہ جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔ یہ اعداد محض سرکاری تقریر کا حصہ نہیں، بلکہ ان خاندانوں کی محرومیوں، اجڑی ہوئی بستیوں، تباہ شدہ کاروباروں اور ان معاشی مواقع کی یاد دہانی ہیں جو مسلسل بدامنی کی نذر ہوئے۔
دہشت گردی کا ایک دھماکا صرف چند لمحوں میں جانیں نہیں لیتا، وہ سرمایہ کاری کے اعتماد، سیاحت کے امکانات، کاروباری سرگرمیوں اور عام شہری کے مستقبل پر بھی ضرب لگاتا ہے۔ جب کسی علاقے میں خوف مستقل کیفیت بن جائے تو وہاں تعلیم، روزگار اور ترقی کے منصوبے اپنی رفتار کھو دیتے ہیں۔ اس لیے دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کو محض عسکری کارروائیوں کے دائرے میں محدود کرنا درست نہیں؛ یہ پاکستان کے معاشی احیا، سماجی استحکام اور قومی وقار کی جنگ بھی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں منظور کیے جانے والے وژن عزم استحکام کا ذکر اسی وسیع تناظر میں اہمیت رکھتا ہے۔ دہشت گردی کی بنیادی وجوہات کا خاتمہ صرف کارروائیوں سے ممکن نہیں، اس کے لیے انٹیلی جنس کے مؤثر تبادلے، قانون کی یکساں عمل داری، سرحدی نگرانی، مالیاتی ذرائع کی بندش اور متاثرہ علاقوں میں ریاستی خدمات کی فراہمی بھی ضروری ہے۔
انتہا پسندانہ تشدد کو پھیلنے کے مواقع وہاں زیادہ ملتے ہیں جہاں انتظامی کمزوریاں، معاشی محرومیاں اور سرکاری اداروں سے عوام کا فاصلہ بڑھ جائے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ غربت یا محرومی تشدد کا جواز بن سکتی ہے بلکہ یہ کہ مؤثر انسدادِ دہشت گردی کے لیے مجرموں کے خلاف کارروائی کے ساتھ ان حالات کو بھی دور کرنا ہوگا جن سے شدت پسند عناصر فائدہ اٹھاتے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں اور عام شہری کی زندگی میں بہتری ایک دوسرے کی ضد نہیں، بلکہ ایک ہی قومی حکمت عملی کے دو لازم حصے ہیں۔
اسی تناظر میں خیبرپختونخوا کی صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس اہم پیش رفت کی حیثیت رکھتا ہے، جس میں وفاقی اور صوبائی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد اور صوبے کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ پولیس اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی کو جدید اسلحہ، تربیت اور ضروری وسائل کی فراہمی کا فیصلہ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ داخلی سلامتی کا بوجھ صرف فوج یا کسی ایک ادارے پر نہیں ڈالا جاسکتا۔ دہشت گردی کے خلاف پہلی صف میں موجود پولیس اہلکار اکثر ایسے حالات کا سامنا کرتے ہیں جہاں چند لمحوں کی غفلت یا وسائل کی کمی بھاری نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔
ان کی پیشہ ورانہ تربیت، جدید مواصلاتی نظام، حفاظتی سازوسامان، مؤثر تفتیش اور بروقت معلومات تک رسائی یقینی بنانا حکومت کی بنیادی ذمے داری ہے۔اس جنگ میں ایک اور بنیادی تقاضا عوامی اعتماد کا تحفظ ہے۔ دہشت گردی کے واقعات کے بعد شہریوں کو محض سخت بیانات نہیں، قابل اعتماد معلومات، موثر حفاظتی انتظامات اور انصاف کی فراہمی درکار ہوتی ہے۔ متاثرہ خاندانوں کی مدد، شہدا کے ورثا کی کفالت، زخمیوں کے علاج اور بے گھر ہونے والے لوگوں کی بحالی کو قومی پالیسی کا مستقل حصہ بنانا چاہیے، اگر کوئی علاقہ مسلسل بدامنی کا شکار رہے تو وہاں کے شہریوں کو یہ احساس دلانا ضروری ہے کہ حکومت ان کے تحفظ کے ساتھ ان کی تعلیم، روزگار اور بنیادی سہولتوں کے لیے بھی موجود ہے۔
افغانستان کے معاملے میں پاکستان کو بیک وقت دو راستوں پر آگے بڑھنا ہوگا، ایک طرف دہشت گردی کے خلاف واضح، مؤثر اور ناقابلِ ابہام مؤقف اور دوسری طرف ایسے سفارتی رابطے جو تنازع کو وسیع تصادم میں بدلنے سے روک سکیں۔ اسحاق ڈار کی تنبیہ کو اسی اصول کے تحت دیکھا جانا چاہیے کہ مسلسل حملوں اور وعدوں کی عدم تکمیل کے نتائج ہوں گے۔ تاہم کسی بھی ردعمل کا مقصد دہشت گردی کے خطرے کو ختم کرنا، شہریوں کی حفاظت یقینی بنانا اور خطے میں استحکام پیدا کرنا ہونا چاہیے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان پائیدار امن کا راستہ نہ دھمکیوں کے مسلسل تبادلے سے نکل سکتا ہے اور نہ ایسے مذاکرات سے جو عملی پیش رفت کے بغیر ختم ہوجائیں۔ اس کے لیے افغان حکومت کو اپنی سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی روکنے کے قابل تصدیق اقدامات کرنا ہوں گے، جب کہ پاکستان کو سرحدی تحفظ، داخلی سلامتی، موثر حکمرانی اور علاقائی سفارت کاری کو ایک مربوط حکمت عملی میں ڈھالنا ہوگا۔ خیبرپختونخوا میں وفاقی و صوبائی تعاون اسی سمت میں ایک ضروری قدم ہے، مگر اصل کامیابی اس وقت سامنے آئے گی جب پولیس اور سی ٹی ڈی کی صلاحیت میں اضافہ، انٹیلی جنس کا بہتر نظام، دہشت گردوں کے مالی ذرائع کی بندش اور شہریوں کے تحفظ کے اقدامات زمینی نتائج پیدا کریں گے۔
امن کسی اعلان سے قائم نہیں ہوتا، اسے عزم، نظم، وسائل اور مسلسل جواب دہی سے حقیقت بنایا جاتا ہے۔ افغان طالبان کے لیے بھی اب بنیادی سوال یہی ہے کہ وہ اپنے وعدوں کو عملی اقدام میں کب تبدیل کرتے ہیں۔ اگر خطے کو بدامنی کے مسلسل دائرے سے نکالنا ہے تو دہشت گردی کے لیے کسی بھی سرزمین کو محفوظ پناہ گاہ بننے سے روکنا ہوگا۔ پاکستان کا مطالبہ اسی اصول پر قائم ہے، اور اس کی کامیابی صرف پاکستان ہی نہیں، افغانستان اور پورے خطے کے مستقبل کے لیے بھی اہم ہے۔