نومبر 2001 میں میرا فون بجا۔ نمبر نامعلوم تھا، لیکن آواز جانی پہچانی تھی۔
’وہ شخص دوبارہ آپ سے ملنے کے لیے تیار ہے۔ کیا آپ کابل آ سکتے ہیں؟‘
یہ القاعدہ کا وہ قاصد تھا جس نے چند ماہ قبل قندھار میں اسامہ بن لادن کے ساتھ میرا انٹرویو طے کروایا تھا۔ وہ انٹرویو 11 ستمبر کے حملوں سے پہلے بن لادن کا آخری انٹرویو ثابت ہوا۔
اس وقت تک افغانستان امریکہ کی قیادت میں ہونے والی فوجی یلغار کے باعث بکھر رہا تھا۔ کابل کا سقوط قریب تھا۔ وہاں پہنچنا زیادہ مشکل اور خطرناک ہوتا جا رہا تھا۔
لیکن اس فون کال نے مجھے فوراً قندھار واپس پہنچا دیا، اور اس انتباہ کی یاد دلائی جو میں نے وہاں سنی تھی۔
القاعدہ کے فوجی سربراہ ابو حفص المصری، بن لادن کے قلعہ نما کمپاؤنڈ میں ہونے والے میرے انٹرویو کے دوران موجود تھے۔ انہوں نے مجھ سے کہا: ’امریکہ میں تابوتوں کا کاروبار بڑھ جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک ’بڑا سرپرائز‘ آنے والا ہے، اور امریکی اور اسرائیلی مفادات کو نشانہ بنایا جائے گا۔
چند ماہ بعد 11 ستمبر کے حملے ہو گئے۔
جب میں نے ٹوئن ٹاورز کو گرتے دیکھا تو قندھار میں سنے ہوئے الفاظ میرے ذہن میں گونجنے لگے۔
تقریباً 3,000 افراد مارے گئے اور اس سے کہیں زیادہ زخمی ہوئے۔ امریکہ نے اس کے جواب میں وہ مہم شروع کی جسے بعد میں عالمی ’وار آن ٹیرر‘ کے نام سے جانا گیا۔ جارج ڈبلیو بش نے دنیا سے کہا: ’یا تو آپ ہمارے ساتھ ہیں، یا دہشت گردوں کے ساتھ ہیں۔‘ انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ ’انہیں بلوں سے نکال کر لائیں گے۔‘
طالبان حکومت، جس نے القاعدہ کو پناہ دے رکھی تھی، ختم کر دی گئی۔ القاعدہ کی قیادت کا بڑا حصہ مارا گیا اور تنظیم کمزور ہو گئی۔ خود بن لادن 2011 میں پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں مارے گئے۔
لیکن ’وار آن ٹیرر‘ جاری رہی۔
بن لادن کے پیروکار کئی بار ان کا یہ قول نقل کر چکے ہیں کہ وہ چاہتے تھے امریکہ افغانستان آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ القاعدہ امریکہ کو وہاں کھینچ لائے گی اور ایک طویل جنگ میں پھنسا دے گی۔
وہ متعدد مواقعوں پر القاعدہ کے کردار کو بیان کرنے کے لیے عربی لفظ ’محرّضون‘ استعمال کرتے تھے، جس کا مطلب ہے اکسانے والے، یا وہ لوگ جو دوسروں کو عمل پر آمادہ کریں۔
امریکہ 50 ملکوں پر مشتمل نیٹو کی زیر قیادت ایساف فورس کے ساتھ افغانستان آیا۔ یہ جنگ پھر 20 سال تک جاری رہی۔
آخرکار امریکہ نے افغان طالبان سے مذاکرات کیے۔
دوحہ معاہدے پر امریکہ اور دوسرے فریق کے درمیان دستخط ہوئے، جسے دستاویز میں ’اسلامی امارت افغانستان‘ کہا گیا، جبکہ ساتھ یہ بھی درج تھا کہ امریکہ اسے ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کرتا اور یہ طالبان کے نام سے معروف ہے۔ طالبان نے، کم از کم کاغذوں میں، اس حکومت کا نام دوبارہ حاصل کر لیا تھا جو 20 سال پہلے ان سے چھین لیا گیا تھا۔
افغانستان کی جنگ پر امریکہ کے تقریباً 2.3 ٹریلین ڈالر خرچ ہوئے اور 2,461 امریکی فوجی جان سے گئے۔
’امریکہ پہلے‘ کا یہ نظریہ بن لادن کے دور میں القاعدہ کی حکمت عملی کا مرکزی حصہ تھا۔ ان کے نائب ایمن الظواہری نے مجھ سے کہا تھا کہ انہیں ’سانپ کے سر پر ضرب لگانی ہے۔‘
لیکن عسکریت پسندی ختم نہیں ہوئی۔ وہ بڑھی اور پھیل گئی۔
پاکستان نے 11 ستمبر کے بعد امریکی مطالبات کے ساتھ چلنے کا فیصلہ کیا اور ’وار آن ٹیرر‘ میں شامل ہو گیا۔
13 ستمبر 2001 کو اس وقت کے امریکی نائب وزیر خارجہ رچرڈ آرمٹیج نے واشنگٹن میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل محمود احمد کو سات نکات پر مشتمل مطالبات کی ایک فہرست دی، جو جنرل مشرف تک پہنچائی جانی تھی۔
بعد میں آرمٹیج نے یاد کرتے ہوئے کہا: ’صدر مشرف نے تمام شرائط بلا استثنا قبول کر لی تھیں۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاکستان کا قبائلی خطہ جنگی میدان بن گیا۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان وجود میں آئی۔ پاکستان آج بھی عسکریت پسندی کے خلاف لڑ رہا ہے اور اس جنگ کے نتائج کا سامنا کر رہا ہے۔
افغانستان کے بعد امریکہ کی قیادت میں افواج نے عراق پر حملہ کیا۔ ان کے انخلا کے بعد داعش ابھری، جس نے عراق اور شام میں وسیع علاقے اپنے قبضے میں لے لیے۔
قیمت صرف فوجی نہیں تھی۔
براؤن یونیورسٹی کے ’کاسٹس آف وار‘ منصوبے کے مطابق، 11 ستمبر کے بعد کی جنگوں پر تقریباً 8 ٹریلین ڈالر خرچ ہوئے۔ انسداد دہشت گردی کے گرد ایک نئی معیشت بھی وجود میں آئی۔
فوجی ٹھیکے، نجی سکیورٹی کمپنیاں، تحقیقی مراکز، جامعاتی پروگرام، خصوصی شعبے، نگرانی کے نظام، مشیر اور ماہرین کا ایک مستقل طبقہ، سب اس جنگ کے گرد پروان چڑھے۔ کئی ٹریلین ڈالر پر مشتمل ایک صنعت بہت سے لوگوں کے لیے ذریعہ معاش بن گئی۔
بہت سے مقامات پر ’وار آن ٹیرر‘ وسیع تر سیاسی، فوجی اور تجارتی مفادات کے حصول کا ذریعہ بھی بن گئی۔ 11 ستمبر کے 25 برس بعد اس حملے کے متاثرین یاد رکھے جانے اور انصاف کے مستحق ہیں۔
لیکن افغانستان، عراق، پاکستان، فلسطین، شام اور دیگر مقامات کے وہ شہری بھی، جو ان جنگوں میں مارے گئے یا زخمی ہوئے جنہیں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے 11 ستمبر کے نام پر لڑا، یاد رکھے جانے اور انصاف کے مستحق ہیں۔
مئی 2023 میں ’کاسٹس آف وار‘ منصوبے کی ایک رپورٹ کے مطابق، 11 ستمبر کے بعد کے جنگی علاقوں میں مجموعی اموات کی تعداد کم از کم 45 سے 47 لاکھ کے درمیان ہو سکتی ہے، جس میں لڑائی میں مارے جانے والے افراد کے ساتھ ساتھ وہ کہیں بڑی تعداد بھی شامل ہے جو ان جنگوں کے بالواسطہ اثرات کے باعث جان سے گئی۔
میں قندھار کے اسی کمپاؤنڈ میں بیٹھا تھا جب ابو حفص نے کہا تھا: ’امریکہ میں تابوتوں کا کاروبار بڑھ جائے گا۔‘
میں نے بن لادن کی طرف دیکھا۔ وہ مسکرائے اور سر ہلایا۔
انٹرویو ختم کر کے جاتے ہوئے بن لادن نے مجھ سے کہا: ’ہم آپ کو دوبارہ بلائیں گے۔‘
نومبر 2001 میں جانی پہچانی آواز کی وہ فون کال، اسی وعدے کے مطابق آنے والی کال تھی۔
میں نہیں گیا۔
بکر عطیانی ایشیا میں عسکریت پسند گروہوں کی دو دہائیوں تک رپورٹنگ کرنے والے ایک سینیئر صحافی ہیں۔ انہیں جنوبی فلپائن میں ابو سیاف گروپ نے 18 ماہ تک یرغمال بنائے رکھا تھا۔ وہ انڈپینڈنٹ اردو کے ایڈیٹر ان چیف بھیں ہیں۔
یہ تحریر اس سے قبل عرب نیوز پر شائع ہوچکی ہے۔
<p class="rteright">نامعلوم تاریخ پر لی گئی اس تصویر میں القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن اور ان کے قریبی ساتھی ایمن الظواہری (فائل: اے ایف پی)</p>
.png)
2 hours ago
1



English (US) ·