ایران کی وزارت خارجہ نے دکھایا ہے کہ خطے میں امریکہ کی اہمیت کم ہو رہی ہے۔ اس کا بہترین ثبوت پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدے کے طور پر نظر آتا ہے۔
Background & Context
یہ معاہدہ ملک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے ہے اور اس کا مقصد کسی ایک ملک پر حملہ کرتے ہوئے دوسرے ملک پر حملہ کرنے کے لیے ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ اس معاہدے کے ساتھ خطے کے ممالک نے یہ سمجھ لیا ہے کہ سکیورٹی کوئی ایسی چیز نہیں جو جھوٹے بروکرز سے خریدی جا سکے۔
Key Details
اس معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر حملہ تمام پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘ ایک تاریخی پیش رفت ہے جو خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کے لیے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی ملک کے خلاف نہیں۔ ’اس کا مقصد بیرونی جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاع کو مضبوط بنانا اور رکن ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔‘
What Experts Say
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران کو اس بات پر تشویش نہیں کہ یہ معاہدہ تہران کے خلاف ہو سکتا ہے کیوں کہ ان کے سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے ساتھ گہرے مذہبی، تاریخی اور تہذیبی تعلقات ہیں۔
Key Takeaways
- خطے کے ممالک نے امریکہ کی اہمیت کو کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
- پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان دفاعی معاہدے کے ذریعے یہ معاہدہ کے ساتھ خطے کے ممالک نے یہ سمجھ لیا ہے کہ سکیورٹی کوئی ایسی چیز نہیں جو جھوٹے بروکرز سے خریدی جا سکے۔
- اس معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر حملہ تمام پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
- وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی ملک کے خلاف نہیں۔
What This Means For You
اس معاہدے کا مطلب ہے کہ خطے کے ممالک اب ماضی کی طرح امریکہ کی فراہم کردہ سکیورٹی کے دعووں پر انحصار نہیں کر سکتے۔
یہ معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے ہے اور اس کا مقصد کسی ایک ملک پر حملہ کرتے ہوئے دوسرے ملک پر حملہ کرنے کے لیے ہے۔
خطے کے ممالک اب امریکہ کی اہمیت کو کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے لیے اس معاہدے کا استعمال کریں گے۔
اس معاہدے کا مطلب ہے کہ خطے کے ممالک نے یہ سمجھ لیا ہے کہ سکیورٹی کوئی ایسی چیز نہیں جو جھوٹے بروکرز سے خریدی جا سکے۔
یہ معاہدہ خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کے لیے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی ملک کے خلاف نہیں۔
یہ معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘ ایک تاریخی پیش رفت ہے جو خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کے لیے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ معاہدے کے ذریعے خطے کے ممالک نے یہ سمجھ لیا ہے کہ سکیورٹی کوئی ایسی چیز نہیں جو جھوٹے بروکرز سے خریدی جا سکے۔
.png)
4 hours ago
2




English (US) ·