Want Your Business Featured Here?
Get instant exposure to our readers
Chat on WhatsApp
ٹائپ 1 اور ٹائپ 2 ذیابیطس پر طبی ماہرین طویل عرصے سے تحقیق کر رہے ہیں اور انہیں ذیابیطس کی سب سے عام اقسام کے طور پر جانا جاتا ہے۔ لیکن تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ ذیابیطس کی ایک تیسری قسم بھی ہو سکتی ہے، جو خاص طور پر بعض گروہوں کو متاثر کر رہی ہے۔
عام طور پر ذیابیطس اس وقت ہوتی ہے جب جسم میں انسولین کی مناسب مقدار پیدا نہیں ہوتی یا جسم کے خلیے انسولین کے لیے درست ردِعمل ظاہر نہیں کرتے، جس کے نتیجے میں خون میں شوگر کی سطح بڑھ جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق الزائمر کے مرض میں مبتلا افراد بھی درحقیقت اسی طرح کی کیفیت کا سامنا کر رہے ہو سکتے ہیں۔ بعض طبی ماہرین اس کیفیت کو ٹائپ 3 ذیابیطس کا نام دیتے ہیں۔
ویک فاریسٹ یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن میں شعبہ عمر رسیدگی اور امراضِ بزرگاں کی پروفیسر اور الزائمر ڈیزیز ریسرچ سینٹر کی ڈائریکٹر ڈاکٹر سوزین کرافٹ کے مطابق ’ٹائپ 3 ذیابیطس کی اصطلاح اس تصور کی عکاسی کرتی ہے کہ الزائمر کے مرض میں انسولین کے خلاف مزاحمت یا دماغ میں انسولین کے سگنلز کی ترسیل میں خرابی کی ایک خاص کیفیت شامل ہو سکتی ہے۔
انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیفیت ٹائپ 1 ذیابیطس سے مختلف ہے، جس میں خودکار مدافعتی نظام کا عمل لبلبے کو مناسب مقدار میں انسولین پیدا کرنے سے روک دیتا ہے۔ اسی طرح یہ ٹائپ 2 ذیابیطس سے بھی مختلف ہے، جس میں جسم انسولین کے خلاف مزاحمت کرنے لگتا ہے اور گلوکوز کے میٹابولزم، یعنی جسم میں شکر کو استعمال کرنے کے عمل، کو منظم کرنے میں دشواری پیش آتی ہے۔
الزائمرز سوسائٹی کے مطابق الزائمر کے مرض میں مبتلا افراد کے دماغ میں تبدیلیوں کے باعث ان کا جسم انسولین کے خلاف مزاحمت پیدا کر سکتا ہے۔
واضح رہے ٹائپ 3 ذیابیطس کا تصور نیا نہیں ہے۔ نیوز ویک کے 2017 میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں ٹائپ 3 سی ذیابیطس کی نشاندہی کی گئی تھی، جو لبلبے کو مختلف اقسام کے نقصان پہنچنے کے نتیجے میں ہوتی ہے۔