پاک افغان کشیدگی سے دہشت گرد نیٹ ورکس کی حوصلہ افزائی؟

4 hours ago 1

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

افغانستان اور پاکستان کے درمیان حالیہ بڑھتی ہوئی کشیدگی ان دہشت گرد نیٹ ورکس کے حوصلے بلند کرے گی، جنہیں پاکستان سرحد پار دہشت گردی کی وجہ سے ختم کرنا چاہتا ہے۔

جہاں پاکستان طالبان حکومت سے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو ان کی افغان پناہ گاہوں سے بے دخل کرنے، غیر مسلح کرنے اور ان کا صفایا کرنے کی توقع رکھتا ہے، وہیں طالبان یہ توقع رکھتے ہیں کہ پاکستان اس دہشت گرد گروہ کے ساتھ مذاکرات کرے۔

دونوں فریقوں کے سخت موقف میں اس بنیادی فرق کی وجہ سے، جنگ بندی کی صورت میں بھی تناؤ بڑھے گا اور برقرار رہے گا۔

 27فروری کو افغانستان اور پاکستان کے تعلقات اس وقت انتہائی نچلی سطح پر پہنچ گئے جب پاکستان نے سرحد پار دہشت گردی میں اضافے کے باعث افغانستان میں اپنے فضائی حملوں کا دائرہ کار بڑھانے کا فیصلہ کیا۔

اسلام آباد نے تحریک طالبان پاکستان کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ طالبان کی سرحدی چوکیوں اور فوجی تنصیبات پر بھی حملے کیے۔ جواب میں طالبان نے پاکستان افغان سرحد پر بڑے پیمانے پر زمینی کارروائی شروع کی۔

اس کے بعد سے دونوں اطراف سے اپنے اپنے موقف پر ڈٹ جانے کی وجہ سے وقفے وقفے سے جھڑپیں جاری ہیں، جس نے پہلے سے نازک صورت حال کو ایک غیر یقینی رخ دے دیا ہے۔ پاکستان نے طالبان حکومت کے خلاف ’کھلی جنگ‘ کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ کابل نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ اسلام آباد کے خلاف لڑے گا چاہے یہ تنازع ایک دہائی تک ہی کیوں نہ چلے ۔

قطر اور ترکی کی ثالثی کے بعد اکتوبر 2025 میں ایک کمزور جنگ بندی کے باوجود، پاکستان افغان کشیدگی بتدریج بڑھ رہی تھی۔ بعد ازاں سعودی عرب نے بھی مذاکرات میں ثالثی کی، لیکن اکتوبر کی جنگ بندی کے علاوہ کوئی حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔

ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے بعد مشرق وسطیٰ میں پھیلی ہوئی کشیدگی کی وجہ سے خلیجی ممالک نے پاکستان افغان تناؤ کو ختم کرنے میں خاصی دلچسپی نہیں دکھائی ہے۔ یہ تناؤ جتنا طویل ہوگا، خطے میں دہشت گرد نیٹ ورکس کے لیے اتنی ہی زیادہ جگہ پیدا ہوگی۔

اگست2021 میں جب طالبان دوبارہ اقتدار میں آئے تو پاکستان کو امید تھی کہ وہ ان کے سخت گیر مذہبی نظام کی بحالی میں مدد کے بدلے پاکستان مخالف عسکریت پسندی کے خاتمے کے لیے ان کا تعاون حاصل کر لے گا۔

طالبان کے بارے میں پاکستان کی خوش فہمی اس خام خیالی پر مبنی تھی کہ اقتدار سنبھالنے کے بعد طالبان ایک جذباتی باغی تحریک کے بجائے ایک سمجھدار ریاستی کردار کے طور پر کام کریں گے۔

اسلام آباد کے اس سادہ نظریہ نے طالبان اور ٹی ٹی پی کے درمیان گہرے نظریاتی لگاؤ، جنگی میدان کے رشتوں اور نسلی و جغرافیائی روابط کو نظر انداز کر دیا۔

ٹی ٹی پی طالبان کے سپریم لیڈر کی بیعت کرتی ہے اور اس کا مقصد مسلح بغاوت کے ذریعے پاکستان میں طالبان کے طرز کی شریعت نافذ کرنا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان نے غلطی سے یہ سمجھ لیا تھا کہ زمین بند افغانستان پر اس کا سیاسی، معاشی اور جغرافیائی اثر اتنا ہے کہ وہ طالبان کو اپنی شرائط ماننے اور ٹی ٹی پی کے خلاف مطلوبہ تعاون فراہم کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔

پاکستان کی توقعات کے برعکس، طالبان کی جیت نے پاکستانی جہادی گروہوں میں نئی روح پھونک دی۔ طالبان کی سرپرستی، لاجسٹک مدد اور سٹریٹجک رہنمائی نے پاکستان مخالف دہشت گرد نیٹ ورکس کی آپریشنل صلاحیتوں کو بڑھا دیا، جس کے نتیجے میں پاکستان میں دہشت گردی کی شدید لہر آئی۔

جہاں پاکستان ٹی ٹی پی اور دیگر نیٹ ورکس کو طالبان کے پروردہ گروہ سمجھتا ہے، وہیں طالبان ان گروہوں کو پاکستان کا اندرونی مسئلہ قرار دیتے ہیں۔

پاکستان کا موقف ہے کہ ٹی ٹی پی افغانستان سے طالبان کی سرپرستی میں کام کرتی ہے جبکہ طالبان کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے اپنے سکیورٹی چیلنجز کا ملبہ دوسروں پر ڈال رہا ہے۔

طالبان کے مطابق وہ پاکستان کی مدد تو کر سکتے ہیں، لیکن اس کی سیکیورٹی کی ناکامیوں کو ٹھیک نہیں کر سکتے۔

پاکستان چاہتا ہے کہ طالبان ٹی ٹی پی کو غیر مسلح کر کے وہاں سے نکالیں جبکہ طالبان پاکستان پر زور دیتے ہیں کہ وہ ٹی ٹی پی کو ایک جائز فریق تسلیم کرے اور دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے ماڈل پر مذاکرات کرے۔

دوسری طرف پاکستان طالبان سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ دوحہ معاہدے 2020 کے تحت دہشت گردی کے خلاف اپنی ذمہ داریاں پوری کریں تاکہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو، تاہم طالبان کا موقف ہے کہ قانونی طور پر دوحہ معاہدہ افغانستان اور امریکہ کے درمیان تھا اور پاکستان اس میں فریق نہیں ہے۔

اگرچہ طالبان پاکستان کی روایتی فوجی برتری کا مقابلہ نہیں کر سکتے لیکن گوریلا جنگ کا ان کا دو دہائیوں کا تجربہ انہیں پاکستانی فضائی حملوں کو برداشت کرنے اور خودکش حملوں اور ڈرون حملوں کے ذریعے جوابی کارروائی کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔

پاکستانی دباؤ کو مسترد کرنا طالبان کی سیاسی ساکھ میں اضافہ کرتا ہے کیونکہ وہ ملکی اور نظریاتی وجوہات کی بنا پر پاکستانی فوجی کارروائی کے سامنے کمزور نظر نہیں آنا چاہتے۔

 اگر طالبان دباؤ میں آکر ٹی ٹی پی کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں تو اس سے نہ صرف جہادی دنیا میں ان کی نظریاتی ساکھ متاثر ہوگی بلکہ وہ افغان عوام کی نظروں میں بھی کمزور ثابت ہوں گے، اس لیے پاکستانی فضائی حملے طالبان کے نظریاتی حساب کتاب کو مثبت کے بجائے منفی طور پر تبدیل کریں گے اور ان حملوں سے طالبان اور ٹی ٹی پی کا گٹھ جوڑ مزید مضبوط ہوگا۔

 لہٰذا پاکستانی فضائی حملے طالبان کے نظریاتی حساب کتاب کو تبدیل تو کر دیں گے لیکن برے طریقے سے۔ طالبان اور ٹی ٹی پی کے گٹھ جوڑ کو کمزور کرنے کے بجائے، پاکستانی فوجی جارحیت اسے مزید تقویت دے گی۔

اسی طرح، دونوں فریقین کے درمیان پائے جانے والے تناؤ کی وجہ سے دہشت گردی میں مزید اضافہ ہوگا۔ ٹی ٹی پی پہلے ہی پاکستان کے اندر اپنے حملوں میں تیزی لانے کے لیے اپنی سالانہ بہار کی کارروائیوں کااعلان کر چکی ہے۔

آخر کار، افغانستان اور پاکستان کے تناؤ سے پیدا ہونے والی علاقائی افراتفری ان ہی دہشت گرد نیٹ ورکس کے حوصلے بلندکرے گی، جنہیں پاکستان ختم کرنا چاہتا ہے۔

حالیہ کشیدگی کے بعد دونوں ممالک کے سخت موقف کو دیکھتے ہوئے حالات کے پرامن ہونے کا امکان بہت کم ہے۔

اسلام آباد کا کہنا ہے کہ فضائی حملے تب تک جاری رہیں گے جب تک طالبان ٹی ٹی پی سے لاتعلقی کا اظہار نہیں کرتے جبکہ طالبان اس مطالبے کو خام خیالی قرار دیتے ہیں، لہٰذا تشدد بڑھے گا اور برقرار رہے گا، تاہم مکمل جنگ کا امکان محدود ہے۔

اگر جنگ بندی ہو بھی گئی تو وہ زیادہ دیر نہیں چلے گی۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

Read Entire Article