وانا کیڈٹ کالج میں موجود تین عسکریت پسندوں کے خلاف دس نومبر 2025 کو شروع ہونے والا آپریشن تاحال جاری ہے۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق تین عسکریت پسند ’کالج کے احاطے میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے جنہیں بعد ازاں انتظامی بلاک میں گھیر لیا گیا۔‘ حملہ آوروں نے بارودی مواد سے بھری گاڑی مرکزی دروازے سے ٹکرا دی، جس سے دروازہ گر گیا اور ملحقہ ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔
ریڈیو پاکستان نے آئی ایس پی آر کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ’دہشت گردوں نے کالج کی بیرونی سکیورٹی کو توڑنے کی کوشش کرتے ہوئے حملہ کیا، تاہم مستعد اور پرعزم اہلکاروں کے بروقت ردِعمل نے ان کے مذموم عزائم ناکام بنا دیے۔‘
خبر میں بتایا گیا ہے کہ عسکریت پسندوں نے ’ایک بار پھر 2014 میں آرمی پبلک سکول پشاور میں کیے گئے اپنے سفاک فعل کی نقالی کی کوشش کی۔ ان کا مقصد سابقہ قبائلی علاقوں کی نئی نسل کو خوفزدہ کرنا تھا، جو اپنی دہلیز پر معیاری تعلیم حاصل کر کے زندگی میں آگے بڑھنے اور اپنی برادریوں میں مثبت کردار ادا کرنے کی خواہش رکھتی ہے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
خبر میں مزید لکھا ہے کہ ’کالج کے اندر چھپے دہشت گرد افغانستان میں موجود اپنے سرپرستوں اور ہینڈلرز سے رابطے میں ہیں اور وہیں سے ہدایات لے رہے ہیں۔‘
پاکستان کو افغانستان میں موجود دہشت گردوں اور ان کی قیادت کے خلاف جواب دینے کا حق حاصل ہے۔ بقیہ انڈیا کی پشت پناہی یافتہ خوارج کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہیں۔
دوسری جانب وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے اسلام آباد اور وانا میں دہشتگردانہ حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’انڈین پشت پناہی میں سرگرم فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی جانب سے دہشتگردانہ حملے قابلِ مذمت ہیں۔‘
وزیرِ اعظم نے جان سے جانے والے سکیورٹی اہلکاروں کے اہلِ خانہ سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’نہتے اور معصوم پاکستانیوں کے خون کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے، دہشتگردی کی عفریت کے مکمل خاتمے اور فتنہ الہندوستان و فتنہ الخوارج کے آخری دہشتگرد کی سرکوبی تک جنگ جاری رہے گی۔‘
.png)
5 months ago
22



English (US) ·