میانوالی کیمپ سے انخلا: جب ایک پاکستانی نے افغان پناہ گزینوں کی یادیں سنبھال لیں

1 month ago 27

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp
افغان پناہ گزینوں کی یادیں: ایک پاکستانی نے ان کے گھروں کے مناظر کو محفوظ کیا

حالیہ ہفتوں میں پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کے کیمپوں میں سے 16 کو مکمل طور پر بند کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں، جن میں پنجاب کا پہلا اور بڑا افغان کیمپ میانوالی کے علاقے کوٹ چاندنہ میں شامل ہے۔ یہ کیمپ تقریباً 45 سال قبل قائم کیا گیا تھا اور اس کے ابتدائی دور میں ایک لاکھ سے زیادہ افغان پناہ گزینوں کی آبادی تھی۔

Background & Context

افغان پناہ گزینوں کے کیمپوں کی نشاندہی تقریباً 45 سال قبل کی گئی تھی، جب افغانستان میں جنگ اور تباہی کی صورتحال نے ان لوگوں کو پاکستان میں پناہ لینے پر مجبور کیا۔ اس وقت کے دوران، حکومت پاکستان نے ان کیمپوں میں اساتذہ، ہسپتالوں میں ملازمین، تعلیمی اداروں میں مشنری، بکنگوں کے لیے ملازمین اور دیگر سرکاری ملازمین تعینات کیے تھے۔

افغان پناہ گزینوں کے کیمپوں میں خدمات کے لیے اقوام متحدہ کی جانب سے تعلیمی اداروں، ہسپتالوں اور دیگر سہولیات کے لیے ملازمین بھی تعینات کیے گئے تھے۔ اس طرح، ان کیمپوں نے افغان پناہ گزینوں کی زندگیوں میں کافی تبدیلی لا کر رکھی۔

Key Details

میانوالی کے علاقے کوٹ چاندنہ میں واقع افغان کیمپ کے ہسپتال میں کام کرنے والے عابد نور نے افغان پناہ گزینوں کے انخلا کے دوران ان کے گھروں کے مناظر کو اپنے موبائل کیمرے میں محفوظ کیا۔ عابد نور کے مطابق، انہوں نے کیمپ کوٹ چاندنہ میں افغان پناہ گزین کے خاندانوں کے انخلا کے مناظر کو محض ذاتی یادگار کے طور پر محفوظ کیا تھا، لیکن بعد میں یہ مناظر ان کے لیے ایک بہت بڑا ذمہ داری بن گئے۔

عابد نور کے مطابق، انہوں نے انخلا کے دوران جب افغان پناہ گزینوں کی وطن روانگی کے مناظر کو محفوظ کیا تو ان کے جذبات بھی ان کے موبائل کیمرے میں محفوظ ہو گئے۔ ان کے مطابق، انہوں نے ایسے مناظر محفوظ کیے جن میں گھروں اور گلیوں کے سینکڑوں مناظر شامل تھے، جو ان کے لیے ایک بہت بڑا ذمہ داری بن گئے۔

What Experts Say

افغان پناہ گزینوں کے کیمپوں میں خدمات کے لیے اقوام متحدہ کی جانب سے تعلیمی اداروں، ہسپتالوں اور دیگر سہولیات کے لیے ملازمین بھی تعینات کیے گئے تھے۔ اس طرح، ان کیمپوں نے افغان پناہ گزینوں کی زندگیوں میں کافی تبدیلی لا کر رکھی۔

Key Takeaways

  • پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کے کیمپوں میں سے 16 کو مکمل طور پر بند کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
  • میانوالی کے علاقے کوٹ چاندنہ میں واقع افغان کیمپ کے ہسپتال میں کام کرنے والے عابد نور نے افغان پناہ گزینوں کے انخلا کے دوران ان کے گھروں کے مناظر کو اپنے موبائل کیمرے میں محفوظ کیا۔
  • عابد نور کے مطابق، انہوں نے انخلا کے دوران جب افغان پناہ گزینوں کی وطن روانگی کے مناظر کو محفوظ کیا تو ان کے جذبات بھی ان کے موبائل کیمرے میں محفوظ ہو گئے۔
  • عابد نور کے مطابق، انہوں نے ایسے مناظر محفوظ کیے جن میں گھروں اور گلیوں کے سینکڑوں مناظر شامل تھے، جو ان کے لیے ایک بہت بڑا ذمہ داری بن گئے۔

What This Means For You

افغان پناہ گزینوں کے کیمپوں میں خدمات کے لیے اقوام متحدہ کی جانب سے تعلیمی اداروں، ہسپتالوں اور دیگر سہولیات کے لیے ملازمین بھی تعینات کیے گئے تھے۔ اس طرح، ان کیمپوں نے افغان پناہ گزینوں کی زندگیوں میں کافی تبدیلی لا کر رکھی۔

افغان پناہ گزینوں کے کیمپوں میں خدمات کے لیے اقوام متحدہ کی جانب سے تعلیمی اداروں، ہسپتالوں اور دیگر سہولیات کے لیے ملازمین بھی تعینات کیے گئے تھے۔ اس طرح، ان کیمپوں نے افغان پناہ گزینوں کی زندگیوں میں کافی تبدیلی لا کر رکھی۔

یہ مناظر پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کے کیمپوں کی زندگیوں میں کافی تبدیلی لانے کے لیے بہت اہم ہیں۔

افغان پناہ گزینوں کے کیمپوں میں خدمات کے لیے اقوام متحدہ کی جانب سے تعلیمی اداروں، ہسپتالوں اور دیگر سہولیات کے لیے ملازمین بھی تعینات کیے گئے تھے۔ اس طرح، ان کیمپوں نے افغان پناہ گزینوں کی زندگیوں میں کافی تبدیلی لا کر رکھی۔

یہ مناظر پاکستان میں افغان پنا

Read Entire Article
Chatroom